Monday, 13 June 2016

پاکستان کو اب بھارت کے ساتھ بھرپور پراکسی جنگ لڑنا ھوگی۔

پاکستان تو پنجابی ' سندھی ' ھندکو اور براھوی بولنے والوں کا ملک ھے اور پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی ھے لیکن بھارت تو ھندی ' تیلگو ' تامل ' ملایالم ' مراٹھی ' گجراتی ' راجستھانی ' کنڑا ' اڑیہ ' آسامی ' بھوجپوری ' بنگالی اور پنجابی قوموں کا علاقہ ھے ' جہاں 25٪ آبادی ھندی ھے لیکن 75٪ آبادی ھندی نہیں ھے۔ پاکستان کی 60٪ آبادی ھونے کی وجہ سے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ میں تو پنجابیوں کی ھی اکثریت ھونی تھی لیکن بھارت میں ھندوستانیوں (اترپردیش کے ھندی بولنے والے گنگا جمنا تہذیب و ثقافت والے) نے بھارت کی 75٪ آبادی کو ھندی اسٹیبلشمنٹ اور ھندی زبان کے ذریعے مغلوب کیا ھوا ھے۔ بھارت میں اقلیت میں ھونے کے باوجود ھندوستانیوں نے ھندی اسٹیبلشمنٹ کے غلبے کے علاوہ ھندی زبان کا بھی غلبہ کیا ھوا ھے اور ھندوستانی میڈیا پر بھی غلبہ ھندی زبان کا ھی ھے لیکن پاکستان میں اکثریت میں ھونے کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ میں تو پنجابیوں کی اکثریت ھے لیکن زبان کے لحاظ سے پاکستان میں غلبہ اردو زبان کا ھے ' جو کہ اصل میں ھندی زبان ھی ھے۔ پاکستانی میڈیا پر بھی غلبہ اردو زبان کا ھی ھے۔

بھارت کی 25٪ آبادی کی ھندی اسٹیبلشمنٹ نے چونکہ بھارت کی 75٪ آبادی تیلگو ' تامل ' ملایالم ' مراٹھی ' گجراتی ' راجستھانی ' کنڑا ' اڑیہ ' آسامی ' بھوجپوری ' بنگالی ' ھندو پنجابی اور سکھ پنجابی کو مغلوب کیا ھوا ھے۔ اس لیے ایک طرف تو بھارت کی 75٪ آبادی پر مشتمل ان قوموں کا دھیاں بھارت کی 25٪ ھندی آبادی کی بالادستی سے ھٹا کر رکھنے کے لیے انہیں پاکستان کے خوف میں مبتلا رکھنے کے لیے ' پاکستان کو انتہا پسند مسلمان ملک ھونے کا پروپیگنڈہ کرکے ' پاکستانی مسلمانوں کو ھندوؤں کا انتہائی دشمن ھونے کا تاثر دیکر ' پاکستان کے ساتھ جنگی ماحول کی حکمت عملی بنائی ھوئی ھے اور بھارت کی 25٪ ھندی آبادی کے ھاتھوں مغلوب بھارت کی 75٪ آبادی تیلگو ' تامل ' ملایالم ' مراٹھی ' گجراتی ' راجستھانی ' کنڑا ' اڑیہ ' آسامی ' بھوجپوری ' بنگالی ' ھندو پنجابی اور سکھ پنجابی کو طفل تسلیاں دیتی رھتی ھے کہ پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے گا۔ دوسرا بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کو سماجی ' معاشی ' سیاسی ' انتظامی طور پر انتشار میں مبتلا رکھنے کے لیے پاکستان میں پراکسی جنگ کرکے ' پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو پنجابی اسٹیبلشمنٹ قرار دلوا کر ' پنجاب کو غاصب قرار دلوا کر ' پاکستان کو پنجابستان قرار دلوا کر ' پاکستان ' پنجاب اور پنجابی قوم کے خلاف نفرت کا ماحول قائم کرواکر ' پاکستان کے اندر ' افغانی بیک گراؤنڈ پشتو بولنے والوں کو پشتونستان بنانے ' کردستانی بیک گراؤنڈ بلوچی بولنے والوں کو آزاد بلوچستان بنانے ' یوپی ' سی پی کے ھندوستانی بیک گراؤنڈ اردو بولنے والے مھاجروں کو جناح پور بنانے کی راہ پر ڈالنے کی سازش شروع کی ھوئی ھے۔

بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ ' اس طرح کی سازش کے ذریعے ' ماضی میں لسانی پراکسی جنگ کرکے ' مشرقی پاکستان میں ' 1971 میں بنگالی قوم کو پاکستان سے الگ کرنے میں کامیاب ھوچکی ھے لیکن 1971 میں نہ پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ پنجابی کے پاس تھی اور نہ ملٹری لیڈرشپ۔ 1971 میں پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ بنگالی مجیب الرحمٰن اور سندھی بھٹو کے پاس تھی جبکہ پاکستان کی ملٹری لیڈرشپ میں کلیدی قردار اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جرنیلوں اور پٹھان جرنیلوں کا تھا۔ جبکہ پاکستان کا سربراہ بھی پٹھان یحیٰ خان تھا۔ پنجابی کے پاس تو پاکستان کی ملٹری لیڈرشپ 1975 میں جنرل ضیاؑالحق کے پاکستان کی فوج کے پہلے پنجابی چیف آف آرمی اسٹاف بننے کے بعد آئی۔ جبکہ پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ 1988 میں نوازشریف کے پاکستان مسلم لیگ کا صدر بننے کے بعد ' 1990 میں پاکستان کا وزیرِاعظم بننے کے بعد ائی۔ جب 1971 میں بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ نے بنگالی قوم کو پاکستان سے الگ کرنے کی لسانی پراکسی جنگ شروع کی تو اس کے جواب میں پاکستان کو بھی مشرقی پنجاب اور کشمیر میں لسانی پراکسی جنگ کرنی چاھیئے تھی لیکن اس وقت پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ اور ملٹری لیڈرشپ پنجابی کے پاس نہیں تھی۔ جبکہ پاکستان کی ملٹری لیڈرشپ میں موجود اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جرنیلوں ' پٹھان جرنیلوں اور مغربی پاکستان کے سیاسی لیڈر ' سندھی بھٹو نے بھارت میں لسانی پراکسی جنگ کرنے سے گریز کیا کیونکہ بھارت میں لسانی پراکسی جنگ کرکے بھارتی پنجاب اور کشمیر کو بھارت سے الگ کرکے پاکستان میں شامل کرنے سے پاکستان میں پنجابیوں کی آبادی کے 60٪ سے بڑہ کر 85٪ ھوجانے کی وجہ سے غیر پنجابی ھونے کی بنا پر وہ خوفزدہ تھے۔

ھندوستانی مھاجر ' کردستانی بلوچ اور افغانستانی پٹھان ' پنجابی قوم اور پاکستان کے دوست نہیں ھیں۔ اسی لیے پنجابی قوم اور پاکستان سے دشمنی کرتے رھے ھیں۔ جبکہ سماٹ قوم ' بروھی قوم ' ھندکو قوم ' پنجابی قوم اور پاکستان کے دشمن نہیں ھیں۔ پنجاب ' پنجابی قوم کا ھے۔ سندھ ' سماٹ قوم کا ھے۔ (بلوچ کردستانی ھیں اور مھاجر ھندوستانی ھیں)۔ بلوچستان ' بروھی قوم کا ھے۔ (بلوچ کردستانی ھیں)۔ خیبر پختونخواہ ' ھندکو قوم کا ھے (پٹھان افغانستانی ھیں)۔ پنجابی قوم ' سماٹ کو سندھ ' بروھی کو بلوچستان ' ھندکو کو خیبر پختونخواہ کے اصل باشندے سمجھتی ھے۔ پنجابی قوم اب مستقبل میں اپنے تعلقات سماٹ قوم ' بروھی قوم ' ھندکو قوم کے ساتھ رکھے گی۔ سماٹ قوم ' بروھی قوم ' ھندکو قوم کو اپنے اپنے علاقے میں مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے قومی معاملات میں بھی ساتھ رکھے گی۔ پنجابی قوم کی طرف سے اب پاکستان کے وفاقی اداروں میں ھندوستانی مھاجر ' کردستانی بلوچ اور افغانستانی پٹھان کی جگہ سماٹ قوم ' بروھی قوم اور ھندکو قوم کے افراد کو مستحکم کیا جائے گا۔

