Monday, 13 February 2017

پاکستان کے استحکام کے لیے بھارتی ایجنٹوں کا صفایا انتہائی ضروری ھے۔

بھارت نے پاکستان کے قائم ھوتے ھی 1947 سے افغان نزاد خان غفار خان کے ذریعے پشتونستان کی تحریک شروع کروادی تھی۔ جو بعد میں خان غفار خان کے بیٹے خان عبدل ولی خان نے چلائی اور اب اسکے بیٹے اسفندیار ولی کی ذمہ داری ھے۔ جو کہ اکثر و بیشتر پختون کارڈ کا کھیل کھیلتا رھتا ھے۔ جبکہ بلوچستان میں واقع چار ریاستوں میں سے مکران ' خاران اور لسبیلہ کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے بعد چوتھی ریاست قلات کے الحاق کے موقع پر بھارت نے کچھ کردش نزاد بلوچ سرداروں اور چند بروھی سرداروں کو ویسے ھی اپنا ایجنٹ بناکر آزاد قلات ریاست کی تحریک چلوادی جیسے 1947 میں خان غفار خان کے پاکستان میں شامل نہ ھونے کی کوشش اور جدوجہد کرنے کے باوجود پٹھانوں کے ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان میں شامل ھونے کا فیصلہ کرنے کے بعد سے ھی خان غفار خان کے ذریعے کے پی کے میں پشتونستان کی تحریک چلوا رھا تھا۔

جولائی 1971 میں برٹش بلوچستان ' قلات ' مکران ' خاران اور لسبیلہ کو یکجا کر کے جب بلوچستان کا صوبہ بنادیا گیا اور اسی سال دسمبر میں مشرقی پاکستان الگ ھوکر بنگلہ دیش بن گیا تو بھارت کی آشیرباد سے آزاد قلات ریاست کی تحریک کو آزاد بلوچستان کی تحریک میں تبدیل کردیا گیا۔ بلکہ کے پی کے ' کے پٹھانوں ' بلوچستان کے بلوچوں کے ساتھ ساتھ ' پاکستان اور بھارت کے درمیان ھونے والی 1965 کی جنگ کے بعد بھارت نے 1966 سے سندھ میں بھی سندھودیش کی تحریک کی تیاری کرنا شروع کروادی اور 1971 میں مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنوا کر کامیابی حاصل کرلینے کی وجہ سے بنگلہ دیش کو مثال بنا کر سندھیوں کو سندھودیش بنانے کے لیے ورغلانے کا کام انجام دینے کے لیے 1972 میں عرب نزاد جی۔ ایم سید کے ذریعے باقائدھ سندھودیش تحریک کا آغاز کروا دیا۔ جسے عرب نزاد جی۔ ایم سید کے انتقال کے بعد اب بلوچ نزاد آصف ذرداری "سندھ کارڈ" کے سیاسی کھیل کے ذریعے سندھیوں کے جذبات بھڑکا کر اور پنجاب کو بلیک میل کرکے اقتدار میں آنے ' فوج کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی دھمکیاں دے کر وفاق کے ریاستی اداروں کو اپنے جرائم پر گرفت کرنے سے باز رکھنے اور اقتدار میں حصہ حاصل کرنے کے لیے حربے کے طور پر استعمال کرنے میں مصروف رھتا ھے۔

پاکستان کے قیام کے بعد یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے مسلمان ھونے اور پاکستان کو بنانے کا نعرہ مار کر یوپی ' سی پی سے پاکستان آنا شروع کردیا۔ پاکستان اور اسلام کا لبادہ اوڑہ کر پاکستان کی سیاست ' صحافت ' حکومت ' فارن افیئرس ' سول بیوروکریسی ' ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور بڑے بڑے شہروں پر قابض ھونا شروع کردیا۔ پاکستان کے دشمنوں کے ایجنڈے پر عمل کرکے پاکستان کو برباد  کرکے ' پاکستان کی اصل قوموں پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کو تباہ کرکے اور پاکستان میں لوٹ مار کرنے کے بعد امریکہ ' برطانیہ ' متحدہ عرب امارت کو اپنا مستقل ٹھکانہ بناتے رھے۔ دراصل 1950 میں لیاقت - نہرو پیکٹ کے ھوتے ھی انڈیا نے دورمار پلاننگ کی اور یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو ایک سازش کے تحت پاکستان بھیجنا شروع کیا لیکن پاکستان کی پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ عوام نے آنکھیں بند کئے رکھیں اور ملک کی ریڑھ کی ھڈی کراچی پر انڈین ایجنٹوں کا قبضہ ھوتا رھا۔ انہوں نے 1986 سے ایم کیو ایم کے نام سے مھاجروں کی سیاسی جماعت بناکر ھڑتالیں ' جلاؤ ' گھیراؤ ' بھتہ خورری ' قتل و غارتگری کرکے پاکستان کی بندرگاہ اور سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی کا امن و امان تباہ کرکے  معیشت کو برباد کرنا شروع کیا اور اب کراچی کو پاکستان سے الگ کرکے جناح پور بنانے میں لگے ھوئے ھیں۔

