Wednesday, 11 July 2018

پاکستان کے سفارتخانوں سے ھندوستانی مھاجروں کو نکالنا پڑے گا۔

پاکستان بنانے کے لیے جب پنجاب کو تقسیم کیا گیا تو پنجاب کے مغرب کی طرف سے ھندو پنجابی اور سکھ پنجابی اپنے تمام کے تمام خاندانوں سمیت پنجاب کے مشرق کی طرف منتقل ھوئے اور پنجاب کے مشرق کی طرف سے مسلمان پنجابی اپنے تمام کے تمام خاندانوں سمیت پنجاب کے مغرب کی طرف منتقل ھوئے لیکن پاکستان آنے والے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے خاندان تو کیا بلکہ گھر کے ھی چند افراد پاکستان آگئے اور باقی ھندوستان میں ھی رھے۔ اسی لیے پاکستان پر قابض اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے ابھی تک ھندوستان میں اپنے خاندان کے افراد سے رابطے رھتے ھیں جسکی وجہ سے پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے اور انڈیا کی آلہ کاری کرنے میں انہیں آسانی رھتی ھے۔ جبکہ پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک اردو بولنے والے ھندوستانی اپنے انڈیا میں رھنے والے رشتہ داروں کو پاکستان میں لوٹ مار کرنے کے بعد ھر سال کھربوں روپے بھجتے رھے ھیں۔

پاکستان اصل میں یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مسلمانوں کی شکارگاہ اور ٹرانزٹ کیمپ رھا ھے۔ جبکہ پاکستان کے قیام سے لیکر دنیا بھر کے پاکستانی سفارتخانے اردو بولنے والے ھندوستانی مسلمانوں کے "راجواڑے" بنے ھوئے ھیں۔ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی ' مسلمان ھونے اور پاکستان کو بنانے کا نعرہ مار کر یوپی ' سی پی سے پاکستان آتے رھے۔ پاکستان اور اسلام کا لبادہ اوڑہ کر پاکستان کی سیاست ' صحافت ' حکومت ' فارن افیئرس ' سول بیوروکریسی ' ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور بڑے بڑے شہروں پر قابض ھوتے رھے۔ پاکستان کے دشمنوں کے ایجنڈے پر عمل کرکے پاکستان کو برباد کرکے ' پاکستان کی اصل قوموں پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کو تباہ کرکے اور پاکستان میں لوٹ مار کرنے کے بعد امریکہ ' برطانیہ ' متحدہ عرب امارت کو اپنا مستقل ٹھکانہ بناتے رھے۔

بین الاقوامی روابط ھونے اور دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانوں پر تسلط ھونے کی وجہ سے پاکستان کے دشمنوں سے ساز باز کرکے پاکستان کے اندر سازشیں کرنا اور بین الاقوامی امور میں دلالی کرنا یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھوندوستانی مھاجروں کا پسندیدہ مشغلہ ھے۔ چونکہ شھری علاقوں’ سیاست’ صحافت’ صنعت’ تجارت’ سرکاری عھدوں اور تعلیمی مراکز پر ان یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا کنٹرول ھے۔ اس لیے اپنی باتیں منوانے کے لئے ھڑتالوں ' جلاؤ گھیراؤ اور جلسے جلوسوں میں ھر وقت مصروف رھتے ھیں- پنجابی' سندھی ' پٹھان ' بلوچ میں سے جو بھی ان کے آگے گردن اٹھائے کی کوشش کرے اس کے گلے پڑ جاتے ھیں اوراس کو ھندوّں کا ایجنٹ ' اسلام کا مخالف اور پاکستان دشمن بنا دیتے ھیں۔ 

اردو بولنے والا ھندوستانی جب نعرہ لگاتا ھے کہ "پاکستان فرسٹ" تو اس سے مراد صرف "کراچی " ھوتا ھے۔ پاکستان کی اصل قوموں پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کے علاقے پنجاب ' دیہی سندھ ' کے پی کے ' بلوچستان نہیں ھوتے۔ جن سے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کو کوئی دلچسپی نہیں۔

اردو بولنے والا ھندوستانی جب نعرہ لگاتا ھے کہ "کراچی والے" تو اس سے مراد صرف "کراچی کا اردو بولنے والا ھندوستانی مھاجر" ھوتا ھے۔ نہ کہ کراچی میں رھنے والے پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ بھی۔ جن سے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کو کوئی دلچسپی نہیں۔

اردو بولنے والا ھندوستانی جب نعرہ لگاتا ھے کہ "پاکستانیت کو فروغ دیا جائے" تو اس سے مراد "اردو زبان ' یوپی ' سی پی کی تہذیب اور گنگا جمنا کی ثقافت" ھوتا ھے۔ نہ کہ پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کی زبان ' تہذیب اور ثقافت بھی۔ جس سے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کو کوئی دلچسپی نہیں۔

یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر پاکستان کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ھیں۔ کیونکہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا کام پاکستان کے بننے سے لیکر ھی امریکہ ' برطانیا اور ھندوستان کی دلالی کرنا رھا ھے اور اب بھی کر رھے ھیں جبکہ اسلام اور پاکستان کے نعرے لگا لگا کر پنجاب اور پنجابی قوم کو بیواقوف بھی بناتے رھے ھیں۔ حالانکہ نہ یہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ھیں اور نہ پاکستان کی تعمیر ' ترقی ' خوشحالی اور سلامتی سے ان کو دلچسپی ھے۔

اس وقت چونکہ پنجاب کے دیہی علاقوں اور دیہی سندھ میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی کوئی وقعت نہیں ھے۔ جبکہ کراچی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی پاکستان کی سلامتی کے اداروں نے انتظامی طور پر "کھٹیا کھڑی" کردی ھے۔ اس لیے اب صرف سیاسی اور سماجی طور پر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی بالادستی کو ختم کرنے کی ضرورت ھے۔ جسکے لیے کراچی کے سندھیوں ' پنجابیوں ' پٹھانوں اور بلوچوں کو  کراچی کی سیاست ' صحافت اور سرکاری دفاتر پر سے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا تسلط ختم کروانا پڑنا ھے۔

البتہ پنجاب کے بڑے بڑے شھروں میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی لحاظ سے بے انتہا مظبوط اور منظم ھونے کی وجہ سے صرف پنجاب ھی نہیں بلکہ پاکستان کے قومی معاملات میں بھی بھرپور سازشیں کر رھے ھیں۔ پاکستان کے قیام کے بعد سے لیکر پنجاب میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں نے اپنی سازشوں کے لیے جماعتِ اسلامی کا پلیٹ فارم استعمال کرنا شروع کیے رکھا۔ لیکن پنجاب میں پنجابیوں کے سیکولر رحجان میں اضافے نے جماعتِ اسلامی کی افادیت کو ختم کردیا۔ جس کی وجہ سے اب پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم استعمال کو استعمال کر رھے ھیں۔ اسی لیے پنجاب کے بڑے بڑے شھروں میں پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ سپورٹ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی حاصل ھے۔ لیکن پنجابیوں کی ن لیگ کو بھرپور سپورٹ کی وجہ سے پنجاب میں پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل تاریک ھے۔ جبکہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سازشوں سے بھی پنجابیوں کو اب آگاہی ھونے لگی ھے۔ اس لیے پنجاب میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی طرف سے کی جانے والی سازشوں کا سلسلہ بھی اپنے انجام کو پہنچنے والا ھے۔

پاکستان کے قیام سے لیکر پاکستان اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی شکارگاہ تو بنا ھی رھا۔ لیکن دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانے بھی اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی آماجگاہ بنے رھے۔ جس کی وجہ سے پاکستان کی خارخہ پالیسی ھمیشہ سے نہ صرف ناقص بلکہ پاکستان کے لیے نقصان دہ رھی۔ جب باھر کے ممالک میں زیادہ تر پنجابی رھتے ھیں تو؛ سفیر اور سفارتی عملہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کیوں؟ پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے کے لیے پاکستان کے سفارتخانوں سے خاص طور پر یورپ ' امریکہ اور متحدہ عرب امارات میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سفارتی سطح پر سرپرستی کیوں ھونے دی جا رھی ھے؟

اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سازشوں سے مکمل نجات کے لیے اب پاکستانی سفارتخانوں پر سے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا تسلط ختم کروانے کی ضرورت ھے۔ خاص طور یورپ ' امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے سفارتخانوں سے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا تسلط فوری طور پر ختم کروانے کی ضرورت ھے۔ کیونکہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سازشوں کے اس وقت سب سے بڑے ٹھکانے یورپ ' امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے بنے ھوئے ھیں۔