پاکستان میں ابھی تک زبان کے لحاظ سے غلبہ اردو زبان کا ھی ھے اور پاکستانی میڈیا پر بھی غلبہ اردو زبان کا ھی ھے۔ اردو زبان کے غلبے کو ختم کرکے پنجابی ' سندھی ' ھندکو اور براھوی زبانوں کو پاکستان میں فروغ دینے کا مرحلہ اب آنے والا ھے۔ بحرحال ' اس وقت پاکستان کی ملٹری لیڈرشپ اور پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ پنجابی کے پاس ھے۔ اس لیے بھارت میں اتنی ھمت نہیں ھے کہ اب پاکستان کے ساتھ سرحدی جنگ کرسکے۔ کیونکہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت اور دنیا کی چھٹی بڑی فوجی طاقت ھے۔ جبکہ پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی ھونے کی وجہ سے پاکستان کی فوج کا بڑا حصہ بھی پنجابی ھے۔ ھزاروں سالوں سے پنجابی ایک جنگجو قوم ھے اور جنگ کرنے سے گھبراتی نہیں ھے۔ بھارت اور پاکستان کی سرحدی جنگ ھونے کی صورت میں جنگ پاکستانی اور بھارتی پنجاب کے علاقے میں ھونی ھے۔ چونکہ پنجابی قوم پرستی روز بروز بڑھتی جارھی ھے اور بھارت کے قبضے سے سکھ پنجابی اور ھندو پنجابی اب آزاد ھونا چاھتے ھیں۔ اس لیے اب بھارت اور پاکستان کی جنگ میں بھارت کے سکھ پنجابیوں اور ھندو پنجابیوں نے بھی پاکستان کے پنجابی اکثریتی ملک ھونے کی وجہ سے بھارت کے بجائے پاکستان کا ساتھ دینا ھے۔ جبکہ بھارت کی فوج میں بھی سکھ پنجابیوں اور ھندو پنجابیوں کی اکثریت ھے۔

بھارت کے پاکستان کے ساتھ سرحدی جنگ نہ کرسکنے کی وجہ سے بھارت نے پاکستان کے اندر اپنی پہلے سے جاری پراکسی جنگ کو اب بڑھا دینا ھے۔ اس لیے پاکستان کو بھی اب سرحدی جنگ کی تیاری کے ساتھ ساتھ بھارت کی پاکستان کے اندر جاری بھارتی پراکسی جنگ کے کھلاڑیوں کو ختم کرنا ھوگا اور بھارت کے اندر پراکسی جنگ بھی کرنا پڑے گی۔ پاکستان کی پنجابی ملٹری لیڈرشپ اور پنجابی سیاسی لیڈرشپ ' بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے پاکستان میں پراکسی جنگ کے ذریعے پشتونستان ' آزاد بلوچستان اور جناح پور بنانے کی سازش کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی پراکسی جنگ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھنی ھے۔ اس لیے بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ کی پراکسی جنگ کے ذریعے پاکستان میں آزاد بلوچستان ' جناح پور اور پشتونستان بنانے کی سازش کا ناکام ھونا ' نہ صرف یقینی ھے بلکہ بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ کو سبق سکھانے کے لیے پاکستان کی پراکسی جنگ کے نتیجے میں 2020 تک بھارت کے اندر آزاد بلوچستان کی پراکسی جنگ کے بدلے میں کشمیر ' جناح پور کی پراکسی جنگ کے بدلے میں تامل ناڈو ' پشتونستان کی پراکسی جنگ کے بدلے میں ناگالینڈ جبکہ مشرقی پاکستان میں پراکسی جنگ کرکے 1971 میں بنگالی قوم کو پاکستان سے الگ کرنے کے بدلے میں خالصتان ' اب آزاد ملک بن کر ھی رھنے ھیں۔ کشمیر ' تامل ناڈو ' ناگالینڈ اور خالصتان کی آزادی تو اب ھونی ھی ھے لیکن انکے علاوہ بھی بھارت کی جو جو قوم ھندوستانیوں (اترپردیش کے ھندی بولنے والے گنگا جمنا تہذیب و ثقافت والوں) سے آزاد ھونا چاھتی ھے ' اس کو بھی آزادی مل جانی ھے۔

