Monday, 27 June 2016

پاکستان میں اردو زبان کا کرشمہ کیا ھے؟

14 اگست 1947 کو پاکستان بنا اور 21 مارچ 1948کو رمنا ریس کورس ڈھاکہ میں جناح صاحب نے انگریزی زبان میں اکثریتی زبان بولنے والے بنگالیوں سے کہہ دیا کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو اور صرف اردو ھو گی اور اس بات کی مخالفت کرنے والے ملک دشمن تصور ھونگے۔

بس اس کے بعد کیا تھا؟

اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے پاکستان کے اصل باشندوں بنگالی ' پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کے اپنے اپنے لہجے میں اردو بولنے اور لکھنے پر تذلیل اور توھین کر کر کے اردو کے لہجے اور اردو کی املا کی درستگی کا سلسلہ شروع کردیا۔

بنگالی ' پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کی طرف سے اپنی زبان کے حق کی بات کرنے پر ملک دشمن قرار دیا جانے لگا۔

اردو بولنے والے ھندوستانی اھلِ زبان جبکہ بنگالی ' پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ بے زبان قرار پائے۔

اردو بولنے والے ھندوستانی تہذیب یافتہ جبکہ بنگالی ' پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ غیر تہذیب یافتہ قرار پائے۔

اردو بولنے والے ھندوستانی تعلیم یافتہ جبکہ بنگالی ' پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ جاھل قرار پائے۔

یہ اردو زبان کا ھی کرشمہ ھے کہ پاکستان کی آبادی کے 2٪ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے پاکستان کے قیام کے بعد بھارت سے آنے والے 6٪ گجراتی ' راجستھانی ' مراٹھی ' تیلگو ' تامل ' ملایالم ' کنڑا ' اڑیہ ' آسامی اور بھوجپوری بولنے والے مھاجروں پر اپنی سماجی بالادستی قائم کرکے انہیں اپنا سیاسی غلام بنایا ھوا ھے۔

یہ اردو زبان کا ھی کرشمہ ھے کہ پاکستان کی آبادی کے 12٪ سندھیوں ' 8٪ پٹھانوں ' 4٪ بلوچوں کی زبانوں کو انکی اپنی اپنی زمین پر بھی پلپنے نہیں دیا جارھا۔ اس لیے سندھیوں ' پٹھانوں اور بلوچوں کی اکثریت کے پاکستان کے صرف دیہی علاقوں میں مستقل رھنے کی وجہ سے ' نہ انکے تعلیمی معیار کو بڑھنے دیا جارھا ھے اور نہ انکو معاشی طور پر مستحکم ھونے دیا جارھا ھے۔

یہ اردو زبان کا ھی کرشمہ ھے کہ پاکستان کی آبادی کے 60٪ پنجابی اپنی ھی زمین پر اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے حق سے محروم ھونے کی وجہ سے اپنی ثقافت اور تہذیب بھول بھال کر سماجی احساسِ کمتری کا شکار ھوکر پاکستان میں اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے سماجی غلام بنے ھوئے ھیں اور پاکستان کے تعلیمی اداروں ' سرکاری دفتروں ' اسمبلیوں اور عوامی اجتماعات میں اپنی زبان پنجابی کے بجائے پنجابی لہجے میں اردو بول کر اپنا وقار اور اپنی قوم کی عزت مجروح کرتے رھتے ھیں۔