Monday, 23 December 2019

سورھیہ بادشاہ ' سید صبغت اللہ شاہ راشدی ' پیر پگارا

سید صبغت اللہ شاہ راشدی 1909ء میں پیدا ھوئے تھے۔ 12 برس کی عمر میں آپ گدی نشین ھوئے اور حروں کے چھٹے پیر پگارا منتخب ھوئے۔ سکھر شہر میں دریائے سندھ پر بنے ”بیراج“ کو بائیں طرف کے پل سے عبور کریں تو ایک بہت بڑی نہر کے کنارے کنارے خوبصورت سڑک "پیر جو گوٹھ" جاتی ھے۔ جو پیر پگارا کا آبائی علاقہ ھے۔ "پیر جو گوٹھ" میں پیر پگارا کے گھوڑوں کا بہت بڑا فارم موجود ھوا کرتا تھا۔ اب وہ قیمتی گھوڑے کراچی منتقل کردیے گئے ھیں۔ اسی علاقہ میں پیر پگارا کا ایک عالیشان محل بھی موجود ھے۔

سندھ کے علاقے سانگھڑ کے ”مکھی جنگل“ سے انگریزوں سے مقابلے کے لیے ”حُر تحریک“ کی بنیاد رکھی گئی۔ حُر تحریک کو برطانوی حکومت نے بغاوت کا نام دے کر پیر پگارا کو قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں ملوث کرلیا۔ اس مقدمے میں پیر پگارا کی پیروی قائد اعظم نے کی۔ مگر انگریزوں نے پیر پگارا کو 10 سال قید کی سزا سنادی۔ پیر پگارا کو 26 مارچ 1930ء کو گڑنگ بنگلو سے گرفتار کرلیا گیا۔ لیکن اس کے بعد 15 ستمبر 1930ء کو پیر پگارا کے خلاف مزید جھوٹے کیس رجسٹرڈ کر کے پیر پگارا کو بمبئی پریزیڈینسی سے ملحق رتناگری جیل منتقل کر دیا گیا۔

انگریز حکومت کے پیر پگارا کو جیل توڑ کر آزاد کروا لینے کے خدشے کی وجہ سے مختصر عرصے بعد جیلیں تبدیل کی جاتی رھیں۔ رتناگری سے راج شاھی جیل مدنا پور منتقل کیا گیا۔ وھاں سے علی پور ڈھاکہ رکھا گیا۔ پیر پگارا مختلف جیلوں میں رہ کر ان علاقوں کے حریت رھنماﺅں سے رابطے میں آچکے تھے۔ ان کے ولولے اور منصوبے مزید قوی و وسیع ھوتے چلے گئے۔

انگریز حکومت نے 1936ء میں پیر پگارا کو ناگپور جیل سے رھا کیا تو پیر پگارا جیسلمیر کے راستے سکھر پہنچے۔ پورا سندھ پیر پگارا کے استقبال کو اُمنڈ آیا۔ پیر پگارا نے پیر جوگوٹھ پہنچتے ھی مجاھدین کی عام لام بندی کا اعلان کر دیا۔ پیر پگارا نے رھائی کے بعد سانگھڑ کے قریب گڑنگ کے مقام پر اپنی تحریک کا آغاز کیا اور کفن یا وطن کا نعرہ بلند کرتے ھوئے میدان میں اتر آئے۔

اب انگریز کے لیے پیر پگارا کو آزاد چھوڑنا مشکل ھی نہیں محال ھو چکا تھا۔ ایسے میں سرکار برطانیہ ایک بار پھر حرکت میں آئی اور پیر پگارا کو کراچی سے 24 اکتوبر 1941ء کو گرفتار کر کے سیونی میں ایک بار پھر پابند سلاسل کر دیا گیا۔ پیر سید صبغت اللہ شاہ پیر صاحب پگارو کی گرفتاری کے باوجود انگریز کا سندھ میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ھو سکا۔ انگریز افسر شاھی اور مخبروں کا جینا حرام ھوگیا۔ حُر مجاھدین اپنے عظیم مرشد کی گرفتاری پر بپھرے ھوئے شیر کی مانند ھر سمت تباھی پھیلاتے نظر آرھے تھے۔ انگریز نے ان کے خلاف ظلم و ستم کی انتہا کر دی۔ سندھ میں مارشل لاء لگا کر حر ایکٹ نافذ کر دیا۔ لوگوں کی بستیوں کی بستیاں جلا ڈالیں اور تمام حُر جماعت کو حراستی کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا۔

انگریز پیر پگارا کو مزاحمت ترک کرنے پر سکھر سے نوابشاہ تک کی ریاست دینے کی پیشکش کر چکا تھا۔ مگر حضرت سورھیہ بادشاہ فرماتے ھیں کہ؛ جب مجھ سے سودے بازی کی بات کرتے ھیں تو محسوس ھوتا ھے کہ مجھ میں سے حسینیت خارج ھو رھی ھے۔ لہٰذا آپ نے انگریز کی تمام پیشکشیں مسترد کرکے تختہ دار پر چڑھنا اعزاز تصور کیا۔

پیر پگارا کو جوانی کی عُروج میں 20 مارچ 1943ء کو حیدر آباد جیل میں سولی پر لٹکا کر شہید کرکے کسی نامعلوم مقام پر دفن کردیا گیا۔ پیر پگارا کے دونوں فرزندان پیر پگارا سید سکندر شاہ المعروف شاہ مردان شاہ اور سید نادر شاہ کو علیگڑھ منتقل کر دیا۔ پیر پگارا کے ارادت مند وھاں بھی پہنچ گئے تو انگریز نے تنگ آ کر دونوں شہزادوں کو برطانیہ بھیج دیا۔ قیام پاکستان کے بعد پیر پگارا کی گدی بحال ھوئی۔ شہید سورھیہ بادشاہ کے فرزند اکبر سید سکندر شاہ المعروف شاہ مردان شاہ ثانی نے 4 فروری 1952 کو مسند نشین ھو کر دستار پگارو حاصل کی۔