کیا "خلائی مخلوق" "پنجابی نواز شریف" سے کھیل جیت چکی ھے؟

پاکستان کی قومی سیاست میں 2014 سے ایک کھیل شروع ھوا۔ کھیل "پنجابی نواز شریف" کے خلاف تھا اور کھیل کھیلنے والے 20-25 کھلاڑیوں کو "خلائی مخلوق" کہا جاتا ھے۔ "خلائی مخلوق" کا روحِ رواں مھاجر پرویز مشرف تھا۔ پٹھان عمران خان "خلائی مخلوق" کے مہرے کے طور پر استعمال ھوا۔ بلوچ آصف زرداری "دو کشتیوں کا سوار" رھا۔ کبھی "خلائی مخلوق" اور کبھی "پنجابی نواز شریف" سے ساز باز کرتا رھا۔ کہاوت مشہور ھے کہ؛ "دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا"۔

پاکستان کی قومی سیاست کے کھیل میں کھیل کھیلنے والے "خلائی مخلوق" کے 20-25 کھلاڑیوں نے پاکستان کے میڈیا اور پاکستان کے کچھ اداروں کو خوب استعمال کیا۔ جبکہ "پنجابی نواز شریف" پاکستان کے میڈیا اور پاکستان کے کچھ اداروں کو استعمال ھونے سے روک نہ سکا۔ اس لیے پہلے پاکستان کی وزارتِ عظمیٰ سے محروم ھوا اور انتخاب کے لیے نا اھل قرار پایا۔ پھر ن لیگ کی صدارت سے محروم ھوا اور سیاسی جماعت کی صدارت کے لیے نا اھل قرار پایا۔ پھر 10 سال کی سزا ھونے کے بعد اب جیل جانے کے لیے لندن سے لاھور آرھا ھے۔

سوال یہ ھے کہ؛

کیا نواز شریف کے جیل جانے کے بعد "خلائی مخلوق" کا روحِ رواں مھاجر پرویز مشرف ' "خلائی مخلوق" کے مہرے کے طور پر استعمال ھونے والا پٹھان عمران خان ' "دو کشتیوں کا سوار" بلوچ آصف زرداری "پنجابی نواز شریف" سے پاکستان کی قومی سیاست میں کھیلا جانے والا کھیل جیت چکے ھیں؟

کیا جیل جانے کے بعد "پنجابی نواز شریف" کا سیاسی کھیل ختم ھو جائے گا یا "پنجابی نواز شریف" اب "خلائی مخلوق" کے 20-25 کھلاڑیوں کو شکست دینے کے لیے اپنا سیاسی کھیل شروع کرے گا اور انکے ناموں سے قوم کو آگاہ کرے گا؟

کیا "پنجابی نواز شریف" بھی  "خلائی مخلوق" کے 20-25 کھلاڑیوں کو سیاسی شکست دینے کے لیے اب پاکستان کے میڈیا اور پاکستان کے کچھ اداروں کو "خلائی مخلوق" کے 20-25 کھلاڑیوں کیخلاف استعمال کرے گا؟

پاکستان کی قومی سیاست میں "خلائی مخلوق" کے 20-25 کھلاڑیوں کے "پنجابی نواز شریف" کیخلاف جمہوری اصولوں کے بجائے سازشی طریقوں سے سیاسی کھیل کھیلنے سے پاکستان میں سماجی نفرتوں نے فروغ پایا۔ پاکستان کا انتطامی استحکام تباہ ھوا۔ پاکستان کی معیشت برباد ھوئی۔ پاکستان میں سیاسی کشیدگی بے انتہا بڑہ گئی۔ پاکستان کا میڈیا اور پاکستان کے کچھ ادارے اپنی ساکھ خراب کر بیٹھے۔

کیا جولائی 2018 کے انتخاب کے بعد وجود میں آنے والی حکومت؛

پاکستان میں سماجی نفرتوں کو ختم کرپائے گی یا پاکستان میں سماجی نفرتوں میں مزید اضافہ کرے گی؟

پاکستان میں انتطامی استحکام قائم کرپائے گی یا پاکستان میں انتطامی استحکام مزید تباہ کرے گی؟

پاکستان کی معیشت بہتر کرپائے گی یا پاکستان کی معیشت کو مزید برباد کرے گی؟

پاکستان میں سیاسی کشیدگی کو کم کرپائے گی یا پاکستان میں سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ کرے گی؟

پاکستان کا میڈیا اپنی ساکھ بحال کرپائے گا یا اپنی ساکھ مزید خراب کرے گا؟

پاکستان کے کچھ ادارے اپنی ساکھ بحال کرپائیں گے یا اپنی ساکھ مزید خراب کر بیٹھیں گے؟

نوٹ :- غور و غوض کرتے وقت اس امر کو ملحوظِ غاطر رکھنا چاھیے کہ؛

نواز شریف کو پنجابیوں کی اکثریت کی سیاسی حمایت حاصل ھے اور پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی ھے۔

پاکستان کی فوج میں بھی اکثریت پنجابیوں کی ھے اور فوج میں جن علاقوں سے بڑی تعداد میں بھرتی ھوتی ھے۔ ان علاقوں سے 90٪ ایم پی ایز اور ایم این ایز ن لیگ کے منتخب ھوتے ھیں۔

Sunday, 8 July 2018

سیاست کرن والے گھا کیس نوں پاندے نے تے نواز شریف کی کرے گا؟

بہت سارے لوکاں نوں سیاست دا شوق اے۔ اے بڑی صلاحیت رکھدے نے۔ اناں دی سوچ وی چنگی اے۔ ملک تے قوم نال محبت وی کردے نے۔ بڑے خلوص نال چنگا کم وی کرنا چاھندے نے پر سیاست دا تجربہ نہ ھون دے کرکے اپنے آپ نوں پریشان تے اپنا وقت خراب کردے ریندے نے۔ میں وی کجھ عرصہ سیاست کیتی۔ ایس لئی حال دسدا واں کہ سیاست کرن والے کردے کی نے؟ ایس نال ھوسکدا اے کہ کسے نوں کجھ سمجھ آجاوے تے اوس نوں ایس نال فائدہ ھووے۔ جد میں اسٹوڈنٹ پولیٹکس کردا سی اودوں تجربہ نئیں سی۔ ایس لئی منڈے ای کٹھے کردا ریندا سی۔ اک اک منڈے دے نخرے چکی دے سی۔ ھر اک دے مشورے سنی دے سی۔ ھر اک دے مطالبے سنی دے سی۔ ھر اک دے دکھ سکھ وچ شامل ھونا پیندا سی۔ ھر اک دی آں وکھ وکھ منتاں کردا ھوندا سی۔ تد جاکے الیکشن جتی دا سی۔

فے سٹی پالیٹیکس شروع کر دتی۔ عام بندے بھاویں جنا وی رولا پاندے رین۔ اناں نوں تے گھا ای نئیں پائی دا سی پر میرے انتخابی حلقے وچ جیہڑے گھرانے سی اناں نوں راضی رکھی دا سی تے الیکشن جتی دا سی۔ جیہڑے بندے روسے ریندے سی یا بوھتے مشورے دین تے مطالبے کرن والے ھوندے سن۔ اناں کولوں دور ای رئی دا سی۔ اے پتہ ھوندا سی کہ سارے آں بندی آں تے ووٹ دینے نئیں تے تے کجھ بندی آں نے مخالفت وچ وی ووٹ پانے نے۔ جد کہ میرے مخالف امیدوار دے مخالفاں نے مینوں ووٹ پا دینے نے۔ ایس لئی حساب برابر ای رینا اے۔ انج وی جد گھرانیاں دے ووٹ مل جانے نے تے فے کلے کلے بندے دے نخرے چکن دا فائدہ کی اے؟

فے صوبائی سیاست شروع کر دتی۔ اودوں عام بندے نوں تے کی گھرانیاں دے وڈیاں نوں وی گھا نئیں پائی دی سی۔ اناں نال میل ملاقات کرنی وی پے جاندی سی تے اناں نال کلے کلے نئیں ملی دا سی۔ کٹھ وچ ملی دا سی تاکہ جیہڑا رولا شولا اناں پانا اے او پا پو کے رانجھا راضی کرلین۔ وکھ وکھ صرف اناں نال ملی دا سی جنہاں دے خاندان ھوندے سن۔ بلکہ جیہڑے برادری دے مکھی ھوندے سن۔ ان دا بوھتا خیال رکھی دا سی۔ پر اناں نے وی جد کوئی مشورہ دینا ھوندا سی یا مطالبہ کرنا ھوندا سی ' اودوں اناں نوں آکھی دا سی کہ زبانی دسن دے بجائے لکھ کے دے دو۔

اوس توں بعد سیاست ای چھڈ دتی کہ کی لوڑ اے خاہ مخواہ سیاست دے لئی لوکاں دے نخرے چکن دی۔ مشورے سنن دی۔ مطالبے سنن دی۔ میل ملاقاتاں کردے رین دی۔ جیہڑے بندے واسطے والے نے اناں نال ای صلاح مشورہ کرنا چائی دا اے تے اناں نال ای دکھ سکھ ونڈنا چائی دا اے۔ جے کدی سیاست کرنی وی پے گئی تے ٹیم موجود ھونی اے تے سیاست والا کھاتا کھولن وچ کیہڑی دیر لگنی اے۔ اے حوالہ ایس توں دے رے آ واں کہ نواز شریف میرے وانگوں کوئی عام بندہ نئیں اے۔ ملک دا 3 واری وزیرِ اعظم رے آ اے۔ اوس نے خانداناں یا برادریاں نوں راضی نئیں رکھنا۔ اوس دے پاکستان وچ قومی تے پاکستان توں بار بین الاقوامی سطح تے تعلقات نے۔