جبکہ پاکستان کے اندر جاری پراکسی جنگ کے کھلاڑیوں کو ختم کرنے کے لیے؛

1۔ پاکستان کے اندر بھارت کے ایجنٹ بن کر ' بھارت کی پراکسی جنگ کی حکمت عمل کے مطابق بھارت کی پراکسی جنگ کے کھلاڑیوں کو پالیسی بنا کر دینے والے پاکستان کی فارن افیئرس ' ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سول بیوروکریسی سے ریٹائرڈ افسروں کا ' ملک دشمنی کا جرم کرنے کی وجہ سے جنگی بنیادوں پر خاتمہ کردیا جائے۔

2۔ پاکستان کے اندر بھارت کے ایجنٹ بن کر ' بھارت کی پراکسی جنگ کی حکمت عمل کے مطابق بھارت کی پراکسی جنگ کے کھلاڑیوں کی سرپرستی کرنے والے پاکستان کی فارن افیئرس ' ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سول بیوروکریسی میں موجود افسروں کا ' ملک دشمنی کا جرم کرنے کی وجہ سے جنگی بنیادوں پر خاتمہ کردیا جائے۔

3۔ پاکستان کے اندر بھارت کے ایجنٹ بن کر ' بھارت کی پراکسی جنگ کی حکمت عمل کے مطابق سیاسی انتشار پھیلانے والے سیاسی رھنماؤں کا ' ملک دشمنی کا جرم کرنے کی وجہ سے جنگی بنیادوں پر خاتمہ کردیا جائے۔

4۔ پاکستان کے اندر بھارت کے ایجنٹ بن کر ' بھارت کی پراکسی جنگ کی حکمت عمل کے مطابق سماجی انتشار پھیلانے والے سماجی رھنماؤں کا ' ملک دشمنی کا جرم کرنے کی وجہ سے جنگی بنیادوں پر خاتمہ کردیا جائے۔

5۔ پاکستان کے اندر بھارت کے ایجنٹ بن کر ' بھارت کی پراکسی جنگ کی حکمت عمل کے مطابق انتشار پھیلانے والوں کو مظلوم بناکر ایڈورٹائز کرنے کی سہولتیں فراھم کرنے والے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کے کھلاڑیوں کا ' ملک دشمنی کا جرم کرنے کی وجہ سے جنگی بنیادوں پر خاتمہ کردیا جائے۔

6۔ پاکستان کے اندر بھارت کے ایجنٹ بن کر ' بھارت کی پراکسی جنگ کی حکمت عمل کے مطابق پروپگنڈہ کرکے انتشار پھیلانے والے ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنس اور اسکلڈ پروفیشنس کے کھلاڑیوں کا ' ملک دشمنی کا جرم کرنے کی وجہ سے جنگی بنیادوں پر خاتمہ کردیا جائے۔

7۔ پاکستان کے اندر بھارت کے ایجنٹ بن کر ' بھارت کی پراکسی جنگ کی حکمت عمل کے مطابق جرائم کرکے انتشار پھیلانے والے جرائم پیشہ اور غیر قانونی کاروبار کرنے والے کھلاڑیوں کا ' ملک دشمنی کا جرم کرنے کی وجہ سے جنگی بنیادوں پر خاتمہ کردیا جائے۔