قیام پاکستان کے بعد برطانوی حکام تمام ریکارڈ پاکستان حکومت کے سپرد کرکے چلے گئے۔ چند روز قبل یہ بات سامنے آئی ھے کہ سورھیہ بادشاہ کی پھانسی کا ریکارڈ جیل انتظامیہ کے پاس موجود نہیں ھے۔ جیل میں سورھیہ بادشاہ کی پھانسی کی تیاریوں کا ریکارڈ تو ھے لیکن پھانسی کا ریکارڈ موجود نہیں ھے۔

سال 2017 میں برطانیہ کی حکومت برصغیر سے متعلق اپنی چند پرانی رپورٹیں منظر عام پر لائی ھے۔ جس میں سے ایک سورھیہ بادشاہ کے متعلق بھی تھی کہ انہیں حیدرآباد جیل میں پھانسی دینے کے بعد استولا جزیرہ میں دفن کردیا گیا تھا۔ جزیرہ استولا بلوچستان کے ساحلی شھر پسنی سے چھ گھنٹے کی مسافت پر گوادر اور پسنی کے سمندر میں موجود ھے۔ یہ ایک چھوٹی سی بنجر پہاڑی پر مشتمل بے آباد جزیرہ ھے۔ پسنی و گوادر کے مچھیرے بعض دفعہ اس جزیرے پر رات گزارنے آتے ھیں۔ اس جزیرے پر ایک گمنام قبر ھے۔ جس پر مزار بنا ھوا ھے اور ساتھ میں ایک مسجد ھے۔ قبر کے بارے مشہور ھے کہ یہاں حضرت خضر ھیں اور کچھ کے بقول یہاں بہت بڑے بزرگ دفن ھیں۔ غالب امکان یہی ھے کہ استولا پر گمنام قبر سوریا بادشاہ پیر پگارا سید صبغت اللہ شاہ شہید ھی کی ھے۔

پنجابی نیشنلسٹ فورم سندھ زون دے زونل آرگنائزر دی تبدیلی

پنجابی نیشنلسٹ فورم سندھ زون دے زونل آرگنائزر جناب Iqbal Punjabi صاحب نے سندھ زون دی ایگزیکٹو کمیٹی دے میمبر جناب Afzal Punjabi صاحب نوں سندھ زون دا زونل آرگنائزر بنان تے آپ سندھ زون دی ایگزیکٹو کمیٹی دا میمبر بنن دی تجویز پیش کیتی اے۔ ایس لئی جناب Afzal Punjabi صاحب نوں پنجابی نیشنلسٹ فورم سندھ زون دا زونل آرگنائزر تے جناب Iqbal Punjabi صاحب نوں سندھ زون دی ایگزیکٹو کمیٹی دا میمبر بنا دتا اے۔

برائے اطلاع

1۔ جناب Rajpoot Zulfiqar صاحب زونل آرگنائزر شمالی پنجاب
2۔ جناب Nadeem Ahmed Punjabi صاحب زونل آرگنائزر وسطی پنجاب
3۔ جناب DrJamil Arain صاحب زونل آرگنائزر جنوبی پنجاب
4۔ جناب Mansoor Ahmad صاحب زونل آرگنائزر بلوچ ایریا بلوچستان
5۔ جناب Sheraz Rajpoot صاحب زونل آرگنائزر پشتون ایریا بلوچستان
6۔ جناب Saleem Ilyas صاحب زونل آرگنائزر کراچی
7۔ محترمہ Ujala Chaudhary صاحبہ آرگنائزر وومن ونگ
8۔ محترمہ Shahnaz Punjabi صاحبہ زونل آرگنائزر وومن ونگ شمالی پنجاب

نوٹ :- زونل آرگنائزر اپنی اپنی زون دے ایگزیکٹو کمیٹی دے میمبراں نوں وی اطلاع دے دین۔

پنجابی نیشنلسٹ فورم "سپت سندھو" دا مقدمہ وی لڑے گا۔

پنجابی نیشنلسٹ فورم دا مشن "سپت سندھو" دا مقدمہ لڑنا وی اے۔ ھن سوال اے وے کہ؛ "سپت سندھو" کی اے؟

"سپت سندھو" دا مطلب وادئ سندھ دی رھتل دیاں ساریاں نکیاں وڈیاں قوماں نے۔

پنجابی نیشنلسٹ فورم نے سمجھن تے سمجان لئی "سپت سندھو" نوں دو حصیاں وچ ونڈیا ھویا اے۔ اک جغرافیائی تے دوجا سیاسی۔

جغرافیائی طور تے "سپت سندھو" دا مطلب صرف موجودہ پنجاب و سندھ بالکل وی نئیں اے۔ بلکہ "سپت سندھو" یعنی وادئ سندھ دی رھتل توں جمن والیاں ساریاں قوماں نے۔

آسان لفظاں وچ جتھوں "سپت سندھو" وگنا (لداخ) شروع ھوندا اے۔ اوتھوں توں لے کے جتھے اے مکدا (کراچی) اے۔ ایس وچ پنجابی' سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' گجراتی ' راجستھانی شامل نیں۔

"سپت سندھو" یا وادئ سندھ دی رھتل وچ گندھارا (ٹیکسلا) ' ھڑپہ (ساھیوال) ' موھنجوداڑو (لاڑکانہ) ' مہرگڑھ ورگیاں قدیم ترین رھتلاں شامل نیں۔

سیاسی طور تے "سپت سندھو" دا مطلب سپت سندھو دے جغرافیائی علاقے وچ "سپت سندھو" دیاں قوماں دے سماجی و معاشی ' انتظامی و اقتصادی ' دفاعی و سفارتی ' ادبی و لسانی ' تہذیی و ثقافتی ' غرض جیون دے ساریاں معاملیاں وچ انہاں قوماں نوں منظم تے مستحکم کرنا اے۔ چاۓ او دنیا دے کسے وی کونے وچ وسدیاں ھوون۔

نوٹ :- اے تجویز پنجابی نیشنلسٹ فورم وومن ونگ شمالی پنجاب دی زونل آرگنائزر محترمہ Shahnaz Punjabi صاحبہ دی اے۔ ایس تجویز نوں پنجابی نیشنلسٹ فورم دے چیف آرگنائزر نے منظور کیتا اے۔ ایس لئی اے تجویز ھن پنجابی نیشنلسٹ فورم دی پالیسی دا حصہ اے۔

