Sunday, 5 February 2017

پاکستان میں 2018 کے انتخابات قوم پرستی کی بنیاد پر ھونگے۔

امریکہ میں گورے امریکنوں کی آبادی 68٪ ھے۔ جبکہ پاکستان ' پنجابیوں کے علاوہ 1۔ سماٹ 2۔ ھندکو 3۔ بروھی 4۔ کشمیری 5۔ گلگتی بلتستانی 6۔ چترالی 7۔ راجستھانی 8۔ گجراتی 9۔ پٹھان 10۔ بلوچ 11۔ اردو بولنے والے ھندوستانیوں 12۔ دیگر کا بھی ملک ھے۔ پنجابی قوم پاکستان کی اکثریتی آبادی ھے۔ پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی ھے۔

امریکہ میں ھونے والے انتخابات سیاسی جماعتوں کے منشور کے بجائے قوم پرستی کی بنیاد پر ھوئے اور ڈونالڈ ٹرمپ ببانگِ دھل گورے امریکنوں کے ووٹ لیکر امریکہ کا صدر بن گیا۔ جب امریکہ جیسے تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ملک کے گوروں میں قوم پرستی فروغ پاچکی ھے تو پاکستان میں پنجابی قوم کے اندر بڑھتی ھوئی قوم پرستی کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ھے؟

پاکستان سے 1971 میں بنگال کے الگ ھونے تک پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ مھاجر لیاقت علی خان سے لیکر ' مھاجر مودودی و مھاجر نورانی' بنگالی مجیب و بنگالی بھاشانی ' سندھی بھٹو و سندھی جی۔ایم سید' پٹھان غفار خان ' ولی خان و پٹھان قیوم خان' بلوچ خیر بخش مری' بلوچ اکبر بگٹی' بروھی عطاء اللہ مینگل کے پاس رھی. ایک بھی قومی سطح کا پنجابی سیاسی لیڈر نہیں تھا. ملٹری لیڈرشپ پٹھان ایوب خان ' پٹھان یحی خان' بلوچستان کے ھزارھ موسی خان کے ھاتھ میں رھی. ایک بھی پنجابی فوج کا سربراہ نہیں بنا تھا.

آج 2017 میں بنگال تو ھے نہیں. بلوچ لیڈرشپ بلوچ خیر بخش مری' بلوچ اکبر بگٹی' بروھی عطاء اللہ مینگل کے معیار کی طرح قومی سطح کی نہیں ھے ' بلکہ سکڑ کر بلوچستان کے اندر تک محدود اور قبائل کی حد تک اثر انداز ھونے والی رہ گئی ھے. پختون لیڈرشپ بھی پٹھان غفار خان ' ولی خان و پٹھان قیوم خان کے معیار کی طرح قومی سطح کی نہیں ھے ' بلکہ اسفند یار ولی کی پنجاب دشمنی اور عمران خان  کے پنجابی قوم کے خلاف سازشیں کرنے کی وجہ سے سکڑ کر خیبر پختونخواہ کے اندر تک محدود اور آپس میں الجھی ھوئی ھے. سندھی لیڈرشپ بھی سندھی ذالفقار و بے نظیر بھٹو و سندھی جی۔ایم سید کے معیار کی طرح قومی سطح کی نہیں ھے ' بلکہ سکڑ کر دیہی سندھ کے اندر تک محدود اور آپس میں الجھی ھوئی ھے.

آصف زرداری جیسے لوٹ مار کی شوقین اور بلاول زرداری جیسے سیاسی تجربہ سے محروم لیڈروں کے دیہی سندھ پر قبضے کی وجہ سے سندھی اس وقت سیاسی طور پر صوبائی سطح کی سیاسی لیڈرشپ سے بھی محروم ھیں. مستقبل میں سندھی سیاسی لیڈرشپ کا معیار مزید گر کر ضلعوں کی سطح پر آتا نظر آرھا ھے. بلوچوں اور پختونوں کی طرح سندھیوں کی سیاسی لیڈرشپ بھی مختلف علاقوں اور ضلعوں کی حد تک محدود اور قبائل میں منتشر نظر آئے گی.

