Wednesday, 8 February 2017

سندھ کی سیاست سے اب آصف زرداری کے فارغ ھونے کا وقت آرھا ھے۔

سندھ کا علاقہ شہری سندھ اور دیہی سندھ پر مشتمل ھے۔ شہری سندھ پر یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور دیہی سندھ پر بلوچ نزاد سندھیوں کی مکمل سیاسی بالادستی تھی۔ لیکن سندھ کی بد امنی ' بدمعاشی ' بھتہ خوری ' دھشتگردی اور ملک دشمن سازشوں کے کھلاڑی ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر پرویز مشرف ' الطاف حسین اور عشرت العباد کے سندھ کی سیاست سے فارغ ھونے کے بعد اب بلوچ نزاد سندھی آصف زرداری کے فارغ ھونے کا وقت آرھا ھے۔ سندھ کے شہری علاقوں میں فاروق ستار گجراتیوں ' مصطفیٰ کمال بہاریوں ' انیس قائم خانی راجستھانیوں ' عامر خان دکنیوں کے لیڈر بنتے جا رھے ھیں۔ جبکہ سندھ کے دیہی علاقوں میں سے کسی سماٹ سندھی کے سندھ کا لیڈر بننے کا ماحول بنتا جارھا ھے۔

الطاف حسین اور عشرت العباد کے سندھ کی سیاست سے فارغ ھونے کے بعد سندھ کے شہری علاقوں میں یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اب بے اثر اور منتشر ھوتے جارھے ھیں۔ بلوچ نزاد سندھی آصف زرداری کے سندھ کی سیاست سے فارغ ھونے کے بعد سندھ کے دیہی علاقوں میں بلوچ نزاد سندھی بھی قیادت کے بحران میں مبتلا ھوکر بے اثر اور منتشر ھو جائیں گے۔ سماٹ سندھی اب سندھ کی سیاست میں اپنا مقام بنانے اور سندھ کا اقتدار سمبھالنے کی کوشش کرسکتے ھیں۔ بلکہ سندھ کے پنجابی اور پٹھان کا اعتماد اور تعاون حاصل کرکے سندھ کا اقتدار سمبھال بھی سکتے ھیں۔ کیونکہ سندھ کے پنجابی اور پٹھان کا اعتماد اور تعاون حاصل ھونے کی صورت میں سماٹ کو گجراتیوں ' راجستھانیوں اور بہاریوں کا بھی تعاون حاصل ھوسکتا ھے۔

سندھ کے شہری علاقوں میں یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور سندھ کے دیہی علاقوں میں بلوچ نزاد سندھیوں کے بے اثر اور منتشر ھوتے کی وجہ سے سندھ کے پنجابی اور پٹھان کا سندھ کی سیاست میں کردار نہ صرف اھمیت اختیار کر جائے گا بلکہ فیصلہ کن حیثیت اختیار کر جائے گا۔ سندھ کے شہری علاقوں میں یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے ساتھ گجراتیوں ' راجستھانیوں اور بہاریوں کی محاذآرائی کی وجہ سے گجراتیوں ' راجستھانیوں اور بہاریوں نے بھی سندھ کے شہری علاقوں کے پنجابی اور پٹھان کا اعتماد اور تعاون حاصل کرنے کی جستجو کرنی ھے۔

سندھ میں رھنے والے %42 سماٹ سندھی ھیں ' جو کہ سندھ کے اصل باشندے ھیں۔
%19 مھاجر ھیں ' جو یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی ' بہاری ' گجراتی ' راجستھانی اور دکنی ھیں۔
%16 کردستانی نزاد سندھی ھیں ' جو خود کو بلوچ کہلواتے ھیں۔
%10 پنجابی ' %7 پٹھان ' %4 دیگر ھیں۔
%2 عربی نزاد سندھی ھیں ' جو خود کو عباسی ' انصاری ' گیلانی ' جیلانی ' قریشی ' صدیقی وغیرہ کہلواتے ھیں۔

سندھ میں ' سندھ کی مجموعی آبادی کے مطابق تو سندھی پہلے ' مہاجر دوسرے ' پنجابی تیسرے اور پٹھان چوتھے نمبر پر ھیں لیکن کراچی میں مہاجر پہلے ' پنجابی دوسرے ' پٹھان تیسرے اور سندھی چوتھے نمبر پر ھیں جبکہ اندرون سندھ ' سندھی پہلے ' پنجابی دوسرے ' مہاجر تیسرے اور پٹھان چوتھے نمبر پر ھیں۔