برائے اطلاع

1۔ جناب Rajpoot Zulfiqar صاحب زونل آرگنائزر شمالی پنجاب
2۔ جناب Nadeem Ahmed Punjabi صاحب زونل آرگنائزر وسطی پنجاب
3۔ جناب DrJamil Arain صاحب زونل آرگنائزر جنوبی پنجاب
4۔ جناب Mansoor Ahmad صاحب زونل آرگنائزر بلوچ ایریا بلوچستان
5۔ جناب Sheraz Rajpoot صاحب زونل آرگنائزر پشتون ایریا بلوچستان
6۔ جناب ) Iqbal Punjabi صاحب زونل آرگنائزر سندھ
7۔ جناب Saleem Ilyas صاحب زونل آرگنائزر کراچی
8۔ محترمہ Ujala Chaudhary صاحبہ آرگنائزر وومن ونگ
9۔ محترمہ @Shahnaz Punjabi صاحبہ زونل آرگنائزر وومن ونگ شمالی پنجاب

نوٹ :- زونل آرگنائزر اپنی اپنی زون دے ایگزیکٹو کمیٹی دے میمبراں نوں وی اطلاع دے دین۔

کیا پاکستان سے چلے جانے والے ھندوستانی مھاجروں کی پاکستانی شہریت منسوخ کردی جائے؟

اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر صرف کراچی میں ھی نہیں رھتے بلکہ دیہی سندھ ' پنجاب اور پاکستان سے باھر بھی رھتے ھیں۔ دیہی سندھ میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا تو کوئی پرسانِ حال ھی نہیں ھے۔ کراچی میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں میں اب سازشیں اور شرارتیں کرنے کا دم خم نہیں رھا۔ پنجاب میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر چونکہ پنجابی زبان بھی بولتے ھیں۔ اس لیے چھپ چھپا کر اور پنجابی لبادہ اوڑہ کر ھلکی پھلکی سازشیں اور شرارتیں کرتے رھتے ھیں۔

اس وقت صرف پاکستان سے باھر رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ھی ھیں جو بھرپور انداز میں اپنے سازشی فلسفے کو فروغ دینے اور سیاسی شرارتیں کرنے میں لگے رھتے ھیں۔ پاکستان سے باھر رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے سازشی فلسفے اور سیاسی شرارتوں کی وجہ سے ھی کراچی میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا بیڑا غرق ھو رھا ھے۔

پاکستان بنانے کے لیے جب پنجاب کو تقسیم کیا گیا تو پنجاب کے مغرب کی طرف سے ھندو پنجابی اور سکھ پنجابی اپنے تمام کے تمام خاندانوں سمیت پنجاب کے مشرق کی طرف منتقل ھوئے اور پنجاب کے مشرق کی طرف سے مسلمان پنجابی اپنے تمام کے تمام خاندانوں سمیت پنجاب کے مغرب کی طرف منتقل ھوئے۔ لیکن پاکستان آنے والے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے خاندان تو کیا بلکہ گھر کے ھی چند افراد یوپی ' سی پی سے پاکستان آگئے اور باقی ھندوستان میں ھی رھے۔

پاکستان اصل میں یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مسلمانوں کی شکارگاہ اور ٹرانزٹ کیمپ رھا ھے۔ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی ' مسلمان ھونے اور پاکستان کو بنانے کا نعرہ مار کر یوپی ' سی پی سے پاکستان آتے رھے۔ پاکستان اور اسلام کا لبادہ اوڑہ کر پاکستان کی سیاست ' صحافت ' حکومت ' فارن افیئرس ' سول بیوروکریسی ' ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور بڑے بڑے شہروں پر قابض ھوتے رھے۔ پاکستان کے دشمنوں کے ایجنڈے پر عمل کرکے پاکستان کو برباد کرکے ' پاکستان کی اصل قوموں پنجابی ' سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی کو تباہ کرکے اور پاکستان میں لوٹ مار کرنے کے بعد امریکہ ' برطانیہ ' کنیڈا ' متحدہ عرب امارت کو اپنا مستقل ٹھکانہ بناتے رھے۔

دراصل 1950 میں لیاقت - نہرو پیکٹ کے ھوتے ھی انڈیا نے دورمار پلاننگ کی تھی اور ان اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو ایک سازش کے تحت پاکستان بھیجا گیا تھا۔ پاکستان کی پنجابی ' سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی عوام نے آنکھیں بند کئے رکھیں اور ملک کی ریڑھ کی ھڈی کراچی پر انڈین ایجنٹوں کا قبضہ جبکہ بھارت کی آلہ کاری کرنے اور پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے کا سلسلہ شروع ھوگیا۔

یوپی ' سی پی سے پاکستان آکر بیرون ملک چلے جانے والے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے ھندوستان میں اپنے خاندان کے افراد سے رابطے رھتے ھیں۔ جسکی وجہ سے پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے اور بھارت کی آلہ کاری کرنے میں انہیں آسانی رھتی ھے۔ اس لیے بین الاقوامی روابط ھونے کی وجہ سے پاکستان کے دشمنوں سے ساز باز کرکے پاکستان کے اندر سازشیں کرنا اور بین الاقوامی امور میں دلالی کرنا بیرون ملک رھنے والے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا پسندیدہ مشغلہ ھے۔

اس لیے دو اھم سوالات یہ ھیں کہ؛

1۔ وہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جو پاکستان کے قیام کے بعد یوپی ' سی پی سے پنجاب اور سندھ میں آکر لوٹ مار کرنے کے بعد بیرون ملک جا بسے ھیں۔ ان کے زیادہ تر رشتہ دار تو پاکستان سے باھر اور آبائو اجداد کی قبریں ھندوستان میں ھیں۔ اس لیے ان کو پاکستان اور پاکستان کی عوام سے کیا دلچسپی ھوگی؟ کیا ان کی وفاداری پاکستان کے ساتھ ھوتی ھے یا ھندوستان کے ساتھ رھتی ھے؟

