Friday, 17 February 2017

سیاست کے علاوہ ھر شعبے میں پنجابی قوم مستحکم ھو چکی ھے۔

کوئی بھی قوم سیاست ' صحافت ' ملٹری بیوروکریسی ' سول بیوروکریسی ' صنعت کے شعبوں ' تجارت کے شعبوں ' ھنرمندی کے شعبوں اور ملک کے بڑے بڑے شھروں پر اپنا تسلط قائم کیے بغیر مستحکم نہیں ھو سکتی۔

پاکستان کے 1947 میں وجود میں آنے کے بعد پاکستان کی سیاست ' صحافت ' ملٹری بیوروکریسی ' سول بیوروکریسی ' صنعت کے شعبے ' تجارت کے شعبے ' ھنرمندی کے شعبے اور پاکستان کے بڑے بڑے شھر ھندوستان سے آنے والے یوپی ' سی پی کے گنگا جمنا تہذیب و ثقافت کے اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجروں کے تسلط میں آگئے۔

پنجابیوں ' سندھیوں ' پٹھانوں اور بلوچوں کے پاکستان کے دیہی علاقوں میں آباد ھونے کی وجہ سے ' دیہی علاقوں میں دستیاب ان شعبوں کی نچلے درجے کی ملازمتوں میں تھوڑا بہت حصہ ملا ورنہ پنجابیوں ' سندھیوں ' پٹھانوں اور بلوچوں کی اکثریت ذراعت یا ذراعت سے وابستہ شعبوں سے منسلک رھی۔

1947 لیکر 1957 تک پنجابی قوم نے ذراعت کے میدان پر بھرپورتوجہ دی اور ذراعت کے میدان میں مھارت اور استحکام حاصل کرلیا۔

1957 سے لیکر 1967 کے عرصے میں پنجابی قوم نے ھنرمندی کے شعبوں پر بھرپورتوجہ دی اور ھنرمندی کے شعبوں میں مھارت اور استحکام حاصل کرلیا۔

1967 سے لیکر 1977 کے عرصے میں پنجابی قوم نے تجارت کے شعبوں پر بھرپورتوجہ دی اور تجارت کے شعبوں میں مھارت اور استحکام حاصل کرلیا۔

1977 سے لیکر 1987 کے عرصے میں پنجابی قوم نے صنعت کے شعبوں پر بھرپورتوجہ دی اور صنعت کے شعبوں میں مھارت اور استحکام حاصل کرلیا۔

1987 سے لیکر 1997 کے عرصے میں پنجابی قوم نے سول بیوروکریسی کے شعبوں پر بھرپورتوجہ دی اور سول بیوروکریسی کے شعبوں میں مھارت اور استحکام حاصل کرلیا۔

1997 سے لیکر 2007 کے عرصے میں پنجابی قوم نے ملٹری بیوروکریسی کے شعبوں پر بھرپورتوجہ دی اور ملٹری بیوروکریسی کے شعبوں میں مھارت اور استحکام حاصل کرلیا۔

2007 سے لیکر پنجابی قوم صحافت کے شعبوں پر بھرپورتوجہ دے رھی ھے اور2017 تک پنجابی قوم صحافت کے شعبوں میں بھی مھارت اور استحکام حاصل کرلے گی۔

پنجابی قوم ذراعت کے شعبوں ' ھنرمندی کے شعبوں ' تجارت کے شعبوں ' صنعت کے شعبوں ' سول بیوروکریسی اور ملٹری بیوروکریسی کے میدان میں استحکام حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بڑے بڑے شھروں میں بھی ھندوستان سے آنے والے یوپی ' سی پی کے گنگا جمنا تہذیب و ثقافت کے اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجروں کے تسلط کے مقابلے میں اپنے آپ کو مستحکم کر چکی ھے۔ اب صحافت کے شعبے پر سے اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجروں کا تسلط ختم کرکے اپنے آپ کو صحافت کے شعبے میں بھی مستحکم کر رہی ہے۔

سیاست کے میدان میں اگرچہ پنجابی مقدار کے لحاظ سے بڑی تعداد میں موجود ھیں لیکن پنجابیوں کی سیاست سماجی کاموں ' ذاتی اثر و رسوخ اور مالی وسائل کی بنیاد پر ھے ' نہ کہ سیاست سے وابسطہ شعبوں میں مہارت اور استحکام کی بنیاد پر۔ اس لیے سیاست سے وابسطہ شعبوں کو بھی ھندوستان سے آنے والے یوپی ' سی پی کے گنگا جمنا تہذیب و ثقافت کے اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجروں کے تسلط سے نجات دلانے کے لیے پنجابی قوم کو بھرپورتوجہ دینی ھوگی۔ تاکہ 2017 سے لیکر 2027 کے عرصے کے دوران سیاست کے تمام شعبوں میں پنجابی قوم مہارت اور استحکام حاصل کرسکے۔

سندھی ' پٹھان اور بلوچ قومیں پاکستان کی سیاست ' صحافت ' ملٹری بیوروکریسی ' سول بیوروکریسی ' صنعت کے شعبوں ' تجارت کے شعبوں اور ھنرمندی کے شعبوں میں ابھی تک عدمِ استحکام کا شکار ھیں اور دیہی علاقوں میں دستیاب چند شعبوں کی نچلے درجے کی ملازمتوں اور ذراعت یا ذراعت سے وابستہ شعبوں تک محدود ھیں۔

پنجابی قوم کا فرض ھے کہ پاکستان کی سیاست ' صحافت ' ملٹری بیوروکریسی ' سول بیوروکریسی ' صنعت کے شعبوں ' تجارت کے شعبوں ' ھنرمندی کے شعبوں اور پاکستان کے بڑے بڑے شھروں پر ھندوستان سے آنے والے یوپی ' سی پی کے گنگا جمنا تہذیب و ثقافت کے اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجروں کے تسلط کے مقابلے میں اپنے آپ کو مستحکم کرنے کے بعد اب سندھی ' پٹھان اور بلوچ قوموں کے استحکام میں بھی سندھی ' پٹھان اور بلوچ قوموں کے ساتھ تعاون کرے تاکہ پاکستان کی اصل قومیں پنجابی ' سندھی ' پٹھان اور بلوچ ' پاکستان کی سیاست ' صحافت ' ملٹری بیوروکریسی ' سول بیوروکریسی ' صنعت کے شعبوں ' تجارت کے شعبوں اور ھنرمندی کے شعبوں میں مستحکم ھوکر پاکستان کو حقیقی معنوں میں مستحکم کرسکیں۔