بھارتی "را" اور دیگر پاکستان دشمن ممالک کے 1947 سے پختونستان کے مشن کے لیے پالے ھوئے مال کھانے اور مال بنانے والے پٹھان نہ ابتک پختونستان بنوا پائے اور نہ اب فاٹا اور کے پی کے ' کے پختون علاقوں میں کامیابی حاصل کر پارھے ھیں۔ 1948 سے آزاد بلوچستان کے لیے پالے ھوئے مال کھانے اور مال بنانے والے بلوچ بھی نہ ابتک آزاد بلوچستان بنوا پائے اور نہ اب بلوچستان کے بلوچ علاقوں میں کامیابی حاصل کر پارھے ھیں۔ 1972 سے سندھودیش کے لیے پالے ھوئے مال کھانے اور مال بنانے والے بلوچ نزاد سندھی اور عرب نزاد سندھی بھی نہ ابتک سندھودیش بنوا پائے اور نہ اب دیہی سندھ کے علاقوں میں کامیابی حاصل کر پارھے ھیں۔ 1986 سے جناح پور کے لیے پالے ھوئے مال کھانے اور مال بنانے والے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی بھی نہ ابتک جناح پور بنوا پائے اور نہ اب کراچی کے علاقوں میں کامیابی حاصل کر پارھے ھیں۔ لیکن ھر وقت پنجاب ' پنجابیوں ' فوج اور پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے الٹے سلٹے قصے کہانیاں بناکر پروپگنڈہ ضرور کرتے رھتے ھیں۔ جسکی وجہ سے پاکستان کا سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی ماحول خراب کرتے رھتے ھیں۔ اس لیے پاکستان میں بھارت کے اس پالتو مال کی صفائی ھونے والی ھے۔ 2020 سے پاکستان میں راوی نے چین ھی چین لکھنا شروع کردینا ھے۔ 2020 میں پاکستان ایک پرامن اور ترقی کی طرف گامزن خوشحال پاکستان نظر آئے گا۔ انشا اللہ۔

2020 کے بعد البتہ ایک تبدیلی اور نظر آنی ھے کہ؛ کراچی میں عزت اور اھمیت اردو بولنے والے ھندوستانی کے بجائے گجراتی اور راجستھانی کی ھوگی۔ دیہی سندھ میں عزت اور اھمیت بلوچ نزاد سندھی اور عرب نزاد سندھی کے بجائے سماٹ سندھی کی ھوگی۔ بلوچستان میں عزت اور اھمیت کرد نزاد بلوچ کے بجائے بروھی کی ھوگی۔ کے پی کے میں عزت اور اھمیت افغانی نزاد پٹھان کے بجائے ھندکو کی ھوگی۔ کیونکہ ھندوستانی مھاجر ' کردستانی بلوچ اور افغانستانی پٹھان ' پنجابی قوم اور پاکستان کے دوست نہیں ھیں۔ اسی لیے پنجابی قوم اور پاکستان سے دشمنی کرتے رھے ھیں۔ جبکہ سماٹ قوم ' بروھی قوم ' ھندکو قوم ' پنجابی قوم اور پاکستان کے دشمن نہیں ھیں۔

پنجاب ' پنجابی قوم کا ھے۔ سندھ ' سماٹ قوم کا ھے۔ (بلوچ کردستانی ھیں اور مھاجر ھندوستانی ھیں)۔ بلوچستان ' بروھی قوم کا ھے۔ (بلوچ کردستانی ھیں)۔ خیبر پختونخواہ ' ھندکو قوم کا ھے (پٹھان افغانستانی ھیں)۔ پنجابی قوم ' سماٹ کو سندھ ' بروھی کو بلوچستان ' ھندکو کو خیبر پختونخواہ کے اصل باشندے سمجھتی ھے۔

