Wednesday, 8 February 2017

فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں شامل کرنے سے پہلے "ھندکو ڈیرہ" صوبہ بنایا جائے۔

افغانستان اور پاکستان میں پشتونوں کی کل آبادی 3 کروڑ 50 لاکھ ھے۔ صرف ایک کروڑ پشتون افغانستان میں بچے ھیں جبکہ 2 کروڑ 50 لاکھ پشتون پاکستان میں آچکے ھیں۔ جن میں سے 50 لاکھ پشتون پنجاب ' سندھ اور کراچی میں ھیں۔ 2 کروڑ پشتون فاٹا ' بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں ھیں۔

افغانستان کے ایک کروڑ پشتونوں کے ساتھ مسئلہ یہ ھے کہ افغانستان میں پشتونوں کی تعداد کم ھوجانے کی وجہ سے تاجک ' ھزارہ ' ایمک ' ازبک ' ترکمان نے افغانستان کے پشتونوں پر اپنا سیاسی ' سماجی اور معاشی تسلط قائم کیا ھوا ھے۔

فاٹا ' بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں رھنے والے پشتونوں کے ساتھ خیبر پختونخواہ میں مسئلہ یہ ھے کہ ایک تو معاشی طور پر مستحکم علاقوں پر ابھی تک ھندکو پنجابیوں کا کنٹرول ھے۔ دوسرا ھندکو پنجابیوں کا پشتونوں کے سیاسی اور سماجی تسلط سے نجات کی جدوجہد میں روز با روز اضافہ ھوتا جارھا ھے اور اس جدوجہد میں اب خیبر پختونخواہ کے ڈیرہ والی پنجابیوں اور دیگر ٖ غیر پشتونوں نے بھی ھندکو پنجابیوں کا ساتھ دینا شروع کردیا ھے۔ بلوچستان میں پشتونوں کو بلوچوں نے اپنے سیاسی ' سماجی اور معاشی تسلط میں رکھا ھوا ھے۔ فاٹا میں معاشی وسائل نہیں ھیں۔

پنجاب ' سندھ اور کراچی میں رھنے والے پشتونوں کے ساتھ مسئلہ یہ ھے کہ قلیل تعداد میں ھونے کی وجہ سے پنجاب میں پنجابی ' سندھ میں سندھی اور کراچی میں مھاجر پر اپنا سیاسی ' سماجی اور معاشی تسلط قائم نہیں کر سکتے۔ اس لیے پنجاب ' سندھ اور کراچی میں اپنی تعداد بڑھانے کے لیے اگر خیبر پختونخواہ اور بلوچستان سے پشتونوں کو پنجاب ' سندھ اور کراچی میں لاتے ھیں تو خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں پشتونوں کی تعداد کم ھوجاتی ھے۔ جسکی وجہ سے بلوچستان میں پشتونوں پر بلوچوں کے سیاسی ' سماجی اور معاشی تسلط میں مزید اضافہ ھوجاتا ھے۔ جبکہ خیبر پختونخواہ میں ھندکو پنجابیوں ' ڈیرہ والی پنجابیوں اور دیگر ٖ غیر پشتونوں کی پشتونوں کے سیاسی ' سماجی اور معاشی تسلط سے نجات کی جدوجہد میں مزید اضافہ ھوجاتا ھے۔

خیبر پختونخواہ میں چونکہ ھندکو پنجابیوں کے علاوہ ڈیرہ والی پنجابیوں اور دیگر ٖ غیر پشتونوں کی بھی بڑی تعداد ھے۔ اس لیے پشتون قوم پرست اشرافیہ کی اب سازش ھے کہ فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں شامل کروا دیا جائے تاکہ خیبر پختونخواہ سے پشتونوں کے پنجاب ' سندھ اور کراچی میں جانے کی وجہ سے خیبر پختونخواہ میں پشتونوں کی تعداد کم نہ ھو اور خیبر پختونخواہ میں ھندکو پنجابیوں ' ڈیرہ والی پنجابیوں اور دیگر غیر پشتونوں پر پشتونوں کی سیاسی ' سماجی اور معاشی بالادستی قائم رھے۔

فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں شامل کرنے کی سازش سے خیبر پختونخواہ میں پہلے سے ھی پشتونائزیشن کا شکار ھندکو پنجابیوں ' ڈیرہ والی پنجابیوں اور دیگر غیر پشتونوں کو پشتونوں کے مزید سیاسی ' سماجی اور معاشی تسلط کا نشانہ بننا پڑے گا۔ جبکہ خیبر پختونخواہ سے مزید پشتونوں کے پنجاب ' سندھ اور کراچی میں جاکر آباد ھونے سے کی وجہ سے پنجاب میں پنجابی ' سندھ میں سندھی اور کراچی میں مھاجر کے ساتھ پشتونوں کے سیاسی ' سماجی اور معاشی ٹکراؤ میں مزید اضافہ ھوگا۔ اس لیے فاٹا کو اگر خیبر پختونخواہ میں شامل کرنا ھے تو پھر پہلے ھندکو پنجابیوں ' ڈیرہ والی پنجابیوں اور دیگر ٖغیر پشتونوں کے علاقوں کو خیبر پختونخواہ میں سے نکال کر "ھندکو ڈیرہ"  یا "ڈیرہ ھندکو"  کے نام سے ایک الگ صوبہ بنادیا جائے۔