2۔ کیا پاکستان اور پاکستان کی عوام کے مفاد کے لیے یہ ضروری نہیں ھے کہ پاکستان سے باھر رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی پاکستان سے باھر چلے جانے کی وجہ سے پاکستانی شہریت منسوخ کردی جائے اور پاکستان کی عوام انہیں پاکستانی کے بجائے ھندوستانی سمجھا کرے؟

جی - ایم سید نے سندھی قوم کو پنجابی قوم کے ساتھ محاذ آرائی میں پھنسایا۔

جی - ایم سید سندھ میں قابض ایک عربی نزاد تھا۔ سندھ کے اصل باشندے سماٹ ھیں۔ اس لیے جی - ایم سید سندھی قوم پرست رھنما نہیں بلکہ مفاد پرست اور موقع پرست شخص تھا۔ دیہی سندھ کے معاشی اور اقتصادی طور پر امیر پنجابی آبادکار جو 1901 اور 1932 سے دیہی سندھ میں زراعت ' صنعت ' تجارت کے کاروبار کے فروغ ' صحت اور تعلیم کے شعبوں کی ترقی کے لیے اپنی خدمات پیش کر رھے تھے۔ ان کو دیہی سندھ سے نکال کر انکی زمینوں اور کاروبار پر قبضہ کرنا جی ایم سید کا مشن تھا۔

معاشی اور اقتصادی طور پر امیر پنجابی آبادکاروں کو دیہی سندھ سے بے دخل کروا کر انکے کاروبار اور آباد زرعی زمینوں پر سید اور بلوچ جاگیرداروں کے قبضے کروانے کے ساتھ ساتھ سماٹ سندھیوں پر بھی سید اور بلوچ جاگیرداروں کا سماجی ' معاشی اور سیاسی تسلط قائم کروا کر ' جی - ایم سید اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رھا۔ لیکن اس عمل کے ذریعے جی - ایم سید نے سندھی قوم کو پنجاب کے عوام کے ساتھ مستقل محاذ آرائی میں پھنسا دیا۔ جبکہ سندھ کے شہری علاقوں پر ھندوستانی مھاجروں کا تسلط بھی قائم کروا دیا۔

ماضی میں جی ایم سید کے سندھ کے پنجابی آبادکاروں کے خلاف گھناؤنے کردار کی وجہ سے 1901 اور 1932 کی دھائیوں سے سندھ میں آباد معاشی اور اقتصادی طور پر امیر پنجابیوں کے 1970 اور 1980 کی دھائیوں میں اپنے کاروبار اور آباد زرعی زمینیں سیدوں اور بلوچوں کو سونپ کر پنجاب واپس آنے کی وجہ سے سندھی قوم کے ساتھ پنجاب اور پنجابی قوم کے تنازعات پیدا ھوگئے تھے۔ انہیں حل کروانے کے لیے ذوالفقار علی بھٹو ' پیر پگارو ' محمد خان جونیجو ' غلام مصطفی جتوئی اور بے نظیر بھٹو سندھیوں کے لیے پنجاب کے عوام کے ساتھ رابطے اور واسطے کا ذریعہ رھے لیکن سندھ سے معاشی اور اقتصادی طور پر امیر پنجابیوں کو بیدخل کردیے جانے کی وجہ سے سندھ کے سیدوں اور بلوچوں کے ساتھ پنجابی قوم کے اختلافات کو مکمل طور پر ختم نہ کروا سکے۔

ذوالفقار علی بھٹو' پیر پگارو' محمد خان جونیجو ' غلام مصطفی جتوئی اور بے نظیر بھٹو کی موت کے بعد اب موثر سماجی رابطوں اور سیاسی واسطوں کے نہ ھونے کی وجہ سے جبکہ جی ایم سید کے سندھ کے پنجابی آبادکاروں کے خلاف گھناؤنے کردار کی وجہ سے سندھ میں پیدا ھونے والے ماحول کے ابھی تک سندھ میں موجود ھونے کی وجہ سے پنجاب کا سندھ کے سیدوں اور بلوچوں کے ساتھ لاتعلقی کا رویہ ابھی تک برقرار ھے۔ سندھ کے اصل باشندے سماٹ نے اس کا ابھی تک حل نہیں نکالا۔ اس لیے سندھیوں کا پنجاب کے عوام کے ساتھ رھا سہا رابطہ اور واسطہ بھی ختم ھوتا جا رھا ھے۔

سندھ کے شہری علاقوں پر غالب اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے ساتھ سندھیوں کا سماجی ٹکراؤ اور انتظامی ' معاشی ' اقتصادی ' ترقیاتی امور کی وجہ سے سیاسی اختلاف ماضی میں بھی تھا اور اب بھی ھے اور مستقبل میں بھی رھنا ھے۔ جبکہ پنجاب کی آبادی پاکستان کی 60 فیصد آبادی ھے۔ پنجاب کی پاکستان کی مرکزی حکومت ' پاکستان کی بیوروکریسی ' اسٹیبلشمنٹ ' صنعت ' تجارت ' سیاست ' صحافت اور ھنرمندی کے شعبوں پر مکمل بالادستی ھے۔ اس لیے پنجاب کے عوام کے ساتھ رابطے اور واسطے کا ختم ھونا ' پنجاب کا سندھیوں کے ساتھ لاتعلقی کا باعث اور سندھیوں کے لیے قومی تنہائی کا سبب بنتا جا رھا ھے۔

سندھیوں کے پنجاب کی عوام کے ساتھ رابطے اور واسطے کے ختم ھونے اور پنجابی قوم کے سندھیوں کے ساتھ لاتعلقی کے باعث اب مستقبل میں سندھیوں کو پاکستان کی مرکزی حکومت ' پاکستان کی بیوروکریسی ' اسٹیبلشمنٹ ' صنعت ' تجارت ' سیاست ' صحافت اور ھنرمندی کے شعبوں میں وہ عزت ' اھمیت اور سہولت نہیں ملا کرنی جو ماضی میں ملتی رھی۔

