Saturday, 4 June 2016

گوادر پورٹ کو وفاقی حکومت کے ماتحت علاقہ قرار دیا جائے۔

بین الاقوامی بندرگاہ کے طور پر گوادر کی تعمیر اور پاک چائنا انرجی اینڈ ایکنومک کوریڈور دو الگ معاملات ھیں۔ خنجراب سے لیکر ایبٹ آباد تک کا علاقہ تو پاک چائنا انرجی اینڈ ایکنومک کوریڈور کے لیے ضروری ھے لیکن ایبٹ آباد سے لیکر گوادر تک پہنچنے کے لیے بہت سے راستے اختیار کیے جا سکتے ھیں۔ اس لیے پاک چائنا انرجی اینڈ ایکنومک کوریڈور جہاں چاھے بن جائے ' پنجاب کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ھے۔ کیونکہ پاک چائنا انرجی اینڈ ایکنومک کوریڈور پنجاب کی نہیں بلکہ چین کی ضرورت ھے۔

چین ' پاک چائنا انرجی اینڈ ایکنومک کوریڈور بنانا چاھتا ھے جبکہ امریکہ بننے نہیں دینا چاھتا۔ پاک چائنا انرجی اینڈ ایکنومک کوریڈور سے پنجاب کو نا فائدہ ھے اور نہ نقصان۔ کیونکہ پنجاب سے کراچی تک اور کراچی سے لیکر گوادر تک کا ھائی وے پہلے ہی بنا ھوا ھے ' جس کے ساتھ موٹر وے بھی بن رھا ھے۔ ویسے گوادر اگر نہ بھی بنے تو پنجاب کو کیا نقصان ھے؟ پنجاب کی ایکسپورٹ کے لیے تو کراچی بندرگاہ ھی کافی ھے۔

پاک چائنا انرجی اینڈ ایکنومک کوریڈور پر جو انڈسٹریل زونس بننے ھیں '  ان میں انڈسٹری تو صوبائی حکومتوں نے لگوانی ھے۔ انڈسٹریل زونس کے بنا دینے سے انڈسٹری خود تو لگ نہیں جانی۔ انڈسٹری تو سندھ میں سندھیوں ' کراچی میں مھاجروں 'خیبر پختونخواہ میں پٹھانوں اور بلوچستان میں بلوچوں کو ھی لگانی پڑنی ھے کیونکہ پنجابیوں کو تو سندھیوں نے سندھ سے 1970 سے ھی نکالنا شروع کردیا تھا۔ 1980 سے مھاجروں نے کراچی سے پنجابیوں کو نکالنا شروع کردیا۔ 1990 سے بلوچستان سے بھی پنجابیوں کی لاشیں پنجاب آرھی ھیں۔ اس لیے پنجابیوں نے تو بلوچستان ' خیبر پختونخواہ ' سندھ اور کراچی میں انڈسٹری لگانی نہیں۔ سندھیوں ' مھاجروں ' پٹھانوں اور بلوچوں نے ابتک تو انڈسٹری لکائی نہیں اور نہ آئندہ امید ھے کہ وہ انڈسٹری لگائیں گے۔

سندہ ' کراچی ' بلوچستان اور خیبرپختون خواہ کا کوئی بھی علاقہ پاکستان سے الگ تو ھو نہیں سکتا لیکن اگریکلچرل سیکٹر ' انڈسٹریل سیکٹر اور سروسز سیکٹر میں بھی مستحکم نہیں ھوسکتا کیونکہ سندھیوں ' مھاجروں ' پٹھانوں اور بلوچوں کا رحجان پنجاب کو بلیک میل کرنے میں تو ھے لیکن خود کو اگریکلچرل سیکٹر ' انڈسٹریل سیکٹر اور سروسز سیکٹر میں مستحکم کرنے میں دلچسپی نہیں ھے۔ انہوں نے تو لگی لگائی انڈسٹری اور سروسز سیکٹر سے بھتہ لینا ھوتا ھے۔ نوکریاں لینی ھوتی ھیں۔ ڈویلپڈ اگریکلچرل سیکٹر پر قبضہ کرنا ھوتا ھے۔ اگریکلچرل سیکٹر ' سروسز سیکٹر اور انڈسٹریل پروڈکشن کی وجہ سے جنریٹ ھونے والی روینیو کو اپنی آمدنی کہنا ھوتا ھے۔

