Wednesday, 15 June 2016

پنجابی قوم پرست قیادت کون تیار کرے اور کیسے تیار کرے؟

نواز شریف کے قومی لیڈر بننے سے پہلے تک پنجابی ' پنجاب اور پنجابی قوم کے دشمن لیڈروں لیاقت علی خان مھاجر ' مولانا مودودی مھاجر ' مولانا شاہ احمد نورانی مھاجر ' ایوب خان پٹھان ' ذالفقار علی بھٹو سندھی ' محمد خان جونیجو سندھی ' بے نظیر بھٹو سندھی کی جوتیاں اٹھاتے پھرتے تھے۔ یہ غیر پنجابی لیڈر اپنے لوگوں کو تو مھاجر ' پٹھان ' سندھی بننے کے درس دیا کرتے تھے اور پنجابیوں کو پاکستانی کہلوانے پر مجبور کیا کرتے تھے۔

نواز شریف نے قومی لیڈر بن کر پنجاب اور پنجابیوں کو غیر پنجابی لیڈروں کی محتاجی اور غلامی سے نجات دلوائی۔ جو پنجاب ' پنجابیوں اور پاکستان پر حکومت بھی کرتے تھے اور مھاجروں ' پٹھانوں ' سندھیوں اور بلوچوں سے پنجاب اور پنجابیوں کو گالیاں بھی دلواتے تھے۔

نواز شریف کے قومی لیڈر بننے کے بعد اب پنجاب میں اگر پنجابی قوم پرست لیڈرشپ نہیں بھی ھے تو کم از کم پنجاب اس وقت پنجاب سے باھر کے سیاستدانوں کی غلامی سے تو نجات حاصل کرچکا ھے ۔ اس طرح پنجاب اور پنجابی قوم کا آدھا مسئلہ حل ھوچکا ھے۔

جس طرح مھاجروں کے پاس الطاف حسین ' سندھیوں کے پاس زرداری اور پٹھانوں کے پاس عمران خان لیڈر کی شکل میں موجود ھیں۔ اسی طرح پنجابیوں کے پاس نواز شریف لیڈر کی شکل میں موجود ھے لیکن نواز شریف ابھی تک قوم پرست پنجابیوں کے معیار پر پورا نہیں اتر پارھا۔

اب مسئلہ یہ ھے کہ پنجابی قوم پرست قیادت کون تیار کرے اور کیسے تیار کرے؟ بحرحال اب یا تو نوازشریف کو پنجابی قوم پرست سیاست کی طرف لایا جائے یا کوئی دوسری پنجابی قوم پرست قیادت تیار کی جائے۔

پنجابی قوم پرست قیادت کی تیاری فوری طور پر نہیں ھوسکتی۔ پارٹی بنالینے سے قائد نہیں بنا جاسکتا۔ اسلیے پنجابی قوم پرست کارکنوں کے پاس اب کرنے کے دو کام ھیں:

1۔ جیسے کہ 69 سال کی جدوجہد کے بعد کہیں جاکر ' پنجاب کو ' پنجاب سے باھر کی سیاسی لیڈرشپ کے چنگل سے نجات دلوائی گئی ھے ' اس کو برقرار رکھا جائے۔

2۔ پنجابی قوم پرست قیادت تیار کی جائے۔