پنجابی نیشنلسٹ فورم کی پالیسی ابھی جارحانہ کیوں ھے؟

"پنجابی نیشنلسٹ فورم" کی جدوجہد پٹھان خان غفار خان ' بلوچ خیر بخش مری ' عربی نزاد جی ایم سید ' ھندوستانی مھاجر الطاف حسین کی پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے خلاف پھیلائی گئی "ذھنی دھشت گردی" جبکہ "بھارتی را" کی پاکستان میں پیدا کی گئی آزاد پشتونستان ' آزاد بلوچستان ' سندھو دیش ' جناح پور کی "سازش" اور پٹھانوں کی طرف سے خیبر پختونخوا میں ھندکو ' بلوچوں کی طرف سے بلوچستان میں براھوئی ' سندھ میں سماٹ ' جنوبی پنجاب میں ڈیرہ والی پنجابی ' ملتانی پنجابی ' ریاستی پنجابی ' ھندوستانی مھاجروں کی طرف سے کراچی میں پنجابی ' سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی پر سماجی ' سیاسی و معاشی بالادستی قائم کرنے جبکہ پاکستان کو انتظامی و اقتصادی بحران میں مبتلا رکھنے کی "کوشش" کے توڑ کے لیے بھی ھے۔

پٹھان غفار خان ' بلوچ خیر بخش مری ' عربی نزاد جی - ایم سید ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر الطاف حسین کی طرف سے پنجاب اور پنجابی قوم کے خلاف پھیلائے ھوئے نفرت والے فلسفے کا "پنجابی نیشنلسٹ فورم" نے مدلل جواب دینا شروع کیا ھے تو پٹھان غفار خان ' بلوچ خیر بخش مری ' عربی نزاد جی - ایم سید ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر الطاف حسین کے فلسفے کے عادی حضرات کی چینخیں نکل رھی ھیں۔ جو پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کرنے کے عادی بنے ھوئے ھیں۔

کہاوت ھے کہ؛ جو گڑھا کھودتا ھے وہ اس میں گرتا ھے۔ پنجاب اور پنجابی قوم کے خلاف بے بنیاد الزام تراشیاں کرکے اور جھوٹے قصے کہانیاں بنا کر پٹھانوں ' بلوچوں ' ھندوستانی مھاجروں اور جنوبی پنجاب و دیہی سندھ کے عربی نزادوں نے جو گڑھے کھودے ھیں۔ بالآخر ان گڑھوں میں انہیں گرنا پڑے گا۔ اس لیے پنجابی نیشنلسٹ فورم کی پالیسی ابھی جارحانہ ھے۔ تاکہ ھندوستانی مھاجروں ' پٹھانوں ' بلوچوں اور جنوبی پنجاب و دیہی سندھ کے عربی نزادوں کو باور کرایا اور سمجھایا جا سکے کہ؛ پنجابی قوم بیک وقت ان کے ساتھ "انٹلیکچوؤل وار گیم" کھیل کر انہیں شکست دے سکتی ھے۔ اس لیے پنجابی قوم کے بارے میں تراشے گئے ھتھکنڈوں کی بنیاد پر پنجاب کو بلیک میل اور پنجابیوں کو ذلیل و خوار کرنے کا سلسلہ بند کردیں۔

پاکستان کی قوموں میں جب مفاھمت کے لیے قوموں کے اتفاق اور اتحاد کا مرحلہ شروع ھوا تو سماجی ' سیاسی ' معاشی ' انتظامی ' اقتصادی معاملات پر دلائل کے ساتھ بات چیت کرکے عدل و انصاف کے دائرے میں رھتے ھوئے پنجابی قوم کے ساتھ معاملات طے کرنے کے خواھشمند ھندوستانی مھاجر ' پٹھان ' بلوچ اور جنوبی پنجاب و دیہی سندھ کے عربی نزاد دوستوں کا تعاون "پنجابی نیشنلسٹ فورم" کو درکار ھوگا۔ وہ ھندوستانی مھاجر ' پٹھان ' بلوچ اور جنوبی پنجاب و دیہی سندھ کے عربی نزاد دوست جو اس کوشش میں شامل ھونا چاھتے ھیں۔ وہ غصے میں آئے بغیر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ "پنجابی نیشنلسٹ فورم" کی ٹیم کے مضامین پڑھا کریں اور اپنے حلقہ احباب کو بھی پڑھایا کریں۔ تاکہ ان کا حلقہء احباب صبر و تحمل کے ساتھ "پنجابی نیشنلسٹ فورم" کے مدلل جواب پڑھ سکے اور اپنی فہم و فراست کو استعمال کرکے "انٹلیکچوؤل وار گیم" کا کھیل سمجھ سکے۔

پنجابی قوم کے بحران میں مبتلا ھونے کی وجہ اور نقصانات

انگریز نے 1846 میں پنجاب کے شمالی علاقوں کو پنجاب سے الگ کرکے جموں اور کشمیر کی ریاست بنادی۔ 1901 میں انگریز نے پنجاب کے مغربی علاقوں کو پنجاب سے الگ کرکے شمالی مغربی سرحدی صوبہ بنادیا جسے اب خیبر پختونخوا کہا جاتا ھے۔ 1947 میں انگریز نے پنجاب کے مشرقی علاقے کو پنجاب سے الگ کرکے بھارت کے حوالے کر دیا اور مشرقی پنجاب کہا جانے لگا۔ 1966 میں بھارت نے مشرقی پنجاب کو تقسیم کرکے پنجاب ' ھما چل پردیش اور ھریانہ کے صوبے بنا دیے۔ اب پنجاب کے جنوبی علاقے میں پناھگیر بلوچ اور عربی نزاد پنجاب کے جنوبی علاقے کو پنجاب سے الگ کرکے "سرائیکی دیش" بنانے کی سازش کر رھے ھیں۔