ایس لئی نواز شریف نے اپنا کھیل کھیلنا اے نہ کہ پنجابیاں دی سیوا کرنی اے۔ (میں وی مضمون لکھ چھڈدا واں پر پنجابیاں دے نخرے نئیں چک ھوندے ایس لئی عملی سیاست نئیں کردا۔ جے کدی عملی سیاست کیتی وی تے فے میرے کول واسطے والے بندے تے ھین ای۔ جنہاں نال صلاح مشورہ ھوندا رھندا اے تے اناں نال ای دکھ سکھ وی ونڈی دا اے۔ انہاں واسطے والے بندی آں توں علاوہ مینوں او بندے وارا کھان گے جیہڑے اپنی اپنی برادری وچ اثر رکھدے ھون۔ اک اک جنے یا ودھ توں ودھ اپنے گھر یا خاندان ' محلے یا علاقے تک اثر رسوخ رکھن والے بندی آں دے نخرے تے میرے کولوں وی چک نئیں ھونے)۔

گل اے وے کہ بندہ 150 بندی آں توں زیادہ بندی آں نال واسطے داری نئیں نبھا سکدا۔ 150 بندی آں توں زیادہ صرف جان پہچان ' دعا سلام یا میل ملاقات ای رکھ سکدا اے۔ دنیا وچ کسے بندے کول وی 150 بندی آں توں ودھ ٹیم نئیں ھوسکدی جیس نال اوس دا ھر ویلے واسطہ رھندا ھووے۔ ایس لئی کسے وی بندے دی ٹیم ویکھ کے اندازہ کیا جا سکدا اے کہ او کیس سطح دا سیاسی کھیل کھیلن جوگا اے۔

سیاست دا جیس سطح تے کھیل کھیلنا ھووے اوس سطح توں وڈی سطح دی ٹیم دا میمبر بننا وی ضروری ھوندا اے۔ جد میں سیاست کردا سی اودوں جیس سطح تے کھیل کھیلدا سی۔ اوس سطح توں وڈی سطح تے سیاست دا کھیل کھیلن والے لیڈر دی ٹیم دا حصہ بن جاندا سی۔ اوس نال ھر ویلے واسطہ رھندا سی۔ اوس کولوں فائدہ چکدا سی تے جیہڑے میری ٹیم وچ ھوندے سی۔ جنہاں دا ھر ویلے میرے نال واسطہ رھندا سی۔ او میرے کولوں فائدہ چکدے سن۔

اسٹوڈنٹ پولیٹکس توں لے کے صوبائی سطح تک عملی سیاست تے اوس توں بعد قومی سطح تے سرسری سیاست کرن دے کرکے میرا پاکستان دے سارے ای صوبیاں وچ جانا ھوندا ریا۔ پنجابیاں توں علاوہ پٹھان ' ھندکو ' بلوچ ' بروھی ' سماٹ تے ھندوستانی مھاجر عوام دے نال نال سیاستداناں تے صحافیاں نال جان پہچان ' دعا سلام تے میل ملاقات ھوندی رئی۔ بہت ساریاں نال رابطے تے واسطے وی ھوگئے۔

میرے سیاسی تجربے دے مطابق پنجابی عوام تے کی پنجابی سیاستداناں تے صحافیاں وچ وی سیاسی شعور نئیں اے۔ ایس لئی اے نہ تے کسے دی سیاسی ٹیم دا حصہ بن سکدے نے تے نہ آپ ای قومی تے کی صوبائی سطح تے سیاسی ٹیم بنا سکدے نے۔ اے یا تے جذباتی ھوندے نے تے یا فے اپنا اپنا مفاد کڈھدے نے۔ جد کہ اناں دی سیاسی صلاحیت ودھ توں ودھ اپنے علاقے دی مقامی سیاست تک تے سیاسی دلچسپی اپنی برادری تک ھوندی اے پر گلاں صوبائی یا قومی تے کی بین الاقوامی سیاسی معاملات دی آں وی انج کردے نے جداں اے بڑا علم تے تجربہ رکھدے ھون۔ جد کہ زیادہ تر نوں پنجاب توں بار جاکے پاکستان دے علاقے ویکھن تے اوتھے دے لوکاں نال مل کے سیاسی ماحول نوں سمجھن دا اتفاق وی نئیں ھویا ھوندا۔

جتھے تک گل نواز شریف دی اے تے نواز شریف کولوں عام پنجابی نوں کوئی فائدہ نئیں ھونا۔ نواز شریف کولوں فائدہ اناں نوں ھونا اے جیہڑے نواز شریف دی ٹیم دا حصہ ھون گے۔ ھن نواز شریف کھیل کی کھیلدا اے؟ ایس دا ھجے پتہ نئیں۔ نواز شریف نے پنجابیاں کولوں پچھ کے کھیل نئیں کھیلنا تے ٹیم دے 150 بندے وی اوس نے او ای بنانے نے جیہڑے اوس دے کھیل وچ اوس لئی کم دے ھون گے۔ نالے نواز شریف نے سیاست دا کھیل اپنی سطح توں وڈی سطح تے سیاست دا کھیل کھیلن والے لیڈر دی ٹیم دا حصہ بنے بغیر نئیں کھیلنا۔ وجہ اے وے کہ؛ ایداں کیتے بغیر نواز شریف کولوں پاکستان دی قومی سیاست دا کھل کھیلیا ای نئیں جانا۔

جتھے تک گل پنجابی عوام دی اے تے پنجابی عوام وچ نخرے بوھتے ھوندے نے پر ووٹ انہاں نے ضرور پانے ھوندے نے۔ جیس کول وڈی ٹیم ھووے او پنجابی عوام نوں ذلیل کرکے وی حکومت تے بنا ای لیندا اے۔ ایس توں علاوہ گل اے وی اے کہ پنجابیاں وچ اے گل بوھتی اے کہ پنجابی جیس نوں پسند نہ کرن اوس دے مخالف نوں ووٹ پاندے نے۔ اے اک بیماری اے جیہڑی بغض ' حسد یا کینہ پروری دے کرکے ھوندی اے۔ ایس ویلے پاکستان وچ سب توں وڈی ٹیم تے فوج اے۔ فوج توں بعد سیاسی لیڈراں کول ٹیماں نے تے او صرف 4 ای سیاستدان نے جنہاں کول قومی سطح دی آں ٹیماں نے۔ 1۔ نواز شریف 2۔ آصف زرداری 3۔ پرویز مشرف 4۔ عمران خان۔ پنجابی عوام نوں وی اناں چاراں چوں اک نوں ووٹ پانے پینے نے۔

ایس لئی پنجابیاں نوں چائی دا اے کہ پہلے او وکھیا کرن کہ او کسے قومی یا صوبائی ٹیم دا حصہ بن سکدے نے۔ ضلع یا تحصیل دی سطح دی ٹیم دا حصہ بن سکدے نے۔ یونین کونسل یا محلے دی سطح دی ٹیم دا حصہ بن سکدے نے۔ اوس توں بعد اوس ٹیم دا حصہ بن کے ٹیم دے آگو یا ٹیم اگے اپنے مطالبے رکھیا کرن تے مشورے دے آ کرن۔ ٹیم دا حصہ بنے بغیر مشورے دینا یا مطالبے کرنا نرا رولا پان اے تے ایس نال وقت ای خراب ھوندا اے۔ گل نہ کوئی سندا اے تے نہ کوئی مندا اے۔

Saturday, 7 July 2018

پاکستان کا سیاسی کھیل کیا ھے اور انجام کیا متوقع ھے؟

پاکستان کا سیاسی کھیل 3 پارٹیوں ن لیگ ' پی ٹی آئی ' پی پی پی اور 3 لیڈروں نواز شریف ' عمران خان ' آصف زرداری کے گرد گھوم رھا ھے۔ نہ تو پی ٹی آئی اور پی پی پی اس وقت ن لیگ سے زیادہ عوامی حمایت والی سیاسی پارٹیاں ھیں اور نہ عمران خان اور آصف زرداری اس وقت نواز شریف سے زیادہ عوامی حمایت والے لیڈر ھیں۔

کسی بھی پارٹی کو اس سے زیادہ عوامی حمایت والی پارٹی سیاسی طور پر ختم یا کمزور کرتی ھے۔ کسی بھی لیڈر کو اس سے زیادہ عوامی حمایت والا لیڈر سیاسی طور پر ختم یا کمزور کرتا ھے۔ اس لیے ابھی نہ ن لیگ سیاسی طور پر ختم یا کمزور ھوئی ھے اور نہ نواز شریف سیاسی طور پر ختم یا کمزور ھوا ھے۔

نواز شریف کو ابھی تو 10 سال کی سزا ھوئی ھے۔ اس سے پہلے مشرف کے دور میں نواز شریف کو 25 سال کی سزا ھوچکی ھے۔ اس وقت نواز شریف کے ساتھ مریم نواز بھی جانشین کے طور پر موجود ھے۔