سندھ کی دس بڑی برادریوں کا جائزہ لیا جائے تو سندھ 1۔ سماٹ 2۔ پنجابی 3۔ پٹھان 4۔ بروھی 5۔ گجراتی 6۔ راجستھانی 7۔ بہاری 8۔ بلوچ نزاد سندھی 9۔ عربی نزاد سندھی 10۔ یوپی ' سی پی والوں کی برادریوں کا صوبہ ھے۔

سندھ کی سماٹ اور پنجابی برادریوں کی سیاسی ھم آھنگی کی صورت میں سندھ کی 1۔ سماٹ 2۔ پنجابی 3۔ پٹھان 4۔ بروھی 5۔ گجراتی 6۔ راجستھانی برادریوں کے سیاسی طور پر ھم آھنگ ھونے کے امکانات بڑہ جانے ھیں۔ جس سے سندھ کی سیاست میں بے اثر اور منتشر ھوجانے والی یوپی ' سی پی والوں اور بلوچ نزاد سندھیوں کی برادریوں نے سندھ کی سیاست میں مزید بے اثر اور منتشر ھوجانا ھے جبکہ عربی نزاد سندھی اور بہاری برادیوں کی بھی سندھ کی سیاست میں اھمیت اور اثر و رسوخ کم ھوجانا ھے۔

سندھ کی سماٹ اور پنجابی برادریوں کی سیاسی ھم آھنگی نہ ھونے کی صورت میں شہری سندھ میں 1۔ پنجابی 2۔ پٹھان 3۔ گجراتی 4۔ راجستھانی برادریوں کے سیاسی طور پر ھم آھنگ ھونے کے امکانات بڑہ جانے ھیں۔ جبکہ با امر مجبوری بہاری اور یوپی ' سی پی والوں کی برادریوں نے بھی پنجابی ' پٹھان ' گجراتی ' راجستھانی برادریوں کے ساتھ سیاسی مفاھمت کی راہ تلاش کرنی ھے۔ کیونکہ دیہی سندھ میں سماٹ نے تو پہلے کی طرح بے اثر ھی رھنا ھے۔ بروھی نے بھی بے اثر رھنا ھے۔ جبکہ بلوچ نزاد سندھی اور عربی نزاد سندھی نے بھی قیادت کے بحران میں مبتلا ھوکر بے اثر اور منتشر ھو جانا ھے۔ اس لیے شہری سندھ میں 1۔ پنجابی 2۔ پٹھان 3۔ گجراتی 4۔ راجستھانی برادریوں کے سیاسی طور پر ھم آھنگ ھونے کی صورت میں پنجابیوں کے روابط کی وجہ سے پنجاب اور مرکز کے ساتھ شہری سندھ کے سیاسی ' سماجی اور تجارتی روابط مظبوط ھوجانے ھیں اور سندھ کی سیاست میں دیہی سندھ کے بجائے شہری سندھ کی اھمیت مزید بڑہ جانی ھے۔ جبکہ دیہی سندھ سے چند نشستوں پر اپنے اتحادیوں کو منتخب کروا لینے کی صورت میں سندھ کا وزیر اعلی بھی دیہی سندھ کے بجائے شہری سندھ سے بننے کے امکانات بڑہ جانے ھیں۔ جس سے شہری و دیہی سندھ کی خلیج نے مزید بڑہ جانا ھے۔

پاکستان کے قیام کے بعد بھارت کے مختلف علاقوں سے آکر پاکستان میں آباد ھوجانے والوں کی پاکستان میں آبادی 8٪ ھے۔ جس میں سے یوپی ' سی پی کی گنگا جمنا تہذیب اور اردو زبان بولنے والے ھندوستانیوں کے علاوہ بھارت کے دیگر علاقوں سے پاکستان آنے والے بھی ھیں ' جنکی اپنی اپنی زبان اور تہذیب ھے۔ ان میں سے بڑی برادریاں گجراتی ' راجستھانی ' بہاری ' دکنی ھیں۔ لیکن یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی عرصہ دراز سے گجراتیوں ' راجستھانیوں ' بہاریوں ' دکنیوں کو مہاجر قرار دے کر بیواقوف بناتے آرھے ھیں۔

پاکستان کے قیام کے بعد سے لیکر ایم کیو ایم کے قیام سے پہلے تک یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے خود کو ھندوستانی کہلواتے تھے۔ جبکہ گجراتیوں ' راجستھانیوں ' بہاریوں ' دکنیوں کو اپنے ساتھ ملا کر مہاجر بن جاتے تھے۔ لیکن سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں سے ملتے تو خود کو نان سندھی کہلواتے تھے۔