پنجابی قوم اب مستقبل میں اپنے تعلقات سماٹ قوم ' بروھی قوم ' ھندکو قوم کے ساتھ رکھے گی۔ سماٹ قوم ' بروھی قوم ' ھندکو قوم کو اپنے اپنے علاقے میں مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے قومی معاملات میں بھی ساتھ رکھے گی۔ پنجابی قوم کی طرف سے اب پاکستان کے وفاقی اداروں میں ھندوستانی مھاجر ' کردستانی بلوچ اور افغانستانی پٹھان کی جگہ سماٹ قوم ' بروھی قوم اور ھندکو قوم کے افراد کو مستحکم کیا جائے گا۔

پاکستان میں ابھی تک زبان کے لحاظ سے غلبہ اردو زبان کا ھی ھے اور پاکستانی میڈیا پر بھی غلبہ اردو زبان کا ھی ھے۔ اردو زبان کے غلبے کو ختم کرکے پنجابی ' سندھی ' ھندکو اور براھوی زبانوں کو پاکستان میں فروغ دینے کا مرحلہ اب آنے والا ھے۔ بحرحال ' اس وقت پاکستان کی ملٹری لیڈرشپ اور پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ پنجابی کے پاس ھے۔

پاکستان کی پنجابی ملٹری لیڈرشپ اور پنجابی سیاسی لیڈرشپ ' بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے پاکستان میں پراکسی کے ذریعے پشتونستان ' آزاد بلوچستان ' سندھودیش اور جناح پور بنانے کی سازش کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی پراکسی کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھنی ھے۔

بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ کی پراکسی کے ذریعے پاکستان میں پشتونستان ' آزاد بلوچستان ' سندھودیش اور جناح پور بنانے کی سازش کا ناکام ھونا ' نہ صرف یقینی ھے بلکہ بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ کو سبق سکھانے کے لیے پاکستان کی پراکسی کے نتیجے میں 2020 تک بھارت کے اندر پشتونستان کی پراکسی کے بدلے میں ناگالینڈ ' آزاد بلوچستان کی پراکسی کے بدلے میں کشمیر ' سندھودیش کی پراکسی کے بدلے میں ھریانستان اور جناح پور کی پراکسی کے بدلے میں خالصتان جبکہ مشرقی پاکستان میں پراکسی کرکے 1971 میں بنگالی قوم کو پاکستان سے الگ کرنے کے بدلے میں تامل ناڈو ' اب آزاد ملک بن کر ھی رھنے ھیں۔

کشمیر ' ھریانستان ' خالصتان ' ناگالینڈ اور تامل ناڈو کی آزادی تو اب ھونی ھی ھے لیکن تیلگو ' ملایالم ' مراٹھی ' گجراتی ' راجستھانی ' کنڑا ' اڑیہ ' آسامی ' بھوجپوری اور بنگالی قوم  کو بھی ھندوستانیوں (اترپردیش کے ھندی بولنے والے گنگا جمنا تہذیب و ثقافت والوں) سے آزادی مل جانی ھے۔ انشا اللہ۔

پاکستان تو پنجابی ' سندھی ' ھندکو اور براھوی بولنے والوں کا ملک ھے اور پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی ھے لیکن بھارت تو ھندی ' تیلگو ' تامل ' ملایالم ' مراٹھی ' گجراتی ' راجستھانی ' کنڑا ' اڑیہ ' آسامی ' بھوجپوری ' بنگالی اور پنجابی قوموں کا علاقہ ھے ' جہاں 25٪ آبادی ھندی ھے لیکن 75٪ آبادی ھندی نہیں ھے۔

پاکستان کی 60٪ آبادی ھونے کی وجہ سے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ میں تو پنجابیوں کی ھی اکثریت ھونی تھی لیکن بھارت میں ھندوستانیوں (اترپردیش کے ھندی بولنے والے گنگا جمنا تہذیب و ثقافت والے) نے بھارت کی 75٪ آبادی کو ھندی اسٹیبلشمنٹ اور ھندی زبان کے ذریعے مغلوب کیا ھوا ھے۔

بھارت میں اقلیت میں ھونے کے باوجود ھندوستانیوں نے ھندی اسٹیبلشمنٹ کے غلبے کے علاوہ ھندی زبان کا بھی غلبہ کیا ھوا ھے اور ھندوستانی میڈیا پر بھی غلبہ ھندی زبان کا ھی ھے لیکن پاکستان میں اکثریت میں ھونے کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ میں تو پنجابیوں کی اکثریت ھے لیکن زبان کے لحاظ سے پاکستان میں غلبہ اردو زبان کا ھے ' جو کہ اصل میں ھندی زبان ھی ھے۔ پاکستانی میڈیا پر بھی غلبہ اردو زبان کا ھی ھے۔

بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان میں پراکسی کرکے ' پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو پنجابی اسٹیبلشمنٹ قرار دلوا کر ' پنجاب کو غاصب قرار دلوا کر ' پاکستان کو پنجابستان قرار دلوا کر ' پاکستان ' پنجاب اور پنجابی قوم کے خلاف نفرت کا ماحول قائم کرواکر ' پاکستان کے اندر ' افغانی بیک گراؤنڈ پشتو بولنے والوں کو پشتونستان بنانے کی راہ پر ڈالنے کی سازش شروع کی ھوئی ھے۔ کردستانی بیک گراؤنڈ بلوچی بولنے والوں کو آزاد بلوچستان بنانے کی راہ پر ڈالنے کی سازش شروع کی ھوئی ھے۔ عربی نزاد اور بلوچ نزاد سندھیوں کو سندھودیش بنانے کی راہ پر ڈالنے کی سازش شروع کی ھوئی ھے۔ یوپی ' سی پی کے ھندوستانی بیک گراؤنڈ اردو بولنے والے مھاجروں کو جناح پور بنانے کی راہ پر ڈالنے کی سازش شروع کی ھوئی ھے۔

بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ ' اس طرح کی سازش کے ذریعے ' ماضی میں لسانی پراکسی کرکے ' مشرقی پاکستان میں ' 1971 میں بنگالی قوم کو پاکستان سے الگ کرنے میں کامیاب ھوچکی ھے لیکن 1971 میں نہ پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ پنجابی کے پاس تھی اور نہ ملٹری لیڈرشپ۔

 1971میں پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ بنگالی مجیب الرحمٰن اور سندھی بھٹو کے پاس تھی جبکہ پاکستان کی ملٹری لیڈرشپ میں کلیدی قردار اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جرنیلوں اور پٹھان جرنیلوں کا تھا۔ جبکہ پاکستان کا سربراہ بھی پٹھان یحیٰ خان تھا۔

پنجابی کے پاس تو پاکستان کی ملٹری لیڈرشپ 1975 میں جنرل ضیاءالحق کے پاکستان کی فوج کے پہلے پنجابی چیف آف آرمی اسٹاف بننے کے بعد آئی۔ جبکہ پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ 1988 میں نوازشریف کے پاکستان مسلم لیگ کا صدر بننے کے بعد ' 1990 میں پاکستان کا وزیرِاعظم بننے کے بعد ائی۔

جب 1971 میں بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ نے بنگالی قوم کو پاکستان سے الگ کرنے کی لسانی پراکسی شروع کی تو اس کے جواب میں پاکستان کو بھی مشرقی پنجاب اور کشمیر میں لسانی پراکسی کرنی چاھیئے تھی لیکن اس وقت پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ اور ملٹری لیڈرشپ پنجابی کے پاس نہیں تھی۔ جبکہ پاکستان کی ملٹری لیڈرشپ میں موجود اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جرنیلوں ' پٹھان جرنیلوں اور مغربی پاکستان کے سیاسی لیڈر ' سندھی بھٹو نے بھارت میں لسانی پراکسی کرنے سے گریز کیا کیونکہ بھارت میں لسانی پراکسی کرکے بھارتی پنجاب اور کشمیر کو بھارت سے الگ کرکے پاکستان میں شامل کرنے سے پاکستان میں پنجابیوں کی آبادی کے 60٪ سے بڑہ کر 85٪ ھوجانے کی وجہ سے غیر پنجابی ھونے کی بنا پر وہ خوفزدہ تھے۔

اس وقت چین ' کاشغر سے لیکر گوادر تک انرجی اور کیمیونیکیشن کوریڈورس بنا رھا ھے جس پر انڈسٹریل زونس بھی بنیں گے ' جس سے چین اور پاکستان کی معاشی ترقی ھوگی جبکہ چین بحر ھند کو کنٹرول کرنے لگے گا۔

پاکستان کی آبادی 20 کروڑ ھے۔ اس وقت پاکستان ایک ایٹمی طاقت بھی ھے۔ پاکستان عالمِ اسلام کا آبادی کے لحاظ سے دوسرا اور ایٹمی طاقت کے لحاظ سے واحد ملک ھے۔ اس وقت   پاکستان جنوبی ایشیا کا ایک طاقتور ملک ھے۔

پاکستان کے ساتھ دنیا کے طاقتور ترین ممالک امریکہ ' روس ' برطانیہ ' فرانس ' جرمنی ' جاپان ' ترکی کے عزت و احترام والے تعلقات ھیں۔

پاکستان کے ساتھ پڑوسی ممالک چین ' ایرن ' متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے عزت و احترام والے تعلقات ھیں۔