نواز شریف کے پاس کھیلنے کے لیے اس وقت بڑی بہترین چالیں موجود ھیں۔ جبکہ پاکستان کے دیگر صوبوں کے بعد اب پنجاب کا سیاسی ماحول بھی قوم پرستی کا بن چکا ھے۔ جس کا نواز شریف کو فائدہ ھوگا۔

عمران خان اور پی ٹی آئی کو خیبر پختونخواہ سے پٹھانوں کی جبکہ شمالی اور وسطی پنجاب سے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں ' افغانی ‘ ایرانی ‘ عراقی نزادوں کی حمایت حاصل ھے۔

آصف زرداری اور پی پی پی کو دیہی سندھ سے کردستانی بلوچوں اور ایرانی ' عراقی نزادوں کی حمایت حاصل ھے۔ جبکہ جنوبی پنجاب سے بھی کردستانی بلوچوں اور ایرانی ' عراقی نزادوں کی ھی حمایت حاصل ھے۔

نواز شریف اور ن لیگ کو خیبر پختونخواہ سے ھندکو کی جبکہ شمالی ' وسطی اور جنوبی پنجاب سے پنجابیوں کی حمایت حاصل ھے۔

اس لیے 2014 میں لاھور سے شروع ھونے والے سیاسی کھیل کی چنگاریاں لاھور سے شمال کی طرف ایک مقام میں پہنچ کر شعلے کی شکل اختیار کرتی ھوئی نظر آرھی ھیں۔

پاکستان میں نظام جمہوری رھے یا آمریت کا دور شروع ھوجائے لیکن فیصلہ کن سیاسی معرکہ پنجابیوں اور ھندکو کا اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور افغانی نزادوں کے درمیان ھوگا۔

سندھ میں سماٹ ' بلوچستان میں بروھی اور کراچی میں گجراتی و راجستھانی فیصلہ کن سیاسی معرکہ میں پنجابیوں اور ھندکو کو سیاسی تعاون فراھم کریں گے جبکہ کردستانی بلوچ ‘ ایرانی ‘ عراقی نزاد خود کو بچانے کی کوشش کریں گے۔

Friday, 6 July 2018

پنجاب کب تک تباہ اور پنجابی قوم کب تک برباد ھو گی؟

پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب ھے اور پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی ھے۔ پنجابی قوم کی اکثریت چونکہ ذراعت پیشہ ھے۔ اس لیے پنجابی قوم کی بڑی برادریوں ارائیں ' اعوان ' راجپوت ' جٹ ' گجر کی اکثریت پنجاب کے دیہی علاقوں اور چھوٹے چھوٹے شھروں میں رھتی ھے۔ زیادہ تر ذراعت اور مال مویشیوں کے پیشے سے وابسطہ ھے یا پھر نوکریاں اور چھوٹا موٹا کاروبار کرتی ھے۔ اس لیے ان میں بین الاقوامی یا قومی تو کیا صوبائی سطح کا بھی سیاسی شعور نہیں ھے۔ صرف مقامی سطح کا سیاسی شعور ھے۔ ان برادریوں کی دلچسپی بھی قومی یا صوبائی کے بجائے مقامی سیاست میں زیادہ ھوتی ھے۔ اس لیے آپس میں ایک دوسرے کی ٹانگیں بھی کھینچتی رھتی ھیں۔

جب کہ پنجاب کے بڑے بڑے شھروں پر قبضہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں ' افغانی ' ایرانی ' عراقی نزادوں کا ھے۔ جو کہ پنجاب کے بڑے بڑے شھروں میں سیاست ' صحافت ' سرکاری دفتروں ' پرائیویٹ دفتروں ' اسکولوں ‘ کالجوں ‘ یونیورسٹیوں ‘ مدرسوں اور مذھبی تنظیموں پر بھی کنٹرول رکھتے ھیں اور پنجاب سے اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی میں جاکر وھاں بھی کنٹرول رکھتے ھیں۔ اسی لیے صوبائی ھی نہیں بلکہ قومی سیاست میں بھی دلچسپی لیتے رھتے ھیں اور پنجاب کے عوام کی ذھن سازی اور پنجاب کی پالیسی میکنگ کرنے میں بھی ان کی اجارہ داری ھے۔

پنجاب کی 75٪ آبادی ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت  ‘ گجر ’ کشمیری اور شیخ برادریوں کی ھے۔ لیکن ان برادریوں کی ذھن سازی اور پنجاب کی پالیسی میکنگ پنجاب کے بڑے بڑے شھروں پر قابض اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' افغانی ' ایرانی ' عراقی نزاد کرتے ھیں اور کرتے بھی اپنے مزاج اور اپنے مفاد کو سامنے رکھ کر ھیں۔ اس لیے ان کی کوشش یہ ھوتی ھے کہ؛ پنجاب کی 75٪ آبادی ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت  ‘ گجر ’ کشمیری اور شیخ برادریوں پر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' افغانی ' ایرانی ' عراقی نزاد کی سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی بالادستی قائم رھے۔

ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت  ‘ گجر ’ کشمیری اور شیخ برادریاں جب تک صوبائی ھی نہیں بلکہ قومی اور بین الاقوامی سطح کا بھی سیاسی شعور حاصل نہیں کرتیں اور پنجاب کے بڑے بڑے شھروں میں سیاست ' صحافت ' سرکاری دفتروں ' پرائیویٹ دفتروں ' اسکولوں ‘ کالجوں ‘ یونیورسٹیوں ‘ مدرسوں ' مذھبی تنظیموں اور اسٹیبلشمنٹ و بیوروکریسی میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ‘ افغانی ‘ ایرانی ‘ عراقی نزاد کا کنٹرول ختم کرکے ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت  ‘ گجر ’ کشمیری اور شیخ برادریوں کا کنٹرول قائم کرکے پنجاب کے عوام کی ذھن سازی اور پنجاب کی پالیسی میکنگ اپنے مزاج اور اپنے مفاد کے مطابق کرنا شروع نہیں کرتیں۔ اس وقت تک پنجاب پر ان کی سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی بالادستی قائم نہیں ھونی۔ اس لیے پنجاب نے تباہ اور پنجابی قوم نے برباد ھوتے رھنا ھے۔

اس کی وجہ یہ ھے کہ؛ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ‘ افغانی ‘ ایرانی ‘ عراقی نزاد ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت  ‘ گجر ’ کشمیری اور شیخ برادریوں پر اپنی سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی بالادستی قائم رکھنے کے لیے اپنے مزاج اور اپنے مفاد کے مطابق ھی پنجاب کے عوام کی ذھن سازی اور پنجاب کی پالیسی میکنگ کرتے رھیں گے۔ پنجاب پر راج کرتے رھیں گے۔ پنجابی قوم کو غلام بنائے رکھیں گے۔ جب کہ ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت  ‘ گجر ’ کشمیری اور شیخ برادریاں صرف مقامی سیاست کرتی رھیں گی۔ آپس میں لڑتی رھیں گی اور ایک دوسرے کی ٹانگیں بھی کھینچتی رھیں گی۔ جبکہ پنجاب سے باھر پاکستان کی دوسری قوموں کو چونکہ پنجاب کے اندر کی صورتحال کا علم نہیں ھے۔ اس لیے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ‘ افغانی ‘ ایرانی ‘ عراقی نزادوں کی پنجاب کے عوام کی ذھن سازی کرنے اور پنجاب کی پالیسی میکنگ کرنے کے نتیجے میں پنجاب سے باھر پاکستان کی دوسری قوموں میں پیدا ھونے والے گلے ' شکوے اور شکایات پر گالیاں بھی پنجاب اور پنجابی قوم کو پڑتی رھیں گی۔

پنجاب کد تک تباہ تے پنجابی قوم کد تک برباد ھووے گی؟

پاکستان دا سب توں وڈا صوبہ پنجاب اے تے پاکستان دی سب توں وڈی قوم پنجابی اے۔ پنجابی قوم دی اکثریت ذراعت پیشہ اے۔ ایس لئی پنجابی قوم دیاں وڈیاں برادریاں ارائیں ' اعوان ' راجپوت ' جٹ ' گجر دی اکثریت پنجاب دے دیہی علاقیاں تے چھوٹے چھوٹے شھراں وچ ریندی اے۔ زیادہ تر زراعت تے مال مویشیاں دے پیشے نال وابسطہ اے یا فے نوکریاں تے چھوٹا موٹا کاروبار کردی اے۔ ایس لئی اناں وچ بین الاقوامی یا قومی تے کی صوبائی سطح دا وی سیاسی شعور نئیں اے۔ صرف مقامی سطح دا سیاسی شعور اے۔ ایس لئی اناں دی دلچسپی وی قومی یا صوبائی دے بجائے مقامی سیاست وچ ای ھوندی اے۔ ایس لئی اے برادریاں آپس وچ اک دوجے دیاں لتاں وی کھچدیاں ریندیاں نے۔