مھاجر اس وقت الطاف حسین کی قیادت میں متحد اور ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے متحرک ھیں. اس لحاظ سے مھاجر کی سیاسی پوزیشن سندھی' پٹھان اور بلوچ سے زیادھ بھتر ھے لیکن الطاف حسین کا پاکستان آنا ممکن نہیں. مھاجر کے پاس مشرف ' الطاف حسین کا متبادل لیڈر تھا لیکن مقدمات میں پھنسنے کے بعد اب مشرف کی گلوخلاصی ممکن نہیں. مستقبل میں مھاجر بھی سیاسی قیادت کے اس ھی بحران میں مبتلا ھوکر منتشر ھو جائیں گے جس طرح سے بلوچ' پٹھان اور سندھی قومی سطح کی لیڈرشپ سے محروم ھونے کے بعد ' سیاسی قیادت کے بحران کی وجہ سے منتشر ھیں.

پنجاب اس وقت پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سیاسی قیادت میں نہ صرف خود کفیل بلکہ مضبوط و مستحکم ھے. نواز شریف کی شکل میں قومی سطح کی لیڈرشپ موجود ھے جسکا ھم پلہ سیاستدان بلوچ ' پٹھان ' مھاجر اور سندھی کے پاس نہیں ھے۔

پنجاب میں نواز شریف اور مسلم لیگ ن کی جڑیں انتہائی مظبوط ھیں ' جو اب پھیل کر پختونخواہ کے ھزارھ اور بلوچستان کے بروھیوں پر بھی اپنا اثر بڑھا رھی ھیں۔ جبکہ دیہی سندھ کی دوسری بڑی آبادی اور کراچی کی بھی دوسری بڑی آبادی ' پنجابی کی سپورٹ ویسے ھی نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے ساتھ ھے۔

پاکستان کا ماحول لسانی بن چکا ھے اور سیاسی پارٹیاں بھی لسانی بنیاد پر منظم ھیں.

مھاجر ایم کیو ایم کے مھاجر تشخص کی وجہ سے ایم کیو ایم کو ووٹ دینا پسند کرتے تھے اور کریں گے۔

سندھی اور سندھ و جنوبی پنجاب کے بلوچ پی پی پی کے سندھی و بلوچ تشخص کی وجہ سے پی پی کو ووٹ دینا پسند کرتے تھے اور کریں گے۔

پٹھان پی ٹی آئی کے پٹھان تشخص کی وجہ سے پی ٹی آئی کو ووٹ دینا پسند کرتے تھے اور کریں گے۔

اب پنجابی بھی قوم پرستی کی طرف مائل ھوچکے ھیں اس لیے پنجابی تشخص والی سیاسی پارٹی کو ووٹ دینے کی طرف مائل ھیں.

پاکستان وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین پر قائم ھے۔ وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کی درجہ بندی وادئ سندھ کی تہذیب کے پنجابی خطے۔ وادئ سندھ کی تہذیب کے سماٹ خطے۔ وادئ سندھ کی تہذیب کے براھوی خطے۔ وادئ سندھ کی تہذیب کے ھندکو خطے کے طور پر کی جاسکتی ھے۔

وادئ سندھ کی تہذیب کے اصل باشندے پنجابی ' سماٹ ' براھوی ' ھندکو ھیں۔ جو پاکستان کی آبادی کا 80 فیصد ھیں۔ جنہیں پاکستان کی 20 فیصد آبادی کی وجہ سے الجھن ' پریشانی اور بحران کا سامنا ھے۔ یہ 20 فیصد آبادی والے لوگ ھیں؛ 1. افغانستان سے آنے والے جو اب پٹھان کہلواتے ھیں۔ 2. کردستان سے آنے والے جو اب بلوچ کہلواتے ھیں۔ 3. ھندوستان سے آنے والے جو اب مھاجر کہلواتے ھیں۔