ایک طرف اکثر غیر پنجابیوں کو معلوم نہیں ھے کہ؛ پوٹھوھاری اور ھزارہ والی جس کو ھندکو کہا جاتا ھے۔ یہ پنجابی زبان کے لہجے ھیں۔ بلکہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ؛ کشمیر میں پنجابی زبان کا لہجہ پہاڑی بولا جاتا ھے اور جموں میں پنجابی زبان کا لہجہ ڈوگری بولا جاتا ھے۔ پوٹھوھار ' ھزارہ ' کشمیر ' جموں کے لوگوں کو غیر پنجابی لوگ پنجابی نہیں کہتے بلکہ پوٹھو ھاری ' ھزارہ وال یا ھندکو ' کشمیری ' جموں وال کہتے ھیں۔ لیکن پنجابی زبان کے یہی لہجے بولنے والے لوگ جب غیر پنجابی کے علاقے میں جاتے ھیں تو غیر پنجابی ان کو ان کے علاقے کی نسبت سے پہچان نہیں پاتے اور ان کی بولی جانی والی زبان کو سن کر کہتے ھیں کہ "یہ تو پنجابی ھے"۔

دوسری طرف پنجابی آبادی کے ایک بڑے حصے کو ھندوستانی مھاجروں نے گنگا جمنا کی تہذیب اور ثقافت میں رنگ کر اترپردیشی بناکر ذھنی طور پر اپنا غلام بنایا ھوا ھے۔ گنگا جمنا کی تہذیب اور ثقافت میں رنگے ھوئے اور اترپردیشی بنے ھوئے پنجابیوں کو ھندوستانی مھاجروں کی ذھنی غلامی سے نکالنا بڑا مسئلہ ھے۔ پنجابی تہذیب اور ثقافت سے دستبردار ھوکر گنگا جمنا کی تہذیب اور ثقافت میں رنگ کر اترپردیشی بن جانے والے پنجابیوں کو ھندوستانی مھاجروں کی ذھنی غلامی سے نکالے بغیر وادئ سندھ کی زمین پر قائم ملک پاکستان کی اصل قوموں؛ پنجابی ' سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی کو متحد و منظم کرنا ممکن نہیں ھے۔

پنجابی اشرافیہ کو قومی لیڈرشپ پیدا کرنی پڑے گی۔

حکمرانی سے محروم قوم کی نہ سماجی عزت ھوتی ھے۔ نہ انتظامی اھمیت ھوتی ھے۔ نہ وہ معاشی بالادستی حاصل کر پاتی ھے۔ نہ وہ اقتصادی ترقی کر پاتی ھے۔ حکمرانی سے محروم ھونے کی وجہ یہ ھوتی ھے کہ اس قوم کے پاس لیڈرشپ نہیں ھوتی۔

لیڈرشپ پیدا کرنا قوم کے عام افراد کے بس کی بات نہیں ھوا کرتی۔ لیڈرشپ قوم کی اشرافیہ پیدا کیا کرتی ھے۔ کیونکہ حکمرانی اشرافیہ کیا کرتی ھے یا پھر قوم کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے لوگ قوم پرست بن جائیں تو لیڈرشپ پیدا کیا کرتے ھیں۔ جبکہ قوم کی اشرافیہ اور قوم کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگ اگر باھمی تعاون کرنا شروع کردیں تو لیڈرشپ پیدا کرنا ' حکومت حاصل کرنا اور حکمرانی کرنا آسان ھو جاتا ھے۔

پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک اشرافیہ اور قوم کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگوں کے باھمی تعاون کی وجہ سے پاکستان پر حکمرانی زیادہ تر ھندوستانی مھاجر اور پٹھان اشرافیہ نے اور ان کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگوں نے کی۔ سندھی اور پنجابی اشرافیہ نے بھی پاکستان پر حکمرانی کی لیکن بلوچ اشرافیہ کو صرف سندھی لیڈر بے نظیر بھٹو کی شھادت کی وجہ سے سندھیوں کی لیڈرشپ بلوچ زرداری کو مل جانے کی وجہ حکمرانی کا موقع ملا۔

1947 سے لیکر 1957 تک کے دور کے دوران ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں کے پاس قومی لیڈرشپ تھی۔ اس لیے پاکستان پر ھندوستانی مھاجر لیاقت علی خان ' پٹھان غلام محمد اور ھندوستانی مھاجر اسکندر مرزا سے وابسطہ سیاسی اشرافیہ کی حکمرانی رھی۔

1957 سے لیکر 1967 تک کے دور کے دوران پٹھانوں کے پاس قومی لیڈرشپ تھی۔ اس لیے پاکستان پر پٹھان جنرل ایوب خان سے وابسطہ فوجی اشرافیہ کی حکمرانی رھی۔

1967 سے لیکر 1977 تک کے دور کے دوران پٹھانوں اور سندھیوں کے پاس قومی لیڈرشپ تھی۔ اس لیے پاکستان پر پٹھان جنرل یحی خان سے وابسطہ فوجی اشرافیہ کی اور سندھی ذالفقار علی بھٹو سے وابسطہ سیاسی اشرافیہ کی حکمرانی رھی۔

1977 سے لیکر 1987 تک کے دور کے دوران پنجابیوں اور سندھیوں کے پاس قومی لیڈرشپ تھی۔ اس لیے پاکستان پر پنجابی جنرل ضیاء الحق سے وابسطہ فوجی اشرافیہ کی اور سندھی محمد خان جونیجو سے وابسطہ سیاسی اشرافیہ کی حکمرانی رھی۔

1987 سے لیکر 1997 تک کے دور کے دوران سندھیوں اور پنجابیوں کے پاس قومی لیڈرشپ تھی۔ اس لیے پاکستان پر سندھی بے نظیر بھٹو اور پنجابی نواز شریف سے وابسطہ سیاسی اشرافیہ کی حکمرانی رھی۔

1997 سے لیکر 2007 تک کے دور کے دوران ھندوستانی مھاجروں کے پاس قومی لیڈرشپ تھی۔ اس لیے پاکستان پر ھندوستانی مھاجر جنرل پرویز مشرف سے وابسطہ فوجی اشرافیہ کی اور ھندوستانی مھاجر شوکت عزیز سے وابسطہ سیاسی اشرافیہ کی حکمرانی رھی۔

2007 سے لیکر 2017 تک کے دور کے دوران بلوچوں اور پنجابیوں کے پاس قومی لیڈرشپ تھی۔ اس لیے پاکستان پر بلوچ آصف زردری اور پنجابی نواز شریف سے وابسطہ سیاسی اشرافیہ کی حکمرانی رھی۔