 جد کہ پنجاب دے وڈے وڈے شھراں تے قبضہ اردو بولن والے ھندوستانی مھاجراں ' افغانی ' ایرانی ' ازبک ' عراقی نزاداں دا اے۔ جیہڑے پنجاب دے وڈے وڈے شھراں وچ سیاست ' صحافت ' سرکاری دفتراں ' پرائیویٹ دفتراں ' سکولاں ' کالجاں ' یونیورسٹیاں ' مدرسیاں تے مذھبی تنظیماں تے وی کنٹرول رکھدے نے تے پنجاب چوں اسٹیبلشمنٹ تے بیوروکریسی وچ جاکے اوتھے وی کنٹرول رکھدے نے۔ ایس لئی صوبائی ای نئیں بلکہ قومی سیاست وچ وی دلچسپی لیندے ریندے نے تے پنجاب دے عوام دی ذھن سازی تے پنجاب دی پالیسی میکنگ کرن تے وی اناں دی اجارہ داری اے۔

پنجاب دی 75٪ آبادی ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت  ‘ گجر ’ کشمیری تے شیخ برادریاں دی اے پر اناں برادریاں دی ذھن سازی تے پنجاب دی پالیسی میکنگ پنجاب دے وڈے وڈے شھراں تے قابض اردو بولن والے ھندوستانی مھاجر ' افغانی ' ایرانی ' ازبک ' عراقی نزاد کردے نے تے کردے وی اپنے مزاج تے مفاد نوں سامنے رکھ کے نے۔ ایس لئی اناں دی کوشش اے ھوندی اے کہ؛ پنجاب دی 75٪ آبادی ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت  ‘ گجر ’ کشمیری تے شیخ برادریاں تے اردو بولن والے ھندوستانی مھاجر ' افغانی ' ایرانی ' ازبک ' عراقی نزاد دی سیاسی ' سماجی ' معاشی تے انتظامی بالادستی قائم رووے۔

ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت  ‘ گجر ’ کشمیری تے شیخ برادریاں جد تک صوبائی ای نئیں قومی تے بین الاقوامی سطح دا وی سیاسی شعور حاصل نئیں کردیاں نالے پنجاب دے وڈے وڈے شھراں وچ سیاست ' صحافت ' سرکاری دفتراں ' پرائیویٹ دفتراں ' سکولاں ' کالجاں ' یونیورسٹیاں ' مدرسیاں تے مذھبی تنظیماں تے نالے اسٹیبلشمنٹ تے بیوروکریسی وچ اردو بولن والے ھندوستانی مھاجر ‘ افغانی ‘ ایرانی ‘ عراقی نزاد دا کنٹرول ختم کرکے ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت  ‘ گجر ’ کشمیری تے شیخ برادریاں دا کنٹرول قائم کرکے پنجاب دے عوام دی ذھن سازی تے پنجاب دی پالیسی میکنگ اپنے مزاج تے اپنے مفاد دے مطابق کرنا شروع نئیں کردیاں۔ اوس ویلے تائیں پنجاب تے اناں دی سیاسی ' سماجی ' معاشی تے انتظامی بالادستی قائم نئیں ھونی۔ ایس لئی پنجاب نے تباہ تے پنجابی قوم نے برباد ھوندے رینا اے۔

ایس دی وجہ اے وے کہ؛ اردو بولن والے ھندوستانی مھاجر ‘ افغانی ‘ ایرانی ‘ عراقی نزاد ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت  ‘ گجر ’ کشمیری تے شیخ برادریاں تے اپنی سیاسی ' سماجی ' معاشی تے انتظامی بالادستی قائم رکھن لئی اپنے مزاج تے اپنے مفاد دے مطابق ای پنجاب دے عوام دی ذھن سازی تے پنجاب دی پالیسی میکنگ کردے رین گے۔ پنجاب تے راج کردے رین گے۔ پنجابی قوم نوں غلام بنائی رکھن گے۔ جد کہ ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت  ‘ گجر ’ کشمیری تے شیخ برادریاں صرف مقامی سیاست ای کردیاں رین گیاں۔ آپس وچ ای لڑدیاں رین گیاں تے اک دوجے دیاں لتاں وی کھچدیاں رین گیاں۔ جد کہ پنجاب توں بار پاکستان دیاں دوسریاں قوماں نوں پنجاب دے اندر دی صورتحال دا علم نئیں اے۔ ایس لئی اردو بولن والے ھندوستانی مھاجر ‘ افغانی ‘ ایرانی ‘ عراقی نزاداں دی پنجاب دے عوام دی ذھن سازی کرن تے پنجاب دی پالیسی میکنگ کرن دے کرکے پنجاب توں بار پاکستان دیاں دوسریاں قوماں وچ پیدا ھون والے گلے ' شکوے تے شکیتاں دے کرکے گالاں وی پنجاب تے پنجابی قوم نوں پیندیاں رین گیاں۔

Thursday, 5 July 2018

قوم دی حالت لوکاں دی آں عادتاں دے مطابق ھوندی اے

إِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ (13:11)
الله کسے قوم دی حالت نئیں بدلدا جد تک او  اناں عادتاں نوں نہ بدلے جیہڑیاں اوس وچ ھین۔ (11-13)

زوال پذیر قوماں وچ زیادہ تر بندیاں دی خواھش ھوندی اے کہ اناں کول پیسہ ھووے تے پاور ھووے تاکہ لوکی اناں دے اگے پچھے پھرن تے اناں اگے جی جی کرن۔ کیونکہ زیادہ تر لوکاں دی عادت ھوندی اے کہ او پیسے والے تے پاور والے بندیاں نوں اھمیت دیندے نے۔ او پیسے والے بندیاں دے اگے پچھے پھردے نے تے پاور والے آں دے اگے جی جی کردے نے۔

لوکاں دے پیسے والے بندیاں دے اگے پچھے پھرن دے کرکے فے سیاست وی پیسے والے بندے ای کردے نے۔ ایس لئی حکومت وچ وی فے زیادہ تر پیسے والے بندے آجاندے نے۔ جد اناں پیسے والے بندیاں نوں حکومت دی پاور وی مل جاندی اے تے فے لوکی اناں دے اگے پچھے پھرن دے نال نال اناں اگے جی جی وی کرن لگ پیندے نے۔

زوال پذیر قوماں وچ علم والے بندے وی ھوندے نے۔ جے لوکی پیسے دے بجائے علم والے بندیاں ول دھیان کرن لگ پین تے فے لوکی علم والے بندیاں دی عزت کرن لگ پیندے نے۔ جیس دے کرکے لوکاں وچ پیسے والے بندیاں دی اھمیت گھٹ جاندی اے۔ ایس لئی لوکی پیسے والے بندیاں دے اگے پچھے پھرن دے بجائے علم والے بندیاں دے اگے پچھے پھرن لگ پیندے نے۔ ایس دے کرکے پیسے والے بندے سیاست کرکے حکومت دی پاور وی حاصل نئیں کر پاندے۔ جیس دے کرکے فے لوکی نہ صرف پیسے والے بندیاں دے اگے پچھے نئیں پھردے بلکہ اناں اگے جی جی وی نئیں کردے۔

لوکاں دے علم والے بندیاں ول دھیان دین دے کرکے۔ علم والے بندیاں نوں عزت دین دے کرکے۔ علم والے بندیاں دے اگے پچھے پھرن دے کرکے علم والے بندے سیاست وی کرن لگ پیندے نے۔ جیس دے کرکے حکومت وچ وی علم والے بندے آجاندے نے۔ جد اناں علم والے بندیاں نوں حکومت دی پاور وی مل جاندی اے تے فے عام لوکی وی پاور والے بندیاں دے اگے جی جی کرن دے عادی ھون دے کرکے اناں علم والے بندیاں دے اگے جی جی کرن لگ پیندے نے۔ جد کہ الله قوم دی حالت بدلن لئی قوم نوں زوال چوں کڈھن لگ پیندا اے تے عروج دین لگ پیندا اے۔ ایس لئی علم والے بندیاں دے حکومت کرن دے کرکے ملک ترقی کرن لگ پیندا اے تے قوم خوشحال ھون لگ پیندی اے۔

قَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا قَالُوَاْ أَنَّى يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ قَالَ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَن يَشَاء وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (2:247)


اناں نوں اناں دے نبی نے آکھیا کہ؛ الله نے تواڈے تے طالوت نوں بادشاہ بنایا اے۔ انہاں نے آکھیا کہ؛ اے ساڈے تے بادشاھی کیویں کر سکدا اے؟ جد کہ اسیں ایس توں بوھتے بادشاھی دے حقدار آں۔ کیونکہ ایس نوں مال تے دتا نئیں گیا۔ نبی نے آکھیا کہ الله نے ایس نوں تواڈے لئی ایس لئی کھڑا کیتا اے کہ ایس نوں بوھتا علم دتا اے تے صحت مند جسم دتا اے۔ الله اپنا ملک جیس نوں چاھوے دیندا اے۔ اللہ نوں بوھت زیادہ گلاں دی جانکاری اے۔(247-2)