پٹھان ' بلوچ اور مھاجر کی عادت بن چکی ھے کہ ایک تو ھندکو ' بروھی اور سماٹ پر اپنا سماجی ' سیاسی اور معاشی تسلط برقرار رکھا جائے۔ دوسرا پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کیا جائے۔ تیسرا یہ کہ پاکستان کے سماجی اور معاشی استحکام کے خلاف سازشیں کرکے ذاتی فوائد حاصل کیے جائیں۔ لیکن اس صورتحال میں پنجابی قوم کا رویہ مفاھمانہ ' معذرت خواھانہ اور لاپرواھی کا ھے۔

در اصل بلوچستان کے بلوچ ایریا ' سندھ کے سندھی ایریا اور پنجاب کے ساؤتھ کے ایریا میں بلوچ ' بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے پٹھان ایریا میں پٹھان ' سندھ کے مھاجر ایریا میں مھاجر ' لوکل لیول پر اپنی سوشل اور اکنامک ڈومینیشن قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ سماٹ ' ھندکو اور بروھی قوموں پر اپنا راج قائم رکھنا چاھتے ھیں۔ ان کو اپنے ذاتی مفادات سے اتنی زیادہ غرض ھے کہ پاکستان کے اجتماعی مفادات کو بھی یہ نہ صرف نظر انداز کر رھے ھیں بلکہ پاکستان دشمن عناصر کی سرپرستی اور تعاون لینے اور ان کے لیے پَراکْسی پولیٹکس کرنے کو بھی غلط نہیں سمجھتے۔

پختونستان کی سازش نے خیبر پختونخواہ کے انتظامی اور اقتصادی ماحول کو نقصان پہنچایا ' ھندکو کو سماجی اور معاشی پیچیدگیوں میں الجھا دیا جبکہ پٹھان نوجوانوں کے مستقبل کو خراب کیا۔ آزاد بلوچستان کی سازش نے بلوچستان کے انتظامی اور اقتصادی ماحول کو نقصان پہنچایا ' بروھیوں کو سماجی اور معاشی پیچیدگیوں میں الجھا دیا جبکہ بلوچ نوجوانوں کے مستقبل کو خراب کیا۔ جناح پور کی سازش نے کراچی کے انتظامی اور اقتصادی ماحول کو نقصان پہنچایا ' سماٹ کو سماجی اور معاشی پیچیدگیوں میں الجھا دیا جبکہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر نوجوانوں کے مستقبل کو خراب کیا۔

اگرچہ پختونستان ' آزاد بلوچستان ' جناح پور کی سازشوں کے ذریعے پاکستان کے کسی بھی حصے کی جغرافیائی علیحدگی بھارتی ایجنسی "را" کی طرف سے سپانسرڈ پٹھان ' بلوچ اور مھاجر پاکستان دشمنوں کے لیے ناممکن ھے۔ لیکن پختونستان ' آزاد بلوچستان ' جناح پور کی سازشوں کی وجہ سے خیبر خیبر پختونخواہ ' بلوچستان ' کراچی کے سماجی ' معاشی ' انتظامی اور اقتصادی حالات خراب ھیں۔ پٹھان ' بلوچ اور مھاجر نوجوانوں کا مستقبل تباہ ھو رھا ھے۔ ھندکو ' بروھی اور سماٹ سماجی اور معاشی پیچیدگیوں میں الجھ کر رہ گئے ھیں۔ جبکہ پاکستان کے سماجی ماحول ' معاشی معاملات ' انتظامی کارکردگی اور اقتصادی استحکام کو بھی نقصان پہنچ رھا ھے۔

