Monday, 13 February 2017

پنجاب کو گالیاں دینے اور پنجابیوں سے زیادتی کی اطلاع اب پنجاب نہ پہنچنے۔

پاکستان کو پنجابی ' سماٹ ' ھندکو اور بروھی قوموں کی زمین پر بنایا گیا ھے۔ وادئ سندھ کی تہذیب کے اصل باشندے پنجابی ' سماٹ ' براھوی ' ھندکو ھیں۔ پنجابی ' سماٹ ' ھندکو اور بروھی ھی پاکستان کی اصل قومیں ھیں۔ پنجابی ' سماٹ ' ھندکو اور بروھی کی اپنی زمین کے ساتھ ساتھ اپنی زبان ' اپنی ثقافت ' اپنی تہذیب ' اپنا رسم رواج ھے۔ جو پاکستان کی آبادی کا 80 فیصد ھیں۔ جنہیں پاکستان کی 20 فیصد آبادی کی وجہ سے الجھن ' پریشانی اور بحران کا سامنا ھے۔ یہ 20 فیصد آبادی والے لوگ ھیں؛ 1. افغانستان سے آنے والے جو اب پٹھان کہلواتے ھیں۔ 2. کردستان سے آنے والے جو اب بلوچ کہلواتے ھیں۔ 3. ھندوستان سے آنے والے جو اب مھاجر کہلواتے ھیں۔

پٹھان ' بلوچ اور مھاجر کی عادت بن چکی ھے کہ ایک تو ھندکو ' بروھی اور سماٹ پر اپنا سماجی ' سیاسی اور معاشی تسلط برقرار رکھا جائے۔ دوسرا پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کیا جائے۔ تیسرا یہ کہ پاکستان کے سماجی اور معاشی استحکام کے خلاف سازشیں کرکے ذاتی فوائد حاصل کیے جائیں۔ لیکن اس صورتحال میں پنجابی قوم کا رویہ مفاھمانہ ' معذرت خواھانہ اور لاپرواھی کا رھا ھے۔

در اصل بلوچستان کے بلوچ ایریا ' سندھ کے سندھی ایریا اور پنجاب کے ساؤتھ کے ایریا میں بلوچ ' بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے پٹھان ایریا میں پٹھان ' سندھ کے مھاجر ایریا میں مھاجر ' مقامی سطح پر اپنی سماجی ' معاشی اور سیاسی بالادستی قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ سماٹ ' ھندکو اور بروھی قوموں پر اپنا راج قائمم رکھنا چاھتے ھیں۔ ان کو اپنے ذاتی مفادات سے اتنی زیادہ غرض ھے کہ پاکستان کے اجتماعی مفادات کو بھی یہہ نہ صرف نظر انداز کر رھے ھیں بلکہ پاکستان دشمن عناصر کی سرپرستی اور تعاون لینے اور ان کے لیے پَراکْسی پولیٹکس کرنے کو بھی غلط نہیں سمجھتے۔

پختونستان کی سازش نے خیبر پختونخواہ کے انتظامی اور اقتصادی ماحول کو نقصان پہنچایا ' ھندکو کو سماجی اور معاشی پیچیدگیوں میں الجھا دیا جبکہ پٹھان نوجوانوں کے مستقبل کو خراب کیا۔ آزاد بلوچستان کی سازش نے بلوچستان کے انتظامی اور اقتصادی ماحول کو نقصان پہنچایا ' بروھیوں کو سماجی اور معاشی پیچیدگیوں میں الجھا دیا جبکہ بلوچ نوجوانوں کے مستقبل کو خراب کیا۔ جناح پور کی سازش نے کراچی کے انتظامی اور اقتصادی ماحول کو نقصان پہنچایا ' سماٹ کو سماجی اور معاشی پیچیدگیوں میں الجھا دیا جبکہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر نوجوانوں کے مستقبل کو خراب کیا۔