Tuesday, 3 July 2018

پنجاب اب ایک عظیم پنجاب اور پنجابی ایک عظیم قوم بننے والی ھے۔ انشاء اللہ


عزت و اھمیت ان قوموں کی ھوتی ھے جن کے پاس حکمرانی اور معیشت ھو۔ حکمرانی وہ قومیں کرتی ہیں جو سیاست ‘ صحافت ‘ سول بیوروکریسی اور ملٹری بیوروکریسی کے شعبوں پر اپنی گرفت رکھتی ھوں اور معیشت ان قوموں کے پاس ھوتی ھے جو ذراعت ' صنعت ' تجارت اور ھنرمندی کے شعبوں پر اپنی گرفت رکھتی ھوں۔ حکمرانی اور معیشت کے حصول اور گرفت کو مظبوط رکھنے کے لیے ملک کے بڑے بڑے شھروں پر اپنا تسلط قائم کرنا اور برقرار رکھنا انتہائی ضروری ھوتا ھے۔ پاکستان کے قیام کے وقت پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے 20 لاکھ پنجابی مارے گئے تھے اور 2 کروڑ پنجابی بے گھر ھوگئے تھے۔ اس لیے پنجاب کے شھری علاقوں میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور افغانی ‘ ایرانی ‘ ازبک نزاد ‘ عراقی نزاد ‘ ترکی نزاد پنجابیوں کو جبکہ جنوبی پنجاب کے دیہی علاقوں میں کردستانی نزاد بلوچوں ' افغانی نزاد پٹھانوں ' عربی نزاد گیلانیوں ' قریشیوں اور عباسیوں کو اپنا تسلط قائم کرنے کا موقع مل گیا۔

اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور افغانی ‘ ایرانی ‘ ازبک نزاد ‘ عراقی نزاد ‘ ترکی نزاد پنجابیوں کی چونکہ پنجاب کے بڑے بڑے شھروں میں رھائش ھے اور شھروں میں سیاست ' صحافت ' سرکاری دفتروں ' پرائیویٹ دفتروں ' اسکولوں ' کالجوں ' یونیورسٹیوں ' مدرسوں اور مذھبی تنظیموں میں ٹھیک ٹھاک کنٹرول رھا۔ اس لیے عوام کی ذھن سازی اور پنجاب کی پالیسی میکنگ میں پاکستان کے قیام سے لیکر اھم کردار اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اور افغانی ‘ ایرانی ‘ ازبک نزاد ‘ عراقی نزاد ‘ ترکی نزاد پنجابیوں کا ھی رھا جبکہ ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ کشمیری ‘ گجر اور شیخ برادریاں پنجاب کے دیہی علاقوں کے مسائل تک محدود ' آپس کی محاذ آرائی میں مبتلا اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور افغانی ‘ ایرانی ‘ ازبک نزاد ‘ عراقی نزاد ‘ ترکی نزاد پنجابیوں کی بنائی گئی پالیسیوں پر عمل درآمد کرتی رھیں۔ لیکن اب پنجابی قوم کی بڑی برادریاں ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ کشمیری ‘ گجر اور شیخ برادریاں بھی پنجاب کے ھر شھر میں اکثریت میں ھوتی جارھی ھیں۔ اس لیے چند سالوں میں ھی پنجاب کے ھر شھر پر ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ کشمیری ‘ گجر اور شیخ برادریوں نے بالادستی حاصل کرلینی ھے۔ جبکہ افغانی ‘ ایرانی ‘ ازبک نزاد ‘ عراقی نزاد ‘ ترکی نزاد پنجابیوں کی اکثریت نے بھی پنجابی قوم پرست بن جانا ھے۔

کشمیری اور شیخ برادریاں کاروباری برادریاں ھونے کی وجہ سے زیادہ تر پہلے سے ھی کاروبار سے وابسطہ تھیں اور شھری علاقوں میں بھی رھائش پذیر تھیں جبکہ ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت ‘ گجر برادریاں زراعت و باغبانی اور مال و مویشیوں کے کاروبار سے زیادہ وابسطہ ھونے کی وجہ سے زیادہ تر دیہی علاقوں میں رھتی تھیں اور پنجاب کے دیہی علاقوں میں پہلے سے ھی ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت ‘ گجر برادریوں کی بالادستی رھی۔ ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت ‘ گجر برادریوں پر نہ شمالی پنجاب اور وسطی پنجاب کے دیہی علاقوں میں کسی غیر پنجابی برادری کی بالادستی رھی اور نہ ھونے کے امکانات ھیں۔ البتہ ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت ‘ گجر برادریاں آپس میں محاذ آرا ضرور رھتی رھی اور اب بھی محاذ آرا ھیں۔

جنوبی پنجاب کے دیہی علاقوں میں ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت ‘ گجر برادریوں کا کردستانی نزاد بلوچوں ' افغانی نزاد پٹھانوں ' عربی نزاد گیلانیوں ' قریشیوں اور عباسیوں سے مقابلہ ھے۔ لیکن جنوبی پنجاب کے شھری علاقوں میں ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت ‘ گجر برادریوں کی پہلے سے ھی بالادستی ھے۔ جبکہ جنوبی پنجاب کے دیہی علاقوں میں کردستانی نزاد بلوچوں ' افغانی نزاد پٹھانوں ' عربی نزاد گیلانیوں ' قریشیوں اور عباسیوں کو انگریز کی دی ھوئی جاگیروں اور دریا کے کچے کی زمینوں پر قبضے کی وجہ سے اجارہ داری کا موقع ملا ھوا ھے۔ پنجابی قوم نے اب اس اجارہ داری کے خاتمے کا انتظام کر لینا ھے۔ اسکے بعد جنوبی پنجاب کے دیہی علاقوں میں کردستانی نزاد بلوچوں ' افغانی نزاد پٹھانوں ' عربی نزاد گیلانیوں ' قریشیوں اور عباسیوں نے بھی پنجابیوں کے لیے مسئلہ نہیں رھنا۔ جبکہ ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ کشمیری ‘ گجر اور شیخ برادریاں چونکہ پنجاب کے دیہی علاقوں پر کنٹرول کے بعد اب پنجاب کے شھری علاقوں پر بھی کنٹرول حاصل کرتی جارھی ھیں اس لیے پاکستان کے قیام سے لیکر پنجاب کے شھری علاقوں پر کنٹرول رکھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور افغانی ‘ ایرانی ‘ ازبک نزاد ‘ عراقی نزاد ‘ ترکی نزاد پنجابیوں کو صرف پنجاب کے شھروں میں ھی سیاست ' صحافت ' سرکاری دفتروں ' پرائیویٹ دفتروں ' اسکولوں ' کالجوں ' یونیورسٹیوں ' مدرسوں اور مذھبی تنظیموں میں کنٹرول قائم رکھنے کے بجائے اب روزگار کے متبادل ذرائعے تلاش کرنے پڑیں گے اور پنجاب کی عوام کی ذھن سازی اور پنجاب کی پالیسی میکنگ کرنے سے دسبردار ھونا پڑے گا۔

پنجابی قوم پرستوں کو معلوم ھے کہ؛ پنجاب کے شھروں میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور افغانی ‘ ایرانی ‘ ازبک نزاد ‘ عراقی نزاد ‘ ترکی نزاد پنجابیوں کا سیاست ' صحافت ' سرکاری دفتروں ' پرائیویٹ دفتروں ' اسکولوں ' کالجوں ' یونیورسٹیوں ' مدرسوں اور مذھبی تنظیموں پر کنٹرول ختم کرکے ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت ‘ گجر ' کشمیری اور شیخ برادریوں کی بالادستی قائم کروانی ھے۔ جبکہ افغانی ‘ ایرانی ‘ ازبک نزاد ‘ عراقی نزاد ‘ ترکی نزاد پنجابیوں کو اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے چنگل سے نجات دلوا کر پنجابی قوم پرست بننے کا موقع فراھم کرنا ھے۔ پنجابی قوم پرستوں کو معلوم ھے کہ؛ جنوبی پنجاب کے دیہی علاقوں میں ریاستی پنجابیوں ' ملتانی پنجابیوں ' ڈیرہ والی پنجابیوں کو سیاسی ' سماجی اور معاشی طور پر مظبوط کرکے کردستانی نزاد بلوچوں ' افغانی نزاد پٹھانوں ' عربی نزاد گیلانیوں ' قریشیوں اور عباسیوں کی بالادستی سے نجات دلوانی ھے۔