بھارت اور افغانستان بھی پاکستان کے پڑوسی ملک ھیں۔ بھارت کھل کر پاکستان کے ساتھ جنگ تو نہیں کررھا اور نہ پاکستان کے ایٹمی صلاحیت والا ملک ھونے کی وجہ سے بھارت میں کھل کر پاکستان کے ساتھ جنگ کرنے کی ھمت ھے۔ لیکن پاکستان میں سیاسی ' سماجی اور معاشی عدمِ استحکام کے لیے بھارت سازشوں سے باز نہیں آرھا اور افغانستان کو اپنے ساتھ ملا کر پاکستان کے اندر "پراکسی وار" کر رھا ھے۔

افغانستان بھی بھارت کے پاکستان دشمنی کے کھیل میں بھارت کے ساتھ تعاون کر رھا ھے۔ پاکستان کے مغربی صوبوں کے پی کے اور بلوچستان میں تخریبکاری کرنے کے لیے اپنی زمین کو بھارت کی خفیہ ایجنسی "را" کو استعمال کے لیے دینے کے علاوہ پاکستان کی مغربی سرحدوں پر خود بھی تخریبکاری میں مصروف رھتا ھے۔

چین اور پاکستان کے درمیان 2015 میں ھونے والے انرجی اور کیمیونیکیشن کوریڈورس کے معاھدے کے بعد اب 2030 تک انرجی اور کیمیونیکیشن کوریڈورس کا کام جاری رھنا ھے اور 2030 میں چین نے بحر ھند پر اپنی اجاراداری قائم کر لینی ھے جبکہ پاکستان نے "ایشین ٹائیگر" بن جانا ھے۔ انشا اللہ۔

ھندوستان نے چین کے کاشغر سے لیکر گوادر تک انرجی اور کیمیونیکیشن کوریڈورس کے بننے کو روکنا ھے۔ اس لیے ھندوستانی "را" اور دیگر پاکستان دشمن ملکوں نے پاکستان کے اندر "پراکسی وار" کے ذریعے پاکستان میں بھرپور سماجی اور سیاسی بحران پیدا کرنے کی کوشش کرنی ھے۔ جبکہ پاکستانی "آئی ایس آئی" نے ھندوستانی "را" اور دیگر پاکستان دشمن ملکوں کی پاکستان دشمن سرگرمیوں کا مقابلہ کرنا ھے۔

پختونستان ' آزاد بلوچستان اور سندھودیش کی پرانی تحریکوں اور 1986 سے جناح پور کی تحریک کے لیے سرگرم "را" کے نئے ایجنٹ الطاف اور اسکے ساتھیوں  کے علاوہ بھی پاکستان کے اندر دوسرے بھارتی آلہ کار موجود ھیں جو بھارت کی پاکستان کے اندر ھندوستانی "را" یا دیگر پاکستان دشمن ملکوں کی "پراکسی وار" کے دانستہ یا نادانستہ آلہ کار بنے ھوئے ھیں۔ بعض نے سیاسی لبادے پہن رکھے ھیں اور بڑی بڑی سیاسی پارٹیوں کے معزر اراکین بننے ھوئے ھیں۔ وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کے رکن بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں وزیر اور مشیر تک بنتے رھتے ھیں۔ بعض نے کاغذی سیاسی تنظیمیں بنا رکھی ھیں۔ بعض دانشور ' صحافی یا سول سوسائٹی کے معززین بنے ھوئے ھیں یا فلاحی تنظیمیں بنا رکھی ھیں۔ جبکہ سرکاری ملازمین کی بھی بڑی تعداد دانستہ یا نادانستہ آلہ کار بنی ھوئی ھے۔ جن میں سے بعض تو بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر تعینات ھیں۔

پاکستان کے سیاستدانوں ' صحافیوں ' سماجی کارکنوں اور دانشوروں کے لیے احتیاط ضروری ھے کیونکہ  ھندوستانی "را" یا دیگر پاکستان دشمن ملکوں کے آلہ کار بن کر یا دانستہ اور نادانستہ ھندوستانی "را"  یا دیگر پاکستان دشمن ملکوں کے ایجنڈے پر کام کرکے پاکستان میں سماجی اور سیاسی بحران پیدا کرنے والے سیاستدانوں ' صحافیوں ' سماجی کارکنوں اور دانشوروں کے ساتھ اب اچھا سلوک نہیں ھوگا۔ بلکہ چند ماہ میں ھی انہوں نے اب قانوں کے شکنجے میں آجانا ھے۔ انشا اللہ۔