Friday, 24 February 2017

امریکی ' چینی ' روسی کھیل اور پنجابی قوم کا فیصلہ کن کردار۔

1999 سے لیکر 2008 تک پاکستان پر حکومت مھاجر پرویز مشرف کی رھی۔

مھاجر پرویز مشرف نے سندھیوں کا تعاون حاصل کرکے اور کچھ غدار پنجابیوں کو اپنے ساتھ ملا کر پنجاب اور پنجابی کو خوب رگڑا لگایا۔

پنجاب اور پنجابی کو ھر برائی کا ذمہ دار قرار دینے کے پروپگنڈے کی سرکاری سرپرستی کی.

پنجاب اور پنجابی کو سیاسی ' سماجی ' معاشی اور اقتصادی طور پر تباہ و برباد کرنے کے ھر ممکن طریقے کی سرکاری سرپرستی کی۔

پنجابی قوم کو برادریوں میں بانٹنے کے ھر ھر طریقے کی سرکاری سرپرستی کی۔

2008 سے لیکر 2013 تک پاکستان پر حکومت سندھی ذرداری کی رھی۔

سندھی ذرداری نے مھاجروں کا تعاون حاصل کرکے اور کچھ غدار پنجابیوں کو اپنے ساتھ ملا کر پنجاب اور پنجابی کو خوب رگڑا لگایا۔

پنجاب اور پنجابی کو ھر برائی کا ذمہ دار قرار دینے کے پروپگنڈے کی بھرپور سرکاری سرپرستی کی ۔

پنجاب اور پنجابی کو سیاسی ' سماجی ' معاشی اور اقتصادی طور پر تباہ و برباد کرنے کے ھر ممکن طریقے کی بھرپور سرکاری سرپرستی کی۔

پنجابی قوم اور پنجاب کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لیے پنجاب میں مزید صوبے بنانے کی بھرپور سرکاری سرپرستی کی۔

دو بندے ایک پہلوان کو بھنگ پلا کر اور اسے زمین پر گرا کر اس کے سینے پر بیٹھے کبھی ھنس رھے تھے اور کبھی رو رھے تھے۔ ایک شخص کا گذر ھوا اور اس نے ان سے پوچھا کہ تم لوگ ھنس کیوں رھے ھو؟

وھ بولے کہ تم دیکھتے نہیں کہ ھم نے ایک بہت بڑے پہلوان کو گرایا ھوا ھے۔ ھم اسکے سینے پر بیٹھ کر اس کو گالیاں بھی دے رھے ھیں اور جوتے بھی مار رھے ھیں لیکن اس میں ھمت نہیں کہ ھمیں ھاتھ بھی لگا سکے۔

اس شخص نے کہا تو پھر روتے کیوں ھو؟

وھ بولے کہ ھم نے اس پہلوان کو بھنگ پلا کر گرایا ھوا ھے۔ یہ چونکہ نشے میں ھے اس لیے ھم اسکے سینے پر بیٹھ کر اس کو گالیاں بھی دے رھے ھیں اور جوتے بھی مار رھے ھیں۔ نشے میں ھونے کی وجہ سے اس میں ھمت نہیں کہ یہ ھمیں ھاتھ بھی لگا سکے لیکن رو اس لیے رھے ھیں کہ جب اس کا نشہ اتر گیا تو یہ ھمارے ساتھ سلوک کیا کرے گا؟

پنجابی کی حالت بھی کچھ اس پہلوان جیسی ھی ھے۔ اس پنجابی پہلوان کو پہلے اس سندھی اور مھاجر نے پاکستان کی بھنگ کا نشہ کروایا اور اس کے بعد اسکے سینے پر بیٹھ کر اس کو گالیاں بھی دے رھے ھیں اور جوتے بھی مار رھے ھیں۔ نشے میں ھونے کی وجہ سے اس میں ھمت نہیں کہ یہ ان کو ھاتھ بھی لگا سکے۔

اب سوال پیدا ھوتا ھے کہ پنجابی کو جو پاکستان کی بھنگ کا نشہ کروایا گیا ھے ' کیا اس نشے کے کبھی اترنے کے امکانات ھیں؟

اگر پنجابی کا پاکستان کی بھنگ کا نشہ اتر گیا اور پنجابی پہلے پنجابی اور پاکستانی بعد میں ھونے کی سوچ پر چل پڑا تو یہ سندھی اور مھاجر کے ساتھ سلوک کیا کرے گا؟