پنجاب کی 75٪ آبادی ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ کشمیری ‘ گجر اور شیخ برادریوں پر مشتمل ھے اور یہ برادریاں پنجاب کے دیہی علاقوں پر کنٹرول کے بعد اب پنجاب کے شھروں میں بھی سیاست ' صحافت ' سرکاری دفتروں ' پرائیویٹ دفتروں ' اسکولوں ' کالجوں ' یونیورسٹیوں ' مدرسوں اور مذھبی تنظیموں میں بھی کنٹرول حاصل کرتی جا رھی ھیں۔ اس سے شھروں میں پہلے سے سیاست ' صحافت ' سرکاری دفتروں ' پرائیویٹ دفتروں ' اسکولوں ' کالجوں ' یونیورسٹیوں ' مدرسوں اور مذھبی تنظیموں میں کنٹرول رکھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور افغانی ‘ ایرانی ‘ ازبک نزاد ‘ عراقی نزاد ‘ ترکی نزاد پنجابیوں کے پنجاب کی عوام کی ذھن سازی اور پنجاب کی پالیسی میکنگ کرنے کی اجارہ داری ختم ھوتی جانی ھے۔ جس کی وجہ سے اب مستقبل میں پنجاب کی عوام کی ذھن سازی اور پنجاب کی پالیسی میکنگ ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ کشمیری ‘ گجر اور شیخ برادریاں جبکہ پنجابی قوم پرست ایرانی نزاد ‘ افغانی نزاد ‘ ازبک نزاد ‘ ترک نزاد ' عراقی نزاد پنجابی کیا کریں گے۔

پاکستان کے قیام کی سات دھائیاں مکمل ھونے کے بعد پنجابی قوم کی ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ کشمیری ‘ گجر اور شیخ برادریوں کی نئی نسل چونکہ اب پھر سے اپنے پاؤں پر کھڑی ھوچکی ھے۔ سیاست ‘ صحافت ‘ سول بیوروکریسی ' ملٹری بیوروکریسی اور ذراعت ' صنعت ' تجارت ' ھنرمندی کے شعبوں پر اپنی گرفت مظبوط کرتی جارھی ھے۔ اسکے علاوہ پنجابی قوم پرستی بھی بڑی تیزی کے ساتھ روز بروز بڑھتی جا رھی ھے۔ جسکی وجہ سے پنجابی برادریوں کی ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ کشمیری ‘ گجر اور شیخ برادریوں میں برادری کی بنیاد پر آپس کی محاذ آرائی بھی اب کم ھو رھی ھے۔ جبکہ پنجابی قوم پرست ایرانی نزاد ‘ افغانی نزاد ‘ ازبک نزاد ‘ ترک نزاد ' عراقی نزاد پنجابیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ھوتا جا رھا ھے۔ اس لیے اب مستقبل کا پنجاب بھی ایک عظیم پنجاب ھوگا اور پنجابی قوم بھی ایک عظیم قوم ھوگی۔ پنجابی قوم کے سندھ میں سماٹ قوم کے ساتھ ' خیبر پختونخواہ میں ھندکو قوم کے ساتھ اور بلوچستان میں براھوئی قوم کے ساتھ وادیء سندھ کی اصل قومیں اور پنجاب کی تاریخی طور پر پڑوسی قومیں ھونے کی وجہ سے نہایت عزت و احترام اور باھمی تعاون والے مراسم ھوں گے۔ انشاء اللہ

جلیانوالہ باغ ‘ فرنگی راج اور پنجاب کے پیر و مشائخ ۔ تحریر : نعمان فرید

جب گورنر پنجاب سر مائیکل اڈوائر اپنے عہدے سے سبک دوش ھو کر واپس وطن سدھارنے لگا تو پنجاب کے پیران طریقت ’ مشائخ عظام اور علمائے کرام نے گورنمنٹ ھاؤس لاھور میں اسے سپاس نامہ پیش کیا جس میں اس کی خدمات کو سراھا گیا۔ حالانکہ مائیکل ایڈوائر وھی شخص ھے جس کا دامن جلیانوالہ باغ کے بے گناھوں کے خون سے رنگین نظر آتا ھے اور جان بحق ھونے والوں میں مسلمان بھی شامل تھے۔ اس کی شقاوت قلبی پر اس کے اھل وطن نے بھی اسے مطعون کیا تھا۔ ایک طرف اس کے اھل وطن اس کی مذمت کر رھے تھے اور دوسری طرف اسلام کے نام نہاد عشاق کا یہ طائفہ اس کی سفاکی اور بہیمت کو خراج عقیدت پیش کر رھا تھا۔ اس کے کارناموں کا قصیدہ پڑھ رھا تھا۔ اس کے رخصت ھونے پر غم کا اظہار کر رھا تھا اور ساتھ ھی ساتھ نووارد گورنر کو وفاداری ’ تابعداری اور اطاعت گزاری کا یقین دلایا جا رھا تھا۔ سپاس نامہ پڑھ کر ھر شریف شخص کا سر شرم و ندامت سے جھک جاتا ھے۔ سپاس نامہ کے بعض ضروری اور متعلقہ حصے تاریخی دلچسپی کے لئے نقل کئے جا رھے ھیں۔

سپاسنامہ

بحضور نواب ھز آنر سر مائیکل فرانسس ایڈوائر جی سی آئی ای کے سی ایس گورنر پنجاب!

حضور والہ ھم خادم الفقراء ’ سجادہ نشینان و علماء مع متعلقین شرکا حاضر الوقت مغربی حصہ پنجاب نہایت ادب و عجز و انکسار سے یہ ایڈریس لے کر حکومت عالیہ میں حاضر ھوئے ھیں اور ھمیں یقین کامل ھے کہ وہ حضور انور جن کی ذات عالی صفات میں قدرت نے دل جوئی ’ ذرہ نوازی اور انصاف پسندی کوٹ کوٹ کر بھر دی ھے ھم خاکساران باصفا کے اظہار دل کو توجہ سے سماعت فرما کر ھمارے کلاہ افتخار کو چار چاند لگا دیں گے۔‘‘

حضور انور! جس وقت ھم اپنی آزادیوں کی طرف خیال کرتے ھیں جو ھمیں سلطنت برطانیہ کے طفیل حاصل ھوئی ھیں۔ پھر جب ھم بے نظیر برطانوی انصاف کو دیکھتے ھیں جس کی حکومت میں شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پیتے ھیں تو پھر ھر احسان احسان ھی دکھائی دے رھا ھے۔

بہشت آں جا کہ آزارے بنا شد
کسے را با کسے کارے بنا شد

’’ھم سچ عرض کرتے ھیں کہ جو برکات ‘ھمیں اس سلطنت کی بدولت حاصل ھوئی ھیں گر ‘ ھمیں عمر خضر بھی نصیب ھو تو ھم ان احسانات کا شکریہ ادا نہیں کر سکتے۔ ھندوستان کے لئے سلطنت برطانیہ ابر رحمت کی طرح نازل ھوئی اور ھمارے ایک بزرگ نے جس نے پہلے زمانے کی خانہ جنگیں اور بدنظمیاں اپنی آنکھوں سے دیکھی تھیں اس سلطنت کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ھے؛

ھوئیں بدنظمیاں سب دور انگریزی عمل آیا
بجا آیا ’ بہ استحقاق آیا ’ برمحل آیا

ھم حضور سے درخواست کرتے ھیں جب حضور وطن کو واپس تشریف لے جائیں تو اس نامور تاجدار ھندوستان کو یقین دلائیں کہ چاھے کیسا ھی انقلاب کیوں نہ ھو ھماری وفاداری میں سرِمو فرق نہیں آئے گا اور ھمیں یقین ھے کہ ھم اور ھمارے پیروان اور مریدان فوجی وغیرہ جن پر سرکار برطانیہ کے بے شمار احسانات ھیں ھمیشہ سرکار کے حلقہ بگوش اور جان نثار رھیں گے۔

’’ گو ان کوتاہ اندیش دشمنان ملک (یہ جان نثاران جلیانوالہ باغ کی طرف اشارہ ھے) پر بھی سخت افسوس ھے جن کی سازش سے تمام ملک میں بدامنی پھیلی ھے اور جنہوں نے اپنی حرکات ناشائستہ سے پنجاب کے نیک نام پر دھبہ لگایا ھے۔ مقابلہ آخر مقابلہ ھی ھے اور کبھی خاموش نہیں رہ سکتا۔ یہ حضور والا ھی کا زبردست ھاتھ تھا جس نے بے چینی اور بدامنی کا اپنے حسن تدبر سے فی الفور قلع قمع کر دیا۔ان بدبختوں سے ازراہ بدبختی فاش غلطیاں سرزد ھوئیں لیکن حضور ابر رحمت ھیں اور ابر رحمت شورادر و زرخیز زمین دونوں پر یکساں برستا ھے۔ ھم حضور کو یقین دلاتے ھیں کہ ھم ان گمراہ لوگوں کی مجنونانہ اور جاھلانہ حرکات کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ھیں کیوںکہ کہ ھمارے قرآن کریم میں یہی تلقین کی گئی ھے۔ لا تفسدو افی الارض۔ یعنی دنیا میں فساد اور بدامنی مت پیدا کرو۔

حضور انور! اگرچہ آپ کی مفارقت کا ‘ ھمیں کمال رنج ھے؛

سر غم سے کھنچے کیوں نہ سر دار ھمارا
لو ھم سے چھٹا جاتا ھے سردار ھمارا

لیکن ساتھ ھی ھماری خوش نصیبی ھے کہ حضور کے جانشین سر ایڈورڈ میکلیگن بالقابہم جن کے نام نامی سے پنجاب کا بچہ بچہ واقف ھے۔ جن کا حسن اخلاق رعایا نوازی میں شہرہ آفاق ھے۔ جو ھمارے لیے حضور کے پورے نعم البدل ھیں۔ ھم ان کا دلی خیر مقدم کرتے ھیں اور ان کی خدمت میں یقین دلاتے ھیں کہ مثل سابق اپنی عقیدت و وفادای کا ثبوت دیتے رھیں گے۔