اب 2017 سے لیکر 2027 کی دھائی کا دور ھے۔ اس وقت پٹھان اور ھندوستانی مھاجر اشرافیہ اور ان کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگوں کے پاس حکومت تو ھے لیکن وہ حکمرانی کر نہیں پا رھے۔ کیونکہ پٹھان اشرافیہ اور ان کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگوں کے پاس قومی لیڈرشپ نہیں ھے۔ جبکہ پرویز مشرف کی صورت میں ھندوستانی مھاجر اشرافیہ اور ان کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگوں کے پاس قومی لیڈرشپ تو ھے لیکن پرویز مشرف کو عدالت سے پھانسی کی سزا ھوچکی ھے۔

پٹھان اور ھندوستانی مھاجر اشرافیہ نے سازشیں کرکے نواز شریف کی صورت میں پنجابیوں کی قومی لیڈرشپ کو حکومت سے نکال کر حکومت بنا تو لی ھے۔ لیکن پنجابی لیڈرشپ اور اشرافیہ کے تعاون کے بغیر پاکستان پر حکمرانی اب ھو نہیں پانی۔

پنجابی لیڈرشپ اور اشرافیہ نے اب ھندوستانی مھاجر اور پٹھان اشرافیہ کو پاکستان پر حکمرانی نہیں کرنے دینی۔ جبکہ ھندوستانی مھاجر اور پٹھان اشرافیہ اور ان کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگوں کے لیے مستقبل قریب میں قومی لیڈرشپ پیدا کرپانے کے امکانات بھی نہیں ھیں۔

بلوچ اشرافیہ قومی لیڈرشپ نہ ھونے کی وجہ سے کبھی بھی پاکستان پر حکمرانی کے قابل نہیں رھی اور نہ بلوچ اشرافیہ کے مستقبل قریب میں قومی لیڈرشپ پیدا کرپانے کے امکانات ھیں۔ جبکہ بلوچ قوم کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگوں پر بلوچ اشرافیہ کی گرفت بہت مظبوط ھے۔ اس لیے بلوچ قوم کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگوں کے لیے قومی لیڈرشپ پیدا کر پانا ناممکن ھے۔

سندھی اشرافیہ بھی قومی لیڈرشپ نہ ھونے کی وجہ سے پاکستان پر حکمرانی کے قابل نہیں رھی اور نہ سندھی اشرافیہ کے مستقبل قریب میں قومی لیڈرشپ پیدا کرپانے کے امکانات ھیں۔ جبکہ سندھی قوم کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگوں پر سندھی اشرافیہ کی گرفت بہت مظبوط ھے۔ اس لیے سندھی قوم کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگوں کے لیے قومی لیڈرشپ پیدا کر پانا ناممکن ھے۔

پاکستان پر حکمرانی اب پنجابی اشرافیہ ھی کرے سکتی ھے۔ لیکن حکمرانی کرنے کے لیے پنجابی لیڈرشپ موجود نہیں ھے۔ کیونکہ نواز شریف کی صورت میں پنجابی لیڈرشپ کو عدالت نے سیاست کے لیے نا اھل قرار دیا ھوا ھے اور سزا بھی دی ھوئی ھے۔ اس لیے پنجابی اشرافیہ کو مستقبل قریب میں قومی لیڈرشپ پیدا کرنی پڑے گی ورنہ پاکستان میں پہلی بار پنجابی قوم کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کی پنجابی قوم پرست لیڈرشپ ابھر کر سامنے آسکتی ھے۔ کیونکہ پنجابی قوم کے درمیانے طبقے کے لوگوں میں پنجابی قوم پرستی کا سیاسی شعور پیدا ھونا شروع ھو چکا ھے۔

پنجابی قوم کی اشرافیہ اور پنجابی قوم کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگ اگر باھمی تعاون کرنا شروع کردیں تو نہ صرف لیڈرشپ پیدا کرنا بلکہ حکومت حاصل کرنا اور حکمرانی کرنا بھی آسان ھو جائے گا۔

منظم طریقے نال پنجابی قوم پرستی دا کم 2020 توں شروع ھووے گا۔

پنجابی قوم پرستی دا کم منظم طریقے نال 2020 توں شروع ھووے گا۔ ھجے تک پنجابی قوم پرستی دا پروگرام تیار ھوندا ریہیا تے پروگرام تے عمل کروان والی ٹیم تیار کیتی جاندی رئی ۔

ھن سارے پاکستان لئی پنجابی قوم پرستی دا پروگرام وی بن چکیا اے تے پروگرام تے عمل کروان والی ٹیم وی سارے پاکستان وچ تیار ھوچکی اے۔

پنجابی قوم پرستی دا پروگرام تیار کرن والے thought initiator پنجابی نیشنلسٹ فورم دے زونل آرگنائزر نے تے thought motivator زون دی ایگزیکٹو کمیٹی دے میمبر نے۔ اے بڑے ودھیا طریقے نال پنجابی قوم پرستی دا کم کر رئے نے۔ انہاں نوں پنجابی قوم پرستی دے supporters تے followers چوں تلاش کیتا گیا اے۔

ھن اک ای کم بچیا اے تے او کم اے منظم طریقے نال پنجابی قوم پرستی دا کم کرنا۔ 2020 وچ سارے پاکستان وچ پنجابی قوم پرستی دے پروگرام تے عمل کروان والے پنجابی نیشنلسٹ فورم دے زونل آرگنائزراں تے زوناں دی ایگزیکٹو کمیٹی دے میمبراں نوں آپس وچ ملوا کے آپس وچ سجن بیلی یا سنگی ساتھی بنا دتا جاووے گا تے فے پنجابی نیشنلسٹ فورم دی ٹیم منظم طریقے نال پنجابی قوم پرستی دا کم کرن لگ پووے گی۔

کلا بندہ کلا ھوندا اے۔ ایس لئی قومی سطح دا کم نئیں کرسکدا۔ ٹیم بناکے ای قومی سطح تے کم کیتا جاسکدا اے۔ پنجابی قوم پرستی نوں support تے follow کرن والے جیہڑے پنجابی قومی سطح تے منظم طریقے نال پنجابی قوم پرستی دا کم کرنا چاھندے نے او اپنے زون دی پنجابی نیشنلسٹ فورم دی ایگزیکٹو کمیٹی دے میمبر بن کے thought motivator بنن لئی اپنی زون دے آرگنائزر نال رابطہ کرن۔