ایم کیو ایم کے قیام سے پہلے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے گجراتیوں ' راجستھانیوں ' بہاریوں ' دکنیوں کو اپنے ساتھ ملا کر مہاجر بن جانے کے بعد سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں کو اپنے ساتھ ملاکر مہاجر ' پنجابی ' پٹھان اتحاد بنایا ھوا تھا۔

مہاجر ' پنجابی ' پٹھان اتحاد کے پلیٹ فارم سے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے نہ صرف گجراتیوں ' راجستھانیوں ' بہاریوں ' دکنیوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ بلکہ سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں کو بھی اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رھے اور سندھیوں سے سندھ کی سیاست ' حکومت اور سرکاری نوکریوں میں نان سندھی کے نام پر گجراتیوں ' راجستھانیوں ' بہاریوں ' دکنیوں اور سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں کا حصہ لینے کے بعد یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو سندھ کی سیاست ' حکومت اور سرکاری نوکریوں میں مستحکم کرتے رھے۔ اردو زبان کی بالا دستی قائم رکھتے رھے۔ جبکہ گجراتیوں ' راجستھانیوں ' بہاریوں ' دکنیوں کے علاوہ سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں کو نان سندھی قرار دیکر سندھوں کے ساتھ محازآرائی پر اکساتے رھے۔

ایم کیو ایم کے قیام کے بعد سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں کو تو یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے چنگل اور نان سندھی کی شناخت سے نجات مل گئی لیکن گجراتی ' راجستھانی ' بہاری ' دکنی ابھی تک مہاجر کی شناخت کے نام پر یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے چنگل میں پھنسے ھوئے تھے اور یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کا سندھ کی سیاست ' حکومت اور سرکاری نوکریوں میں استحکام قائم رکھنے ' اردو زبان کی بالا دستی قائم رکھنے اور کراچی کو پاکستان سے الگ کرنے یا کم سے کم کراچی کو الگ صوبہ بنانے کے لیے استعمال ھو رھے تھے۔

کراچی کی آبادی 20٪ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں ' 10٪ گجراتی بولنے والوں ' 10٪ راجستھانی بولنے والوں ' 3٪ بہاری بولنے والوں ' 2 ٪ دکنی بولنے والوں ' 15٪ پنجابی بولنے والوں ' 15٪ پشتو بولنے والوں ' 10٪ سندھی بولنے والوں ' 5٪ بلوچی بولنے والوں ' اور 10٪ دیگر زبانیں بولنے والوں پر مشتمل ھے۔ گو کہ پنجابیوں ' پٹھانوں ' سندھیوں ' بلوچوں اور دیگر کی کراچی میں آبادی 55٪ ھے۔ گجراتیوں ' راجستھانیوں ' بہاریوں ' دکنیوں کی آبادی 25٪ ھے۔

پنجابیوں ' پٹھانوں ' سندھیوں ' بلوچوں ' گجراتیوں ' راجستھانیوں ' بہاریوں ' دکنیوں اور دیگر کی کراچی میں آبادی 80٪ ھے ' جن کی مادری زبان اردو نہیں ھے۔ لیکن 20٪ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے کراچی کے 25٪ گجراتیوں ' راجستھانیوں ' بہاریوں ' دکنیوں کو مہاجر قرار دے کر اور ایم کیو ایم بنا کر کراچی کی 45٪ آبادی پر اپنا کنٹرول قائم کرکے اور کراچی کی آبادی کے 55٪ پنجابیوں ' پٹھانوں ' سندھیوں ' بلوچوں اور دیگر کے متحد نہ ھونے کا فائدہ اٹھا کر کراچی پر اپنا کنٹرول قائم کیا ھوا تھا۔

ایم کیو ایم اصل میں یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی مافیا ھے ' جو گجراتیوں ' راجستھانیوں ' بہاریوں ' دکنیوں کو مہاجر قرار دے کر بیواقوف بناتی چلی آرھی تھی۔ لیکن بہاری مصطفیٰ کمال اور گجراتی انیس قائم خانی کے ایم کیو ایم سے الگ ھوکر پاکستان سرزمین پارٹی بنالینے کی وجہ سے کراچی کی آبادی کے 10٪ راجستھانی بولنے والوں ' 3٪ بہاری بولنے والوں کو یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے چنگل سے نجات کا موقع فراھم ھونا شروع ھو گیا اور یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کا کنٹرول کراچی کی 45٪ آبادی کے بجائے صرف کراچی کی 32٪ آبادی پر رہ گیا۔