موجودہ حالات میں چونکہ امریکہ ھندوستان کے تعاون سے روس کے ساتھ ساتھ چین کو بھی گرم پانی تک پونہنچنے سے روکنا چاھتا ھے ' جسکے لیے پنجاب تعاون کرنے پر تیار نہیں ' اس لیے کمزور پنجاب اور ھندوستان کے افغانستان اور سینٹرل ایشن ممالک تک پنہچنے کا درینہ منصوبہ ' امریکہ کے مفاد میں ھے ' اس لیے ھندوستانی عزائم کو امریکن آشیرباد بھی حاصل ھے ' جسکی وجہ سے نہ صرف ھندوستان بلکہ امریکہ بھی پنجاب مخالف ھر عمل میں بڑہ چڑہ کر حصہ لے رھا ھے ' جس سے پنجاب کو سرائیکی سازش یا جنوبی پنجاب کے نام پر تقسیم کروا کر یا پنجاب میں مذھبی اور فرقہ وارانہ فساد کرواکر' پنجاب میں خانہ جنگی کی صورت پیدا کرکے پنجابی قوم کو سیاسی ' سماجی' معاشی اور انتظامی مشکلات میں مبتلا کرنے کے خواھشمند عناصر کو ' خاص طور پر سھولت اور تقویت مل رھی ھے ' لیکن چین اور روس کا مفاد اس کے برعکس ھے-

بحرحال یونائٹڈ نیشن کے افغانستان سے انخلا کے بعد اب ایک نیا کھیل شروع ھوچکا ھے جس میں پنجابی قوم کا کردار فیصلہ کن ھے- اس کردار کے لیے دیکھنا ھوگا کہ اب امریکہ کے پاس کیا آپشن ھیں؟

افغانستان میں آمد کے مقاصد امریکہ کچھ بھی بیان کرتا رھا ھو لیکن اب یونائٹڈ نیشن کے افغانستان سے انخلا کے بعد امریکہ کے پاس چار آپشن ھیں۔

1۔ یونائٹڈ نیشن کی طرح امریکہ بھی افغانستان کو چھوڑ چھاڑ کر واپس چلا جائے لیکن اس صورت میں روس پھر سے افغانستان میں اپنے قدم جمانے کے بعد گرم پانیوں تک پہنچنے کے اپنے درینہ منصوبے پر عمل درآمد شروع کردے گا۔

2۔ امریکہ یونائٹڈ نیشن کے جانے کے باوجود بھی افغانستان ھی میں رھے اور یونائٹڈ نیشن کے بغیر ھی افغانستان میں اپنی پروردہ حکومت بنا کر اپنا مشن جاری رکھے لیکن اس صورت میں امریکہ کے عزائم کھل کر دنیا کے سامنے آجائیں گے کہ امریکہ دھشتگردی کے نام پر دنیا کو بیواقوف بنا کر دراصل افغانستان میں اس لیے آیا کہ روس کو افغانستان کے اشتراک سے گرم پانیوں تک پہنچنے کے درینہ منصوبہ سے روک پائے اور چین کے گرم پانی تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر سکے- ایسی صورتحال کے پیدا ھوجانے پر نہ صرف روس' چین' ایران اور امریکہ مخالف ممالک امریکہ کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے بلکہ مخالفت بھی کریں گے جس کے باعث پاکستان میں اگر امریکہ کی پروردہ حکومت ھوئی بھی تو وہ بھی پاکستان کے عوام میں امریکہ مخالف جذبات اور احتجاج کو نہیں روک پائے گی جس سے افغانستان میں امریکہ کی سپلائی لائن متاثر ھوسکتی ھے ' جس سے افغانستان میں امریکہ کا قدم جما کر رھنا اور پاکستان میں اپنی پروردہ حکومت بنا کر روس کو افغانستان کے اشتراک سے گرم پانیوں تک پہنچنے سے روکنے کے ساتھ ساتھ چین کے گرم پانی تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر سکنے کا منصوبہ ناکام ھوسکتا ھے۔