حضور! وطن کو تشریف لے جانے والے ھیں۔ ھم دعا گویان جناب باری میں دعا گو ھیں کہ حضور مع لیڈی و جمیع متعلقین مع الخیر اپنےپیارے وطن پہنچیں۔ تا دیر سلامت رھیں اور وھاں جا کر ھم کو دل سے نہ اتاریں۔

این دعا از ماؤ از جملہ جہاں آمین بعد

المستدعیان

مخدوم حسن بخش قریشی ’ مخدوم غلام قاسم سجادہ نشین خانقاہ ’ مخدوم شیخ محمد نواب حسن ’ مخدوم سید حسن علی ’ سید ریاض الدین شاہ ’ پیر غلام عباس شاہ ’ دیوان سید محمد پاک پٹن ’ مخدوم صدرالدین شاہ ملتان ’ میاں نور احمد احمد سجادہ نشین ’ پیر محمد رشید ’ شیخ شہاب الدین ’ سید محمد حسین شاہ شیر گڑھ ضلع منٹگمری ’ مخدوم شیخ محمد راجو ملتان ’ دیوان محمد غوث ’ محمد مہر شاہ جلال پور ’ صاحبزادہ محمد سعد الله سیال شریف ’ سید قطب شاہ ملتان ’ پیر چراغ علی ملتان ’ پیر ناصر شاہ ’ شاہ پور ’ مولوی غام محمد خادم گولڑہ شریف ’ سید فدا حسین کیمبل پور ’ غلام قاسم شاہ ’ شیر شاہ ملتان ’ پیر چراغ شاہ کوٹ سدھانہ جھنگ ’ محبوب عالم خادم گولڑہ شریف ’ منشی حیات محمد گولڑہ شریف ’ برہان الدین خادم گولڑہ شریف۔

Monday, 2 July 2018

Why the names of Pakistani Missiles named after Invaders of Punjab?

Mahmud Ghaznavi was an 11th-century Turkic origin ruler of the Ghaznavid Empire, who attacked Punjab 17 times and finally invaded Punjab in 1022.

Muhammad Ghori, a Turkic ruler, conquered Ghazni from the Ghaznavids and became its governor in 1173. In 1186–87, he conquered Punjab, bringing the last of Ghaznavid territory under his control and ending the Ghaznavid Empire and defeated a Hindu ruler Prithviraj Chauhan in 1192.

Later, one of Muhammad Ghori slaves, Qutab-ud-din Aibak went on to conquer North and Central Indian territories and founded the Delhi Sultanate, the first Islamic empire in India with Delhi as its capital.

The Delhi Sultanate is a term used to cover five short-lived kingdoms or sultanates of Turkic origin rules from Delhi between 1206 and 1526 when the last was replaced by the Mughal dynasty.

The five Turkic dynasties ruled their empires from Delhi:
The Mamluk (1211–90),
The Khalji (1290–1320),
The Tughlaq (1320–1413),
The Sayyid (1414–51)
The Lodhi (1451–1526).

The Turkic origin Mamluk Dynasty, (Mamluk means "Owned" and referred to the Turkic youths bought and trained as soldiers who became rulers throughout the Islamic world), seized the throne of the Sultanate in 1211.

The sultans eventually lost Afghanistan, Punjab, and Delhi to the Mongols. The Sultanate declined after the invasion of Emperor Timur, who founded the Timurid Dynasty and was eventually conquered in 1526 by the Mughal king Babar.

Zahiruddin Mohammad Babur, a Chagatai Turk from Ferghana valley in Central Asia, who invaded Punjab and dethroned the Lodi dynasty ruling India in 1526. Babur established the Mughal Empire in India and became India’s first Mughal emperor.

Ahmed Shah Abdali, an 18th-century Afghan king who is also the founder of the modern state of Afghanistan in 1747 and eight times lofted and plundered Punjab from 1748 to 1767-68.

Punjabi tribes, castes and the inhabitants of Punjab revolted against the invaders of Punjab, but in a personal capacity and without uniting by the natural affinity of Punjabi people. However, Punjabi Sufi Saints were in a struggle to awaken the consciousness of the people of Punjab.

Baba Farid - 12th-13th century, Damodar - 15th century, Guru Nanak Dev -15th - 16th century, Guru Angad - 16th century, Guru Amar Das - 15th - 16th century, Guru Ram Das - 16th century, Shah Hussain - 16th century, Guru Arjun Dev - 16th - 17th century, Bhai Gurdas - 16th - 17th century, Sultan Bahu - 16th-17th century, Guru Tegh Bahadur - 17th century, Guru Gobind Singh - 17th century, Saleh Muhammad Safoori - 17th century, Bulleh Shah - 17th-18th century, Waris Shah - 18th century, along with spiritual grooming and moral character building of Punjabi people, provided the ideological atmosphere to Punjabi nation to liberate themselves from the slavery of foreign Muslim invaders to defend their land, to protect their wealth, to save their culture and retain their respect by ruling their land and governing the people of their nation by their own self.

Baba Farid - 12th - 13th century is considered as the first spiritual poet of the Punjabi language.

Guru Nanak Dev -15th - 16th century, the founder of Sikh Religion condemned the theocracy of Mughal rulers, and was arrested for challenging the acts of barbarity of the Mughal emperor Babar.

Shah Hussain - 16th century approved Dulla Bhatti’s revolt against Akbar as; Kahay Hussain Faqeer Sain Da - Takht Na Milday Mungay.

Baba Waris Shah - 18th century said of the barbaric and brutal invasions of Punjab by the Afghan invader Ahmad Shah Abdali that; "Khada Peeta Lahy Da, Baqi Ahmad Shahy Da" ("We Have Nothing With Us Except What We Eat And Wear, All Other Things Are For Ahmad Shah").

The spiritual grooming and moral character building of Punjabi people by the Punjabi Saints and Punjabi poets stimulated the natural affinity of Punjabi people, taught the lesson to the various tribes, castes and the inhabitants of Punjab and forced them to unite into a broader common "Punjabi" identity. Therefore, Punjabi nationalism started to initiate in the people of the land of five rivers to defend their land, to protect their wealth, to save their culture and retain their respect by ruling their land and governing the people of their nation by their own self.

Therefore, struggle started to liberate Punjab from the invaders of Punjab and almost 777 years of foreign rule, starting from the Turkish invader Mahmud of Ghazni in 1022 after ousting the Hindu Shahi ruler Raja Tarnochalpal, until the time Maharajah Ranjit Singh entered the gates of Lahore on July 7, 1799; Punjabis had not ruled their own land.

In 1800 century, the religious ratio of Punjabi people in Punjab was 52% Muslim Punjabis, 41% Hindu Punjabis, 6% Sikh Punjabis, and 1% others. Muslim Punjabis and Hindu Punjabis were in the support of the Sikh Empire of Punjab. Prime Minister of Sikh Empire of Punjab was a Hindu Punjabi Dhian Singh Dogra and Foreign Minister was a Muslim Punjabi Fakir Aziz-ud-Din. Religion was a personal subject in Sikh Empire of Punjab. Justice was provided to the inhabitants of Punjab without discrimination of religion.

The Indus Valley Civilization is one of the oldest in the world, spread all over the Indus region, which it today Pakistan. Its main cities Harappa, Mohenjo-Daro, Texila, Mehar Garh are situated in Punjab, Sindh, Khyber Pukhtoon Khawa, and Balochistan well within Pakistan.

Along with Ancient Egypt and Mesopotamia, it was one of three early civilizations of the Old World, and of the three the most widespread, covering an area of 1.25 million km2. Entire populations of people were settled around the basins of the Indus River, one of the major rivers in Asia, and another river named Ghaggar-Hakra which once used to course through northeast India and eastern Pakistan.

Also known as Harappan civilization and Mohenjo-Daro civilization – named after the excavation sites where the remains of the civilization were found, the peak phase of this civilization is said to have lasted from 2600 BC to around 1900 BC. A sophisticated and technologically advanced urban culture is evident in the Indus Valley Civilization making them the first urban centers in the region. The people of the Indus Civilization achieved great accuracy in measuring length, mass, and time. And based on the artifacts found in excavations, it is evident the culture was rather richer in arts and crafts.

Therefore, the question arises that why the names of Pakistani Missiles are named after the Invaders of Punjab?

Ghaznavi Missiles: Ghaznavi is a surface-to-surface short-range ballistic missile named after Mahmud Ghaznavi.

Ghauri Missile: This series of surface-to-surface ballistic missiles is named after Muhammad Ghori.

Babur Missile: A medium range subsonic cruise missile, it was named after Zahiruddin Mohammad Babur.

Abdali Missile: This short-range supersonic ballistic missile is named after Ahmed Shah Abdali.

Pakistan or the land of Indus Valley Civilization has own great personalities for naming the Missiles of Pakistan than why instead of inhabitants of land the names of Missiles are named after the Invaders of Punjab?