Friday, 17 June 2016

پاکستان کی سیاست میں پنجابی سیاستدان کیا کریں؟

پاکستان میں قومی اسمبلی کی 272 نشستیں ھیں ' جن میں سے 150 صرف پنجاب سے ھیں۔ دیہی سندھ کی قومی اسمبلی میں 41 اور کراچی کی قومی اسمبلی میں 20 نشستیں ھیں. بلوچستان کی 14 اور فاٹا کی 12 نشستں ھیں۔ کے پی کے کی 35 نشستیں ھیں۔

دیہی سندھ کے بلوچ نزاد سندھیوں ' سید نزاد سندھیوں اور کراچی کے اردو بولنے والے مھاجروں کو پنجاب اور پنجابیوں کو بلیک میل کرکے پاکستان کی وفاقی حکومت پر قبضہ کرکے پنجاب اور پنجابیوں پر حکومت کرنے کی عادت پڑی ھوئی ھے۔ اس لیے دیہی سندھ کی سیاسی پارٹی پی پی پی اور کراچی کی سیاسی پارٹی ایم کیو ایم نے پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف سازشوں اور شرارتوں سے باز نہیں آنا۔ جبکہ پنجابی قوم کے سیاستدان کو دیہی سندھ میں رھنے والے بلوچ نزاد سندھیوں ' سید نزاد سندھیوں اور کراچی میں رھنے والے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے  والے مھاجروں کی پسند ناپسند کا خیال رکھنے کے چکر میں پڑنے کے باوجود بھی انکا مینڈیٹ نہیں ملنا۔

اس لیے پنجابی قوم کے سیاستدانوں کے لیے سیاسی طور پر مناسب یہ ھے کہ پنجاب کی 150 '  کے پی کے کی  35 ' بلوچستان کی 14 اور فاٹا کی 12 نشستوں پر دھیان دیں۔ دیہی سندھ کی 41 نشستوں والے سندھیوں اور کراچی کی 20 نشستوں والے مھاجروں کو فی الحال انکے حال پر چھوڑ دیں۔ تاکہ وہ اپنی مرضی سے ' اپنی پسند کی صوبائی اور مقامی حکومتیں قائم کرکے اپنے صوبائی اور مقامی مسائل خود ھی حل کریں ' یا نہ کریں۔ کیونکہ فی الحال انہوں نے پنجاب ' پنجابی اور پنجابی قوم پر تنقید کرنے سے باز نہیں آنا۔ اس لیے ان پر دھیان دیا گیا تو بھی تنقید کریں اور اگر دھیان نہ دیا گیا تو بھی تنقید ھی کریں گے۔ اس لیے پنجابی قوم کے سیاستدانوں کو خاہ مخواہ اپنا وقت ضائع کرنے کا فائدہ کیا ھوگا؟

پنجابی قوم کے سیاستدانوں کو اس بات پر دھیان رکھنا چاھیئے کہ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' کردستانی بلوچ اور افغانستانی پٹھان ' پنجابی قوم اور پاکستان کے دوست نہیں ھیں جبکہ سماٹ قوم ' بروھی قوم ' ھندکو قوم ' پنجابی قوم اور پاکستان کے دشمن نہیں ھیں۔

پنجابی قوم کے سیاستدان پنجاب کی 150 '  کے پی کے کی  35 ' بلوچستان کی 14 اور فاٹا کی 12 نشستوں میں سے ھی 137 نشستیں لے کر آسانی کے ساتھ وفاقی حکومت بنا سکتے ھیں۔ اس لیے  کے پی کے کی  35 میں سے جن نشستوں پر کے پی کے ' کے اصل باشندے ھندکو ' بلوچستان کی 14 نشستوں  میں سے جن نشستوں پر بلوچستان کے اصل باشندے بروھی اور فاٹا کی 12 نشستوں پر منتخب ھونے والے قبائلی رھنماؤں کو ' پاکستان کی وفاقی حکومت میں شریک کرکے پاکستان کے اصل باشندوں پنجابی ' ھندکو اور بروھی میں سیاسی اتفاق اور اتحاد پیدا کرکے پاکستان میں سیاسی استحکام قائم کریں۔

پاکستان کے اصل باشندوں پنجابی ' ھندکو اور بروھی میں سیاسی اتفاق اور اتحاد پیدا ھونے کے بعد سندھ کے اصل باشندوں ' سماٹ سندھیوں کو بھی وفاقی حکومت میں شریک کرکے پاکستان کے اصل باشندوں پنجابی ' ھندکو اور بروھی کے سیاسی اتفاق اور اتحاد میں شریک کرکے پاکستان کے اصل باشندوں ھندکو ' بروھی اور سماٹ کو سیاسی ' سماجی اور معاشی طور پر مظبوط کرکے افغانی نزاد پٹھانوں ' کردستانی نزاد بلوچوں اور ھندوستانی نزاد یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مھاجروں کی سیاسی ' سماجی ' معاشی بالاتری سے نجات دلوائی جاسکے۔ جبکہ افغانی نزاد پٹھانوں ' کردستانی نزاد بلوچوں اور ھندوستانی نزاد یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مھاجروں سے پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف سازشوں اور شرارتوں سے بھی نجات حاصل کرکے پاکستان میں سیاسی اور سماجی استحکام پیدا کرکے پاکستان کی معاشی اور اقتصادی ترقی کی جاسکے۔

خیبرپختونخواھ کا علاقہ افغان قوم اور پنجابی قوم کے درمیان بفر زون ھے۔ جس میں مختلف قبائل رھائش پذیر ھیں۔ ان قبائل کو قوم نہیں کہا جاسکتا۔ البتا ھندکو قبائل کے افراد خیبرپختونخواھ کے اصل باشندے ھیں۔

بلوچستان کا علاقہ ایرانی قوم اور پنجابی قوم کے درمیان بفر زون ھے۔ جس میں مختلف قبائل رھائش پذیر ھیں۔ ان قبائل کو قوم نہیں کہا جاسکتا۔ البتا براھوی قبائل کے افراد بلوچستان کے اصل باشندے ھیں۔

سندھ کا علاقہ ایک ایسی کالونی ھے۔ جس میں سماٹ قبائل کے علاوھ بلوچ ' سید ' پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' پٹھان ' گلگتی ' کشمیری ' سواتی ' راجستھانی ' گجراتی ' یوپی والے ' سی پی والے ' بہاری وغیرھ بے شمار برادریاں آباد ھیں۔ اس لیے ان برادریوں کو قوم نہیں کہا جاسکتا۔ البتا سماٹ قبائل کے افراد سندھ کے اصل باشندے ھیں۔

پاکستان میں قوم صرف پنجابی ھی ھے اور پنجابی قوم کی آبادی پاکستان کی کل آبادی کا 60٪ ھے۔ اس لیے پنجابی قوم کے سیاستدان اب یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' کردستانی بلوچ اور افغانستانی پٹھان کی جگہ سندھ سے سماٹ قبائل ' بلوچستان سے بروھی قبائل اور کے پی کے سے ھندکو قبائل کے افراد کو پاکستان کے وفاقی اداروں میں   شامل کرنے کی کوشش اور جدوجہد کریں تاکہ پاکستان کے اصل باشندوں پنجابی ' ھندکو ' بروھی اور سماٹ کو سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی طور پرمظبوط بنا کر پاکستان کو اقتصادی طور پر مظبوط اور مستحکم ملک بنایا جائے۔