اگرچہ پختونستان ' آزاد بلوچستان ' جناح پور کی سازشوں کے ذریعے پاکستان کے کسی بھی حصے کی جغرافیائی علیحدگی بھارتی ایجنسی "را" کی طرف سے سپانسرڈ پٹھان ' بلوچ اور مھاجر پاکستان دشمنوں کے لیے ناممکن ھے۔ لیکن پختونستان ' آزاد بلوچستان ' جناح پور کی سازشوں کی وجہ سے خیبر خیبر پختونخواہ ' بلوچستان ' کراچی کے سماجی ' معاشی ' انتظامی اور اقتصادی حالات خراب ھیں۔ پٹھان ' بلوچ اور مھاجر نوجوانوں کا مستقبل تباہ ھو رھا ھے۔ ھندکو ' بروھی اور سماٹ سماجی اور معاشی پیچیدگیوں میں الجھ کر رہ گئے ھیں۔ جبکہ پاکستان کے سماجی ماحول ' معاشی معاملات ' انتظامی کارکردگی اور اقتصادی استحکام کو بھی نقصان پہنچ رھا ھے۔

بلوچستان میں جتنے پنجابی ھیں ' اس سے زیادہ بلوچ پنجاب میں ھیں۔ کراچی میں جتنے پنجابی ھیں ' اس سے زیادہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر پنجاب میں ھیں۔ خیبر پختونخواہ میں جتنے پنجابی ھیں ' اس سے زیادہ پٹھان پنجاب میں ھیں۔

بلوچ ' پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر  نے نہ صرف سماٹ ' بروھی اور ھندکو کی زمین پر قبضہ کیا ھوا ھے۔ بلکہ پنجاب کی سیاست ' صحافت ' صعنت ' تجارت ' سرکاری نوکریوں اور زمیںوں پر بھی یہ بلوچ ' پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر قبضہ کرتے جا رھے ھیں۔

یہ بلوچ ' پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' پنجاب سے سیاسی جماعتوں کے مرکزی اور صوبائی صدر ' مرکزی اور صوبائی جنرل سیکرٹری بھی بنتے ھیں۔

یہ بلوچ ' پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' پنجاب اسمبلی کے ممبر بھی بنتے ھیں۔

یہ بلوچ ' پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' پنجاب سے قومی اسمبلی کے ممبر بھی بنتے ھیں۔

یہ بلوچ ' پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' پنجاب سے صوبائی وزیر اور صوبائی مشیر بھی بنتے ھیں۔

یہ بلوچ ' پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' پنجاب سے وفاقی وزیر اور صوبائی وزیر بھی بنتے ھیں۔

یہ بلوچ ' پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' پنجاب سے پاکستان کا صدر ' پاکستان کا وزیرِ اعظم ' پنجاب کا گورنر ' پنجاب کا وزیرِ اعلیٰ بھی بنے۔

جبکہ کراچی ' سندھ ‘ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں رھنے والے پنجابیوں کو چونکہ سندھ ‘ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کی صوبائی اور کراچی کی مقامی حکومت میں نمائندگی نہیں دی جاتی۔ اس لیے نہ تو کراچی ' سندھ ‘ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کے پنجابیوں کا سیاسی معاملات کے بارے میں موقف سامنے آتا ھے اور نہ ھی کراچی ' سندھ ‘ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کے پنجابیوں کوسیاسی حقوق اور حکومتی سھولیات مل پاتی ھیں۔

پاکستان کی 60 % آبادی پنجابی ھے۔ جسکی وجہ سے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ' بیوروکریسی ' تجارت ' صنعت ' صحافت اور سیاست میں بالاتر کردار پنجابیوں کا ھے۔ اس لیے پٹھان ‘ بلوچ اور اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجر کا بظاھر ٹارگٹ پنجاب کا وہ پنجابی ھوتا ھے جو اسٹیبلشمنٹ میں ھو ‘ بیوروکریسی میں ھو ' تجارت میں ھو ' صنعت میں ھو ' صحافت میں ھو اور سیاست میں ھو لیکن پنجاب میں رھنے والے پنجابی کو عملی طور پر یہ پٹھان ‘ بلوچ اور اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجر ‘ کوئی نقصان نہیں پونہچا پاتے اور نہ پنجاب کے پنجابیوں کے ساتھ ان کا براہِ راست مفادات کا ٹکراؤ  ھے۔ اس لیے ھندکو ' بروھی اور سماٹ قوموں پر اپنی بالادستی قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کا نشانہ کراچی ' سندھ ‘ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں رھنے والی پنجابی برادری کا وہ پنجابی ھی ھوتا ھے ‘ جو کراچی ' سندھ ‘ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں آباد ھے۔