پنجابیوں کو پاک چائنا انرجی اینڈ ایکنومک کوریڈور پر زیادہ دھیان دینے کے بجائے؛

پنجاب کے اگریکلچرل سیکٹر ' انڈسٹریل سیکٹر اور سروسز سیکٹر کو بہتر سے بہتر کرکے پنجاب میں روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے چاھیئں تاکہ پنجابی قوم معاشی اور اقتصادی طور پر مستحکم ھو سکے۔

پنجابی زبان کو پنجاب کی تعلیمی اور دفتری زبان بنوا کر پنجاب کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے پر دھیان دینا چاھیئے تاکہ پنجابی قوم علمی اور سماجی طور پر مستحکم ھو سکے۔

پنجابی قوم کو پنجاب سے باھر سندہ ' کراچی ' بلوچستان اور خیبرپختون خواہ میں سرمایہ کاری نہیں کرنی چاھیئے۔ سندھیوں ' مھاجروں ' پٹھانوں اور بلوچوں کو انکے حال پر چھوڑ دینا چاھیئے اور 1947 میں تقسیم ھوجانے والے پنجاب کو دوبارہ ایک کرنا چاھیئے تاکہ پنجابی قوم سیاسی اور فوجی محاذ پر مستحکم ھو سکے۔

بحرحال ! بین الاقوامی بندرگاہ کے طور پر گوادر کی تعمیر اور چین پاک چائنا انرجی اینڈ ایکنومک کوریڈور چونکہ دو الگ معاملات ھیں۔ اس لیے گوادر کو اگر تعمیر کرنا ھے تو پہلے گوادر کو وفاقی حکومت کے ماتحت علاقہ قرار دیا جائے۔ کیونکہ؛

پاکستان کی حکومت نے 1958ء میں گوادر اور اس کے گرد ونواح کا علاقہ 10 ملین ڈالرز کے عوض مسقط سے خریدا تھا۔

گوادر کو مسقط سے خریدنے کے بعد پاکستان کی حکومت نے گوادر کو تحصیل کا درجہ دے کر اسے ضلع مکران میں شامل کر دیا تھا۔

یکم جولائی 1970کو جب ون یونٹ کا خاتمہ ہوا اور بلوچستان بھی ایک صوبے کی حیثیت اختیار کر گیا تو مکران کو بھی ضلعی اختیار مل گیا تھا۔

1977میں مکران کو ڈویژن کا درجہ دے دیا گیا اور یکم جولائی1977کو تربت، پنجگور اور گوادر ' مکران ڈویژن کے تین ضلعے بنا دیئے گئے۔

ضلع گوادر کے مشہور علاقوں میں گوادر، جیوانی اور اورماڑہ شامل ہیں۔

2005ء میں ضلع گوادر کی آبادی تقریباً 250000 کے لگ بھگ تھی۔

اب چونکہ بین الاقوامی بندرگاہ کے طور پر گوادر کی تعمیر اور ترقی ھونی ھے اور وہ بھی وفاقی حکومت نے کرنی ھے۔

چین کے علاوہ دنیا بھر سے اور پاکستان کے ھر علاقے ' خاص طور پر پنجاب سے سرمایہ کاروں نے گوادر میں سرمایہ کاری کرنی ھے۔ اس لیے سرمایہ کاروں کے سرمایہ کو محفوظ بنانے کے لیے یہ ضروری ھے کہ گوادر کو وفاقی حکومت کے ماتحت علاقہ قرار دیا جائے۔


ورنہ گوادر کا حال بھی کراچی جیسا ھوگا کہ دنیا بھر سے اور پاکستان کے ھر علاقے' خاص طور پر پنجاب سے سرمایہ کاری کے بعد گوادر کی تعمیر اور ترقی ھوتے ھی بلوچوں نے بھی گوادر پر ویسے ھی اپنا حق جتانا شروع کردینا ھے ' جیسے کراچی پر اس وقت مھاجر اپنا حق جتا رھے ھیں اور کراچی میں جمع ھونے والی روینیو کو کراچی کی روینیو قرار دے دے کر بلیک میل کرنے اور کراچی کے حالات خراب کرنے میں لگے رھتے ھیں حالانکہ کراچی میں جو روینیو جمع ھوتی ھے ' وہ روینیو سب سے زیادہ پنجاب جنریٹ کرتا ھے۔