پچھلے ھزار سال کی تاریخ بتاتی ھے کہ پشتونوں نے اپنی دھرتی افغانستانی کو ترقی دے کر حلال رزق کے ذرائع پیدا کرنے کے بجائے مسلمان کا روپ دھار کر دوسری قوموں کی دھرتی پر قبضے اور وسائل کی لوٹ مار کرنے کے بعد مسلمان کے بجائے قوم پرست پشتون بن کر اس دھرتی کو اپنی دھرتی اور اس قوم کے وسائل کو اپنے وسائل قرار دیا اور مقبوضہ قوم پر الزام تراشی شروع کردی کہ وہ پشتونوں کے ساتھ ظلم ' زیادتی اور نا انصافی کرتی ھے۔

1837 میں مھاراجہ رنجیت سنگھ کے انتقال کے بعد برطانیہ نے 2 اپریل 1849 کو پنجاب پر قبضہ کرلیا اور1901 میں پنجاب میں سے ایبٹ آباد ' بنوں ' بٹگرام ' تور غر ' شانگلہ ' صوابی ' لکی مروت ' مالاکنڈ ' مانسہرہ ' مردان ' نوشہرہ ' ٹانک ' پشاور ' چارسدہ ' ڈیرہ اسماعیل خان ' کرک ' کوھاٹ ' کوھستان ' ھری پور ' ھزارہ ' ھنگو کو پنجاب سے الگ کرکے شمال مغربی سرحدی صوبہ کے نام سے ایک الگ صوبہ بنا دیا۔

شمال مغربی سرحدی صوبہ کو 1901 سے لیکر 2010 تک عمومی طور پر صوبہ سرحد کہا جاتا رھا۔ لیکن 2010 میں آصف زرداری اور اسفندیار ولی نے اٹھارویں ترمیم کے وقت پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے ھونے کی وجہ سے سازش کرکے پاکستان کے آئین میں صوبے کا نام  سرحد کے بجائے خیبر پختونخواہ کروا لیا اور اس تاریخی حقیقت کو نظر انداز کردیا کہ صدیوں پہلے سے ھی اس صوبہ کا علاقہ ھندکو پنجابیوں کا ھے۔ جہاں افغانستان سے آکر پشتون قبضہ کرتے رھے ھیں۔

بحرحال پشتونوں کے اپنی دھرتی افغانستانی کو ترقی دے کر حلال رزق کے ذرائع پیدا کرنے کے بجائے دوسری قوموں کی دھرتی پر قبضے اور وسائل کی لوٹ مار کرنے کے لالچ کا نتیجہ یہ نکلا ھے کہ اس وقت 3 کروڑ 50 لاکھ پشتون ' افغانستان ' فاٹا ' بلوچستان ' خیبر پختونخواہ ' پنجاب ' سندھ اور کراچی میں بکھر چکے ھیں۔ اس لیے پشتونوں کا افغانستان میں تاجک ' ھزارہ ' ایمک ' ازبک ' ترکمان کے ساتھ ' خیبر پختونخواہ میں ھندکو پنجابیوں کے ساتھ ' بلوچستان میں بلوچوں کے ساتھ ' پنجاب میں پنجابیوں  کے ساتھ ' سندھ میں سندھیوں  کے ساتھ اور کراچی میں مھاجروں  کے ساتھ سیاسی ' سماجی اور معاشی ٹکراؤ ھے۔ اس لیے پشتونوں کا نہ صرف اپنے وطن افغانستان بلکہ بلوچستان ' خیبر پختونخواہ ' پنجاب ' سندھ اور کراچی میں بھی سیاسی ' سماجی اور معاشی مستقبل تاریک ھی نظر آتا ھے۔

پشتونوں کو چاھیئے کہ دوسری قوموں کی دھرتی پر قبضے اور وسائل کی لوٹ مار کرنے کے لالچ میں خیبر پختونخواہ میں ھندکو پنجابیوں' ڈیرہ والی پنجابیوں اور دیگر ٖ غیر پشتونوں ' بلوچستان میں بلوچوں ' پنجاب میں پنجابیوں ' سندھ میں سندھیوں اور کراچی میں مھاجروں  کے ساتھ سیاسی ' سماجی اور معاشی ٹکراؤ کرنے کے بجائے اپنی دھرتی افغانستان اور فاٹا کو ترقی دے کر حلال رزق کے ذرائع پیدا کریں۔