اب گجراتی فاروق ستار اور دکنی عامر خان کے ایم کیو ایم سے الگ ھوکر ایم کیو ایم پاکستان کے نام سے پارٹی بنالینے کی وجہ سے کراچی کی آبادی کے 10٪ گجراتی بولنے والوں ' 2٪ دکنی بولنے والوں کو بھی یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے چنگل سے نجات کا موقع فراھم ھونا شروع ھو گیا ھے اور یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کا کنٹرول کراچی کی 32٪ آبادی پر سے بھی کم ھوکر صرف کراچی کی 20٪ آبادی پر رہ گیا ' جو کہ ان یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی اپنی ھی آبادی ھے۔

اس لیے پاکستان کے قیام کے بعد بھارت کے مختلف علاقوں سے آکر کراچی میں آباد ھوجانے والے کراچی کے 20٪ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں ' 10٪ گجراتی بولنے والوں ' 10٪ راجستھانی بولنے والوں ' 3٪ بہاری بولنے والوں ' 2 ٪ دکنی بولنے والوں کی تین پارٹیاں بن چکی ھیں۔

کراچی کی آبادی کے 10٪ گجراتی بولنے والوں ' 2٪ دکنی بولنے والوں کی پارٹی فی الحال ایم کیو ایم پاکستان ھے ' جسکی قیادت گجراتی فاروق ستار اور دکنی عامر خان کے پاس ھے۔

کراچی کی آبادی کے 10٪ راجستھانی بولنے والوں ' 3٪ بہاری بولنے والوں کی پارٹی فی الحال پاکستان سرزمین پارٹی ھے ' جسکی قیادت بہاری مصطفیٰ کمال اور گجراتی انیس قائم خانی کے پاس ھے۔

کراچی کی آبادی کے 20٪ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی پارٹی ایم کیو ایم لندن ھوگی ' جسکی قیادت یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی الطاف حسین کے پاس ھی رھنی ھے۔

یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو صدیوں سے قیادت کرنے کی عادت پڑی ھوئی ھے۔ اس لیے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے تو گجراتی فاروق ستار اور دکنی عامر خان یا بہاری مصطفیٰ کمال اور گجراتی انیس قائم خانی کی قیادت قبول نہیں کرنی۔ لیکن امکانات یہ نظر آرھے ھیں کہ گجراتیوں ' راجستھانیوں ' بہاریوں ' دکنیوں نے بھی اب یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی قیادت قبول نہیں کرنی۔ اس لیے پاکستان کے قیام کے بعد بھارت کے مختلف علاقوں سے آکر کراچی میں آباد ھوجانے والوں کی اب تین پارٹیاں ھر صورت میں برقرار رھنی ھیں۔ ایک یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی پارٹی ھوگی۔ دوسری گجراتیوں کی پارٹی ھوگی۔ تیسری بہاریوں کی پارٹی ھوگی۔

طویل عرصے تک یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی ' گجراتی ' راجستھانی ' بہاری ' دکنی چونکہ اپنے اپنے تشخص کے بجائے مہاجر تشخص کی بنیاد پر ایم کیو ایم میں رھے ھیں۔ اس لیے گجراتی فاروق ستار اور دکنی عامر خان کی پارٹی ' بہاری مصطفیٰ کمال اور گجراتی انیس قائم خانی کی پارٹی ' یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی الطاف حسین کی پارٹی کے وجود میں آنے کے باوجود فی الحال تینوں پارٹیوں میں یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی ' گجراتی ' راجستھانی ' بہاری ' دکنی رھنماؤں اور کارکنوں کی ملی جلی شراکت ھے۔

گجراتی اور راجستھانی چونکہ صنعت اور تجارت کے شعبوں سے وابسطہ ھیں۔ پاکستان مخالف سرگرمیوں سے اجتناب کرتے ھیں۔ اس لیے مستقبل میں گجراتی رھنماؤں اور کارکنوں نے گجراتی فاروق ستار کی پارٹی کو ترجیح دینی ھے اور راجستھانی رھنماؤں اور کارکنوں نے راجستھانی انیس قائم خانی کی پارٹی کو ترجیح دینی ھے۔ جبکہ گجراتیوں اور راجستھانیوں کی پارٹیوں کے ایک پارٹی بن جانے کے بھی امکانات ھیں۔

یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کا سیاست’ صحافت’ پرائویٹ کمپنیوں کے دفاتر’ سرکاری عہدوں اور تعلیمی مراکز پر کنٹرول ھے۔ بین الاقوامی روابط ھونے کی وجہ سے پاکستان کے دشمنوں سے ساز باز کرکے پاکستان کے اندر سازشیں کرنا اور بین الاقوامی امور میں دلالی کرنا یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی عادت ھے۔ اپنے مطالبے منوانے کے لئے ھڑتالوں ' جلاؤ گھیراؤ اور جلسے جلوسوں میں ھر وقت مصروف رھتے ھیں- اس لیے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی رھنماؤں اور کارکنوں نے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی الطاف حسین کی پارٹی کو ھی ترجیح دینی ھے۔

الطاف حسین کی ایم کیو ایم دراصل یوپی ، سی پی کے اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر پاور پلیرز کا انڈر کور آف پولیٹیکل پارٹی ایک "را" اسپونسرڈ ٹیررسٹ ونگ ھے۔

فارن افیئرز ، ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سول بیوروکریسی سے ریٹائرڈ یوپی ، سی پی کے اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر پاور پلیرز ایم کیو ایم کی پالیسی بناتے ھیں۔

فارن افیئرز ، ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سول بیوروکریسی میں موجود اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر پاور پلیرز ایم کیو ایم کی سرپرستی کرتے ھیں۔

اینٹی پاکستان پراکسی پلیر اور انڈیا کے لیے پراکسی ایجنٹ کا رول پلے کرنے والے اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر پاور پلیرز ایم کیو ایم کو سہولتیں فراھم کرتے ھیں۔

پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کے اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر پاور پلیرز ایم کیو ایم کو ایڈورٹائز کرتے ھیں۔

ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنس اور اسکلڈ پروفیشنس کے اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر پاور پلیرز ایم کیو ایم کا پروپگنڈہ کرتے ھیں۔

جرائم پیشہ اور غیر قانونی کاروبار کرنے والے اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر پاور پلیرز ایم کیو ایم کو سپورٹ کرتے ھیں۔

سیاسی اور سماجی طور پر سرگرم اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر پاور پلیرز ایم کیو ایم کو آرگنائز کرتے ھیں۔

جبکہ ایم کیو ایم کے لوکل نیٹ ورک کے ایم سی ، ایچ ایم سی ، کے ڈی اے ، ایچ ڈی اے ، کے ڈبلیو ایس بی ، کے بی سی اے ، کے ایس سی ، ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ، ھیلتھ ڈیپارٹمنٹ ، پورٹ اینڈ شپنگ اَتھارِٹی ، اسٹیل مل ، کراچی ایئرپورٹ ، بنکس ، انشورنس کمپنیز ، ملٹی نیشنل کمپنیز ، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا میں ملازمت کرنے والے اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجروں پر مشتمل ھیں۔


بھارت چونکہ پاکستان کے ساتھ سرحدی جنگ کرنے سے ڈرتا ھے۔ لہذا بھارت نے پاکستان کے اندر اپنی پہلے سے جاری پراکسی جنگ کو بڑھا دینا ھے۔ اس لیے پاکستان کے اندر جاری پراکسی جنگ کے کھلاڑیوں کا خاتمہ اب یقینی ھوتا جا رھا ھے۔ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا کام پاکستان کے بننے سے لیکر ھی امریکہ ' برطانیا اور ھندوستان کی دلالی کرنا رھا ھے اور اب بھی کر رھے ھیں۔ اس لیے آثار بتا رھے ھیں کہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اب اپنے زوال کے آخری مراحل میں ھیں۔ البتہ مھاجروں کا بے تاج بادشاہ بننے کا خواھشمند پرویز مشرف 1۔ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر عشرت العباد کے ٹولے 2۔ گجراتی فاروق ستار کے ٹولے 3۔ بہاری مصطفیٰ کمال کے ٹولے 4۔ راجستھانی انیس قائم خانی کے ٹولے 5۔ دکنی عامر خان کے ٹولے کو اکٹھا کرنے کے جتن کرے گا۔ جسے "مینڈکوں کی پنج سیری تولنا" یا "پانی میں مدھانی چلانا" ھی کہا جاسکتا ھے۔