چونکہ پٹھان ' بلوچ اور اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی مفاد پرستانہ قوم پرستی کی وجہ سے پاکستان کا ماحول لسانی ھوچکا ھے۔ اس لیے پاکستان میں 2018 کے انتخابات قوم پرستی کی بنیاد پر ھونگے۔  لحاظہ 2018 میں پنجابی بھی قوم پرستی کی بنیاد پر پاکستان کے انتخابات میں حصہ لیں گے اور اس پنجابی سیاسی جماعت کو سپورٹ کریں گے جو؛

01۔ پنجابیوں کو پنجابی قوم ھونے کا احساس دلائے گی۔

02۔ پنجاب کی تعلیمی اور دفتری زبان پنجابی کرنے کا وعدہ کرے گی۔

03۔ پنجاب کو سیکولر ایریا اور پنجابی قوم کو سیکولر قوم بنائے کا وعدہ کرے گی۔

04۔ 1947 میں ڈیوائیڈ ھو جانے والے پنجاب کو یونائٹ کرنے کا وعدہ کرے گی۔

05۔ کشمیر پر سے بھارت کا قبضہ ختم کروائے کا وعدہ کرے گی۔

06۔ 1901 میں برٹش کی طرف سے پنجاب کے نارتھ ویسٹرن ایریاز کو پنجاب سے الگ کر کے این ڈبلیو ایف پی ( نارتھ ویسٹرن فرنٹیر پروونس ) کے نام سے پروونس بننا کر ( جسکا نام اب خیبر پختونخواہ ہے ) پختونائزیشن کر کے پنجابی کے بجائے پختون ایریا بنائے جانے والے ایریا کو پِھر سے پنجاب میں شامل کر کے اور اس ایریا سے پختونائزیشن ختم کر کے پنجاب کو پِھر سے مہاراجا رنجیت سنگھ کے پنجاب جیسا پنجاب بنائے کا وعدہ کرے گی۔

07۔ سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور سماٹ سندھیوں پر سے عربی نزاد اور بلوچ نزاد سندھیوں کے ظلم اور زیادتیوں کو ختم کروانے کے لیے سندھ کے سماٹ سندھیوں اور سندھ کے پنجابیوں کو سماجی ' سیاسی ' معاشی ' انتظامی طور پرمظبوط کرنے کا وعدہ کرے گی۔

08۔ کراچی میں رھنے والے پنجابیوں ' سماٹ سندھیوں ' پٹھانوں ' گجراتیوں اور راجستھانیوں پر سے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے ظلم اور زیادتیوں کو ختم کروانے کے لیے کراچی کے پنجابیوں ' سماٹ سندھیوں ' پٹھانوں ' گجراتیوں اور راجستھانیوں کو سماجی ' سیاسی ' معاشی ' انتظامی طور پرمظبوط کرنے کا وعدہ کرے گی۔

09۔ بلوچستان میں رھنے والے پنجابیوں اور بروھیوں پر سے کردستانی نزاد بلوچوں کے ظلم اور زیادتیوں کو ختم کروانے کے لیے بلوچستان کے پنجابیوں اور بروھیوں کو سماجی ' سیاسی ' معاشی ' انتظامی طور پرمظبوط کرنے کا وعدہ کرے گی۔

10۔ جنوبی پنجاب میں رہنے والے ملتانی پنجابیوں ' ریاستی پنجابیوں اور ڈیرہ والی پنجابیوں پر سے کردستانی نزاد بلوچوں ' افغانی نزاد پٹھانوں ' عربی نزاد مخدوموں '  گیلانیوں ' عباسیوں '  قریشیوں ( جو اب خود کو سرائیکی کہتے ھیں )  کے ظلم اور زیادتیوں کو ختم کروانے کے لیے جنوبی پنجاب کے ملتانی پنجابیوں ' ریاستی پنجابیوں اور ڈیرہ والی پنجابیوں کو سماجی ' سیاسی ' معاشی ' انتظامی طور پرمظبوط کرنے کا وعدہ کرے گی۔