3۔ امریکہ یونائٹڈ نیشن کے افغانستان سے انخلا اور خاص طور پر پاکستان کے ساتھ چین کے گوادر تک اکنامک کوریڈورز کے منصوبوں کے معاھدات کے ھوجانے کے بعد افغانستان میں اپنی پروردہ حکومت کے ساتھ ساتھ پنجاب کو سرائیکی سازش یا جنوبی پنجاب کے نام پر تقسیم کروا کر یا پنجاب میں مذھبی اور فرقہ وارانہ فساد کرواکر' پنجاب میں خانہ جنگی کی صورت پیدا کرکے پنجابی قوم کو سیاسی ' سماجی' معاشی اور انتظامی مشکلات میں مبتلا کرنے کے بعد سندھ کے اردو بولنے والے مہاجروں کے ذریعے کراچی کو پاکستان سے الگ کرکے فری پورٹ بنوائے اور بلوچوں کے ذریعے بلوچستان کو آزاد ملک بنا کر وھاں اپنے اڈے بنائے جہاں سے افغانستان میں اپنی پروردہ حکومت کو کمک پہنچا کر روس کا راستہ بھی روکے اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں بھی اپنے پروردہ عناصر کی سرپرستی کرکے چین کے راستہ میں روکاوٹیں کھڑی کرے تاکہ گوادر اور چین کے درمیان کا راستہ چین کی دسترس سے دور اور امریکہ کے کنٹرول میں رھے لیکن اس صورت میں امریکہ کی پاکستان کے ساتھ جنگ کا اندیشہ ھے جو روس' چین' ایران اور دیگر بےشمار ممالک کی پاکستان کے خطے میں دلچسپی کے سبب ایٹمی اور عالمی جنگ میں تبدیل ھوسکتی ھے جس سے امریکہ کو افغانستان اور پاکستان کے ساتھ ساتھ خلیج عرب میں موجود اپنے بحری بیڑوں اور عرب ممالک سے بھی دستبردار ھونا پڑے گا۔

4۔ امریکہ پنجاب کو تقسیم کروانے کی کوششیں کرنے یا پنجاب میں مذھبی اور فرقہ وارانہ فساد کرواکر اور مہاجر' سندھی و بلوچ کو پنجابی قوم کے خلاف محاذآرائی پر اکسا کر سیاسی ' سماجی' معاشی اور انتظامی مساِئل میں مبتلا کرنے کے بجائے بلوچستان کے بلوچ اور خیبر پختونخواہ کے پشتون علاقوں میں پنجابیوں کو امریکہ' روس اور چین کے گرم پانی کے کھیل سے دور رکھنے کے لیے کشمیر اور ھندوستانی پنجاب کو ھندوستان سے آزادی دلوا کر کشمیر' ھندوستانی پنجاب' پاکستانی پنجاب' سندھ اور کراچی پر مشتمل گریٹر پنجاب بننانے کی راہ پر ڈالنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے بلوچ اور خیبر پختونخواہ کے پشتون علاقوں سے دستبردار ھونے پر راضی کرے۔ اگر امریکہ کے بجائے روس اور چین نے گرم پانی تک پہنچنے کے لیے پنجابی قوم کی پشت پناھی شروع کردی اور کشمیر کے ساتھ ساتھ ھندوستانی پنجاب کو بھی ھندوستان سے آزادی دلوا کر پاکستانی پنجاب کے ساتھ ملا کر ایک بار پھر سے دھلی سے لیکر پشاور اور کشمیر سے لیکر کشمور تک کے اصل پنجاب کو ایک کر دیا تو نہ امریکہ کی پنجاب کو تقسیم کروانے کی کوششیں کام آئیں گی اور نہ مہاجر' سندھی و بلوچ کو پنجابی قوم کے خلاف محاذآرائی پر اکسا کر سیاسی ' سماجی' معاشی اور انتظامی مساِئل میں مبتلا کرنے کی سازشیں رنگ دکھائیں گی بلکہ ھندوستان کو آشیرباد دے دے کر پاکستان کو آنکھیں دکھانے کے کام پر لگانے کا خمیازہ بھی الٹا ھندوستان کو ھی بھگتنا پڑے گا جبکہ بلوچستان کے بلوچ اور خیبر پختونخواہ کے پشتون علاقے بھی پنجاب ھی کے ساتھ رھیں گے ' جس سے پاکستان چھوٹا اور کمزور ھونے کے بجائے مزید وسیع اور مظبوط ھوجائے گا- اس صورتحال میں امریکہ کسی حال میں بھی روس اور چین کو گرم پانی تک پہنچنے سے نہیں روک پائے گا۔