پاکستان پر حکمرانی اب پنجابی ھی کریں گے۔

حکمرانی سے محروم قوم کی نہ سماجی عزت ھوتی ھے۔ نہ انتظامی اھمیت ھوتی ھے۔ نہ وہ معاشی بالادستی حاصل کر پاتی ھے۔ نہ وہ اقتصادی ترقی کر پاتی ھے۔ حکمرانی سے محروم ھونے کی وجہ یہ ھوتی ھے کہ اس قوم کے پاس لیڈرشپ نہیں ھوتی۔

لیڈرشپ پیدا کرنا قوم کے عام افراد کے بس کی بات نہیں ھوا کرتی۔ لیڈرشپ قوم کی اشرافیہ پیدا کیا کرتی ھے۔ کیونکہ حکمرانی اشرافیہ کیا کرتی ھے یا پھر قوم کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے لوگ قوم پرست بن جائیں تو لیڈرشپ پیدا کیا کرتے ھیں۔ جبکہ قوم کی اشرافیہ اور قوم کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگ اگر باھمی تعاون کرنا شروع کردیں تو لیڈرشپ پیدا کرنا ' حکومت حاصل کرنا اور حکمرانی کرنا آسان ھو جاتا ھے۔

پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک اشرافیہ اور قوم کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگوں کے باھمی تعاون کی وجہ سے پاکستان پر حکمرانی زیادہ تر ھندوستانی مھاجر اور پٹھان اشرافیہ نے اور ان کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگوں نے کی۔ سندھی اور پنجابی اشرافیہ نے بھی پاکستان پر حکمرانی کی لیکن بلوچ اشرافیہ کو صرف سندھی لیڈر بے نظیر بھٹو کی شھادت کی وجہ سے سندھیوں کی لیڈرشپ بلوچ زرداری کو مل جانے کی وجہ حکمرانی کا موقع ملا۔

اس وقت پٹھان اور ھندوستانی مھاجر اشرافیہ اور ان کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگوں کے پاس حکومت تو ھے لیکن وہ حکمرانی کر نہیں پا رھے۔ کیونکہ پٹھان اشرافیہ اور ان کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگوں کے پاس قومی لیڈرشپ نہیں ھے۔ جبکہ پرویز مشرف کی صورت میں ھندوستانی مھاجر اشرافیہ اور ان کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگوں کے پاس قومی لیڈرشپ تو ھے لیکن پرویز مشرف کو عدالت سے پھانسی کی سزا ھوچکی ھے۔

پٹھان اور ھندوستانی مھاجر اشرافیہ نے سازشیں کرکے نواز شریف کی صورت میں پنجابیوں کی قومی لیڈرشپ کو حکومت سے نکال کر حکومت بنا تو لی ھے۔ لیکن پنجابی لیڈرشپ اور اشرافیہ کے تعاون کے بغیر پاکستان پر حکمرانی اب ھو نہیں پانی۔

پنجابی لیڈرشپ اور اشرافیہ نے اب ھندوستانی مھاجر اور پٹھان اشرافیہ کو پاکستان پر حکمرانی نہیں کرنے دینی۔ جبکہ ھندوستانی مھاجر اور پٹھان اشرافیہ اور ان کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگوں کے لیے مستقبل قریب میں قومی لیڈرشپ پیدا کرپانے کے امکانات بھی نہیں ھیں۔

بلوچ اشرافیہ قومی لیڈرشپ نہ ھونے کی وجہ سے کبھی بھی پاکستان پر حکمرانی کے قابل نہیں رھی اور نہ بلوچ اشرافیہ کے مستقبل قریب میں قومی لیڈرشپ پیدا کرپانے کے امکانات ھیں۔ جبکہ بلوچ قوم کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگوں پر بلوچ اشرافیہ کی گرفت بہت مظبوط ھے۔ اس لیے بلوچ قوم کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگوں کے لیے قومی لیڈرشپ پیدا کر پانا ناممکن ھے۔

سندھی اشرافیہ بھی قومی لیڈرشپ نہ ھونے کی وجہ سے پاکستان پر حکمرانی کے قابل نہیں رھی اور نہ سندھی اشرافیہ کے مستقبل قریب میں قومی لیڈرشپ پیدا کرپانے کے امکانات ھیں۔ جبکہ سندھی قوم کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگوں پر سندھی اشرافیہ کی گرفت بہت مظبوط ھے۔ اس لیے سندھی قوم کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگوں کے لیے قومی لیڈرشپ پیدا کر پانا ناممکن ھے۔

پاکستان پر حکمرانی اب پنجابی اشرافیہ ھی کرے سکتی ھے۔ لیکن حکمرانی کرنے کے لیے پنجابی لیڈرشپ موجود نہیں ھے۔ کیونکہ نواز شریف کی صورت میں پنجابی لیڈرشپ کو عدالت نے سیاست کے لیے نا اھل قرار دیا ھوا ھے اور سزا بھی دی ھوئی ھے۔ اس لیے پنجابی اشرافیہ کو مستقبل قریب میں قومی لیڈرشپ پیدا کرنی پڑے گی ورنہ پاکستان میں پہلی بار پنجابی قوم کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کی پنجابی قوم پرست لیڈرشپ ابھر کر سامنے آسکتی ھے۔ کیونکہ پنجابی قوم کے درمیانے طبقے کے لوگوں میں پنجابی قوم پرستی کا سیاسی شعور پیدا ھونا شروع ھو چکا ھے۔

پنجابی قوم کی اشرافیہ اور پنجابی قوم کے سیاسی شعور والے درمیانے طبقے کے قوم پرست لوگ اگر باھمی تعاون کرنا شروع کردیں تو نہ صرف لیڈرشپ پیدا کرنا بلکہ حکومت حاصل کرنا اور حکمرانی کرنا بھی آسان ھو جائے گا۔