پاکستان میں قوم پرستی کی بنیاد پٹھان ' بلوچ اور اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے رکھی تھی لیکن اب پنجابی بھی قوم پرستی کی طرف راغب ھوتے جا رھے ھیں۔ پنجابی قوم پرستی میں روز بروز اضافہ ھوتا جا رھا ھے۔ بلکہ بہت تیزی کے ساتھ اضافہ ھو رھا ھے۔

پنجابی قوم کے 1۔ سماٹ 2۔ ھندکو 3۔ بروھی 4۔ کشمیری 5۔ گلگتی بلتستانی 6۔ چترالی 7۔ راجستھانی 8۔ گجراتی 9۔ دیگر کے ساتھ برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم ھیں۔

پنجابی قوم کے 1۔ پٹھان 2۔ بلوچ 3۔ اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے ساتھ برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم نہیں ھیں۔

1۔ پٹھان 2۔ بلوچ 3۔ اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے صرف پنجابی قوم کے ساتھ ھی نہیں بلکہ 1۔ سماٹ 2۔ ھندکو 3۔ بروھی 4۔ کشمیری 5۔ گلگتی بلتستانی 6۔ چترالی 7۔ راجستھانی 8۔ گجراتی 9۔ دیگر کے ساتھ بھی برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم نہیں ھیں۔

1۔ پٹھان 2۔ بلوچ 3۔ اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو چاھیئے کہ نہ صرف پنجابی قوم بلکہ 1۔ سماٹ 2۔ ھندکو 3۔ بروھی 4۔ کشمیری 5۔ گلگتی بلتستانی 6۔ چترالی 7۔ راجستھانی 8۔ گجراتی 9۔ دیگر کے ساتھ بھی برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم قائم کریں اور پنجابی قوم پرستی کے بڑھتے ھوئے عروج کی وجہ سے اب پنجابیوں کی تذلیل اور توھین کرکے بلیک میل کرنے اور قوم پرستی کا سہارا لیکر پنجابیوں کے ساتھ محاذ آرائی کرنے سے گریز کریں۔ ورنہ پنجابی قوم پرستی کے طوفان سے سب سے زیادہ نقصان پٹھان ' بلوچ اور اردو بولنے والے ھندوستانیوں کا ھوجانا ھے۔

قصہ مختصر! پاکستان میں سیاسی اور ملٹری لیڈر شپ اب پنجاب اور پنجابی کے پاس ھے۔ ملک میں فوجی مداخلت کا بھی کوئی امکان نہیں کیونکہ پنجاب کی سیاسی قیادت نہ تو فوج کو سیاسی امور میں مداخلت کرنے دے گی اور نہ ھی جمہوری عمل کی بساط لپیٹنے دے گی اور نہ ھی پنجابی ملٹری لیڈرشپ اپنے فرائض چھوڑ کر سیاسی امور میں مداخلت کرنا پسند کرے گی۔

بحرحال ! جب حکومتی اداروں کی کارکردگی کو بنیاد بنا کر اور ان اداروں کو پنجابی ادارے کہہ کہہ کر یا دوسرے شوشے چھوڑ چھوڑ کر پنجابیوں کو بلوچوں ' پٹھانوں یا مھاجروں کی طرف سے گالیاں دی جاتی ھیں اور سرائیکی سازش کے ذریعے پنجاب کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازشیں کی جاتی ھیں تو بات سیاسی مفاھمت کے بجائے محاذآرائی کی طرف نکل جاتی ھے. اس لیے بلوچوں ' پٹھانوں اور مھاجروں کو طے کرنا ھوگا کہ وہ پنجاب اور پنجابیوں کے ساتھ سیاسی مفاھمت کرنا چاھتے ھیں یا سیاسی محاذآرائی؟