بحرحال اچھی اور بری شخصیات ھر علاقے اور ھر قوم میں ھوتی ھیں۔ اس لیے پنجاب ' سندھ ' خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں بھی ھیں۔ لیکن مسئلہ اس لیے خراب ھے کہ پنجابی اپنی قوم کی بری شخصیات کے آلہ کار بن کر عام بلوچ ‘ پختون یا اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کو گالیاں نہیں دیتے۔ اس قوم کی بری شخصیت کو ھی برا کہتے تھے۔ جیسے بلوچوں میں خیر بخش مری ' ھربیار مری ' اکبر بگٹی ' برھمداد بگٹی۔ پختونوں میں غفار خان ' ولی خان ' اسفند یار ' محمود خان اچکزئی۔ سندھیوں میں جی - ایم - سید۔ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں میں لیاقت علی خان ' الطاف حسین ' پرویز مشرف۔ لیکن پنجابیوں نے نہ تو عام بلوچ ‘ پختون یا اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کو گالیاں دیں اور نہ پنجاب میں پنجابیوں نے بلوچ ‘ پختون یا اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کو قتل کیا ' نہ ظلم و زیادتی کی ' نہ خوف زدہ کیا ' نہ انکی زمین جائیداد پر قبضہ کیا ' نہ پنجاب میں کاروبار کرنے سے روکا۔ نہ بلوچ ‘ پختون یا اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر قوم کو گالیاں دیں۔ لیکن عام بلوچ ‘ پختون اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر نے پنجابی کے ساتھ یہ سب کچھ کیا اور اپنے علاقے میں کیا۔

پنجابیوں نے بلوچ ‘ پختون اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کو اور انکے علاقے کو سازشیں کرکے زبان کے لہجوں اور برادریوں میں تقسیم کرنے کی کوشش نہیں کی لیکن بلوچ ‘ پختون اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر یہ کر رھے ھیں۔ اب چونکہ پنجابی بھی پنجابی قوم پرستی کی طرف راغب ھوتے جارھے ھیں۔ اس لیے پنجابی قوم کی طرف سے بلوچ ‘ پختون اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کے ساتھ تھوڑا بہت جوابی ردِ عمل ھوسکتا ھے۔ تاکہ بلوچ ‘ پختون اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کو اندازہ ھو جائے کہہ جو کچھ بلوچ ‘ پختون اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر نے پنجابی کے ساتھ کرنا شروع کیا ھوا ھے ' ویسا ھی کچھ اگر پنجابی قوم نے بھی شروع کردیا تو پھر بلوچ ‘ پختون اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کو کیا حفاظتی یا جوابی اقدامات کرنے ھونگے؟

بلوچ ‘ پختون اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر  کے لیے اب چارہ یہ ھی بچا ھے کہ پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دینے کی صدا پنجاب نہ پہنچنے دیں اور اپنے اپنے علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی اطلاع پنجاب نہ پہنچنے دیں۔ اپنے اپنے سیاسی رھنماؤں کے گلے میں پٹہ ڈالیں اور اپنے اپنے علاقے میں جن پنجابیوں کی زمین اور جائیدار پر قبضے کر چکے ھیں ' وہ واپس کردیں۔ جن پنجابیوں کو قتل کرچکے ھیں انکا خون بہا دے دیں۔ جن جن پنجابیوں پر ظلم اور زیادتی کی ھے اسکی تلافی کردیں۔

بلوچ ‘ پختون اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کو چاھیئے کہ جس پنجابی شخصیت کی وجہ سے انکو نقصان ھوا ھو یا ھو رھا ھو ' بلوچ ‘ پختون اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اس شخصیت کا نام لیکر الزام لگائیں اور اس شخصیت کے خلاف محاذ آرائی کریں۔ لیکن پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کرنے والوں پر نظر رکھیں۔ پنجاب اور پنجابیوں کو گالیاں دینے یا الزام تراشیاں کرنے والوں پر نظر رکھیں۔ ٹی وی ٹاک شو پر نظر رکھیں۔ اخبارات پر نظر رکھیں۔ بلکہ فیس بک پر بھی نظر رکھیں کہ کوئی بلوچ ‘ پختون اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر سیاستدان ' صحافی اور دانشور پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں تو نہیں دے رھا یا الزاماتت تو نہیں لگا رھا۔ تاکہ پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دینے یا الزام تراشیاں کرنے کی صدا پنجاب نہ پہنچنے اور پنجابیوں کے ساتھھ ظلم اور زیادتی کی اطلاع اب پنجاب نہ پہنچنے۔ ورنہ جوابی ردِ عمل بہت شدید ھوگا۔